غلامی کا لاشعور: چترال میں نوآبادیاتی ذہنیت کی باقیات


چترال تاریخی طور پر ایک نیم خودمختار ریاستی نظم کے تحت رہا، جہاں ”مہتر“ کو مطلق اختیار حاصل تھا۔ اس خاندانی اقتدار نے مقامی لوگوں میں اطاعت اور غلامی کی نفسیات کو جنم دیا جو بعد ازاں برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زیرِ اثر مزید مستحکم ہو گئی۔ مابعد نوآبادیاتی محققین کے مطابق استعماری قوتیں صرف زمینوں پر نہیں بلکہ ذہنوں پر بھی قبضہ کرتی ہیں جس کی جھلک مختلف صورتوں میں نظر آتی ہے۔

مہترانِ چترال نے برطانوی سامراج سے وفاداری کے عوض اپنے اقتدار کو دوام بخشا، اور یوں مقامی آبادی دوہرے استحصال کا شکار بنی۔ ایک طرف مقامی حکمرانوں کا جبر، دوسری طرف سامراجی نظام کی فکری غلامی۔ جس طرح نوآبادیاتی دور میں خواتین کو بطور جنس اور بطور رعایا دوہرے جبر کا سامنا تھا، ویسے ہی چترالی عوام بھی طبقاتی و سامراجی چکی میں پسے۔ اس استحصالی تاریخ کے اثرات آج بھی معاشرتی رویّوں میں راسخ ہیں۔ انگریزی بولنے یا پتلون پہننے والوں کو ”اعلیٰ“ سمجھ کر جھک کر سلام کرنا صرف ظاہری تعظیم نہیں بلکہ ذہنی غلامی کی علامت ہے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جو غلامی کے صدیوں پر محیط تجربے سے جنم لیتی ہے۔

اس مضمون میں چند مثالوں سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ انگریزوں کے جانے اور مہتری دور کے خاتمے کے بعد بھی ہمارے لاشعور میں ان کی حکمرانی اور اپنی غلامی کی جھلک موجود ہے۔ یہ رجحان تعلیم یافتہ طبقے میں نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس کی کئی سماجی اور نفسیاتی وجوہ ہو سکتی ہیں، تاہم اس وقت زیرِ بحث وہ مخصوص رویّے ہیں جو ان اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔

سنہ 2022 میں ہندوکش کلچرل کانفرنس منعقد ہوئی جہاں بین الاقوامی اسکالرز نے بھی شرکت کی۔ مجھے بھی ایک سیشن کی نظامت کا موقع ملا۔ ایک انگریزی دان پروفیسر، جو خود کو ”اٹھارہ گریڈر“ کے لقب سے متعارف کراتے ہیں، اس بات پر خوش تھے کہ ان کے سیشن میں دو ”انگریز“ مقالہ نگار شامل ہیں۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ ان کا تعلق یورپ سے تھا۔ ان صاحب کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ہر یورپی باشندہ انگریز نہیں ہوتا۔ وہ انگریزی بول کر انہیں متاثر کرنا چاہتے تھے، حالانکہ خود ان مہمانوں کی انگریزی فصاحت محدود تھی۔

اسی موقع پر میں ایک صاحب سے نوآبادیاتی دور کے حوالے سے گفتگو کر رہا تھا۔ وہ انگریزوں کو مسیحا اور مقامی حکمرانوں کو جاہل کہہ رہے تھے۔ آسٹریلیا سے آئی ہوئی اسکالر، جیکلین ٹرائی، پاس سے گزری تو اس صاحب نے انہیں بھی انگریز سمجھ کر اپنی بات کی تصدیق کے لیے گفتگو میں شامل کیا۔ میری باتوں کو رد کرتے ہوئے کہا: ”یہ نوجوان انگریزوں کو ظالم کہتا ہے، جبکہ میری رائے میں انگریزوں نے ہمیں تعلیم اور تہذیب سے نوازا۔“ جیکلین نے دو ٹوک انداز میں کہا: ”اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی نادانی ہے۔“ انہوں نے چترالی ٹوپی اتار کر کہا: ”پورے مغرب کا تمدن ایک طرف، اور اس ٹوپی میں چھپی ثقافت اور تہذیب ایک طرف۔ مغرب کے پاس کوئی تہذیب نہیں، ان کے پاس جو ہے وہ دھوکہ، نوآبادیاتی ظلم اور بربریت کا نتیجہ ہے۔“

مقامی سطح پر تاریخ نویسی سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اگر انگریز نہ آتے تو چترال کی تاریخ کبھی نہ لکھی جاتی۔ یہ لوگ مقامی علماء اور مؤرخین کی کاوشوں کو کلی طور پر رد کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں بابا سیئر اور مرزا غفران کی علمی خدمات کی کوئی وقعت نہیں۔ یہ رویہ ہمارے اجتماعی نفسیاتی بحران کی علامت ہے۔ آزادی کے بعد سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم ذہنی طور پر اب تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آج بھی انگریز مورخ کو مقامی مورخ پر فوقیت دی جاتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ ہی ”unlearn“ کرنے کی ضرورت سے ناآشنا ہے۔ یہ طبقہ انگریزوں کو مسیحا اور مغرب کو علم و حکمت کا مرکز سمجھتا ہے، اور مسلم علمی میراث کو مسترد۔

ڈیورنڈ اور لاک ہارٹ کی یادداشتوں سے پتہ چلتا ہے کہ مہتر امان الملک اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کو خوش آمدید کہنے کے لیے دنین تک جاتے تھے۔ یہ سوچ ان کی نسلوں میں منتقل ہو کر آج بھی موجود ہے۔ آج بھی مہتر کی نسل کے اکثر افراد انگریزوں سے مرعوب ذہنیت کے ساتھ انہیں آقا ماننے میں پیش پیش نظر آتے ہی۔ تاہم، اسی شاخ سے تعلق رکھنے والے مسعود الملک صاحب (سابق سربراہ AKRSP) بیرونی ڈونرز کے استقبال کے لئے ہوائی اڈہ جانے کی بجائے ان کو اپنے دفتر میں ہی خوش آمدید کہتے تھے۔ خود داری کا یہی رویہ محی الدین صاحب میں بھی موجود تھا۔ بعض اسے تکبر سمجھتے ہیں، تاہم میرے نزدیک یہ خودداری کی روشن مثال ہے

حالیہ پولو ٹورنامنٹ میں غیر ملکی سیاحوں سے کسی آسمانی مخلوق کی طرح برتاؤ کیا گیا۔ وہ خود اس طرزِ عمل پر حیران اور پریشان تھے۔ ان کے عمومی رویے، جیسے ایوارڈ دینے کے آداب سے ناآشنائی، ان کی ناتجربہ کاری کو ظاہر کرتے تھے، جو کہ ہماری احساس کمتری کی عملی تصویر تھی۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر اور دوسرے افسران کے آنے پر ان کو ہار پہنانا اور تبادلے پر قصیدے پڑھنا عوام کی غلامانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کی ایک جھلک 30 جون کو ڈپٹی کمشنر کے تبادلے کے موقع پر دیکھنے کو ملا۔

یہ تمام مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ استعمار اور مہتری دور کے خاتمے کے باوجود اس کی باقیات ہمارے لاشعور اور رویّوں میں زندہ ہیں۔ فکری خودمختاری کے بغیر آزادی محض ایک سطحی حقیقت ہے۔ چترالی معاشرے کو اس ذہنی غلامی سے نجات دلانے کے لیے ایک فکری انقلاب کی ضرورت ہے، جو مقامی تاریخ، ثقافت اور علمی ورثے کو نوآبادیاتی بیانیے سے آزاد کرے، اور ایک نئی، خود اعتماد اجتماعی شناخت کی بنیاد رکھے۔ اس عمل میں دانشوروں، محققین اور تعلیمی اداروں کو کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔ فکری نوآبادیات کے خاتمے کے بغیر نہ تہذیب کی بازیافت ممکن ہے، نہ علمی وقار کی بحالی۔ نئی نسل کو اپنے فکری سرمایہ سے جوڑنا ہی اصل آزادی کی ضمانت ہے۔

Facebook Comments HS