اقلیتوں کا انتخابی حق اور حکومتی چال


پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے جہاں آئین تمام شہریوں کو برابری کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے، بشمول مذہبی اقلیتوں کے۔ تاہم، 2002 میں اُس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف نے ایک صدارتی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اقلیتوں کے لیے ریزرو نشستوں پر سلیکشن سسٹم (Selection System) نافذ کیا۔ اس کے مطابق، اقلیتی نشستوں پر براہِ راست عوامی ووٹنگ کے بجائے سیاسی جماعتوں کے ذریعے سلیکشن کا نظام متعارف کروایا گیا۔ اس عمل کو اس وقت قومی دھارے میں اقلیتوں کو شامل کرنے کے لیے ایک ”مثبت قدم“ قرار دیا گیا، لیکن 22 سال بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ نظام نہ صرف ناکام ہو چکا ہے بلکہ اقلیتوں کی آواز کو دبا دینے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

2002 کا ایگزیکٹو آرڈر: پس منظر اور مواد

مارچ 2002 میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے آئینی ترامیم کے بغیر ایک صدارتی ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس کے تحت اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر براہ راست الیکشن ختم کر کے انہیں سیاسی جماعتوں کے کوٹے پر منحصر کر دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اقلیتی امیدوار اب عوام کے ووٹ سے منتخب نہیں ہوتے بلکہ پارلیمانی جماعتیں انہیں اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کی بنیاد پر نامزد کرتی ہیں۔

یہ نظام کیوں ناکام ہوا؟

نمائندگی کا فقدان: اقلیتی عوام اپنے نمائندوں کا چناؤ خود نہیں کرتے، نتیجتاً نامزد اقلیتی نمائندے عام طور پر عوامی مسائل سے لاتعلق اور غیر جواب دہ ہوتے ہیں۔

سیاسی غلامی: اقلیتی نمائندے سیاسی جماعتوں کے احکامات کے پابند ہوتے ہیں، جس سے ان کی خودمختاری ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنی کمیونٹی کے لیے کھل کر آواز نہیں اٹھا سکتے۔

بدعنوانی اور اقربا پروری: سلیکشن سسٹم کے ذریعے ذاتی تعلقات، وفاداری یا مالی مفادات کی بنیاد پر اقلیتی نمائندے منتخب کیے جاتے ہیں، جس سے اقلیتی برادری میں بددلی، بداعتمادی اور نا انصافی نے جنم لیا ہے۔

اقلیتوں کی تنزلی: اس نظام نے اقلیتوں کو سیاسی عمل سے دور کر دیا ہے، ان کی شناخت، مسائل اور حقوق پارلیمنٹ میں ثانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

آئین پاکستان اور اقلیتی حقوق

آئین پاکستان 1973 کا آرٹیکل 226 کہتا ہے کہ:
”تمام انتخابات، سوائے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے، براہ راست اور خفیہ ووٹ کے ذریعے ہوں گے۔“

سپریم کورٹ میں 2017 کے صدارتی ریفرنس کی بحث مندرجہ ذیل ہے۔

آئین پاکستان (آرٹیکل 59 ( 1 ) ، 59 ( 2 ) ، 186، اور 226 ) اور الیکشنز ایکٹ، 2017 کے سیکشن 122 ( 6 ) کے حوالے سے : صدر نے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس جمع کرایا تاکہ پوچھا جا سکے کہ کیا صرف آرٹیکل 2 کے انتخابات کے انعقاد کے لیے ”خفیہ رائے شماری“ کی ضرورت ہے؟ آئین کے ”کے تحت“ (جیسے صدر، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر، سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب، اور صوبائی اسمبلیوں میں اسی طرح کے عہدے ) ، یا اگر اس کا اطلاق دیگر انتخابات پر بھی ہوتا ہے جیسے کہ سینیٹ کے اراکین کے لیے الیکشنز ایکٹ، 2017 کے تحت، جو خفیہ یا کھلے عام ایکٹ کے تحت منعقد ہوسکتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ کیا ریفرنس میں سوال سیاسی نوعیت کا ہے اور اس طرح برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ سوال آرٹیکل 226 کی تشریح کا متقاضی ہے اور اس طرح یہ واضح طور پر اعلیٰ عدالتوں کے خصوصی دائرہ کار میں آتا ہے، خاص طور پر سپریم کورٹ، جو آئینی دفعات کی تشریح کے لیے ذمہ دار ہے۔ لہٰذا، ریفرنس کو آرٹیکل 186 کے تحت قابل غور سمجھا گیا۔ سابقہ ​​کیس کے قانون کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ قانون اور عوامی اہمیت کے مختلف سوالات کو رائے کے لیے عدالت کو بھیجا گیا تھا، اور عدالت نے تاریخی طور پر اپنا نظریہ دیا ہے جب تک کہ سوال غور کے لیے پیش کیے گئے حقائق پر مبنی رائے کی اجازت نہیں دیتا۔ خالصتاً سیاسی سوالات جیسے خارجہ پالیسی، قومی دفاع، مالیاتی پالیسی، آئینی ترامیم، یا حکومتوں کو منظم کرنا منتخب نمائندوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے، سوائے اس کے کہ جب سپریم کورٹ کی نظیریں دوسری صورت میں حکم دیں۔

‏ (b) انہی آئینی دفعات اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 81 اور 122 ( 6 ) کا ذکر کرتے ہوئے، ریفرنس میں وضاحت طلب کی گئی کہ آیا سینیٹ انتخابات کے لیے بیلٹ کی رازداری لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات آئینی انتخابات ہیں اور خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونے چاہئیں۔ تاہم، بیلٹ کی رازداری مطلق نہیں ہے اور انتخابات کے انعقاد میں شامل عملی ضروریات کے ذریعے اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

‏ (c) آئین کی تشریح پر : آئین کو ایک مربوط کلی کے طور پر سمجھا جانا چاہیے، اور کسی بھی آرٹیکل یا شق کی الگ تھلگ تشریح نہیں کی جانی چاہیے۔ الگ تھلگ ریڈنگز گمراہ کر سکتی ہیں، کیونکہ معنی کو آئین سے ایک مکمل دستاویز کے طور پر اکٹھا کیا جانا چاہیے، میکانکی کٹوتیوں سے نہیں بلکہ معقول تفہیم کے ذریعے۔

‏ (d) آئین کی تشریح کے لیے ایک اور قائم کردہ قاعدہ یہ ہے کہ بعض الفاظ کو ان کے مخصوص آئینی سیاق و سباق کے مطابق اپنے معنی محدود رکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ آئین میں کسی اور جگہ مختلف اصطلاحات کے استعمال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی بھی شرائط کے درمیان براہ راست تعلق کے بغیر مختلف معنی تفویض کر سکتا ہے۔ مخصوص دفعات کی ان کے سادہ معنی کے مطابق تشریح کی جانی چاہیے جب تک کہ سیاق و سباق دوسری صورت میں حکم نہ دے۔

اس کے مطابق، اقلیتی نشستوں پر سلیکشن سسٹم آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔ اقلیتوں کو بھی وہی حق حاصل ہونا چاہیے جو باقی پاکستانی عوام کو حاصل ہے : براہ راست ووٹ کا حق۔

کیا اقلیتوں کو ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے چننے کا حق ہونا چاہیے؟

بے شک، اقلیتوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے۔ وجوہات درج ذیل ہیں :
جمہوری شمولیت: اقلیتوں کو اپنے نمائندے خود چننے سے وہ جمہوری نظام کا حقیقی حصہ بنیں گے۔
جوابدہی: براہ راست منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں گے، جس سے ان کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
اعتماد کی بحالی: اقلیتوں میں سیاسی نظام پر اعتماد بڑھے گا، جو قومی اتحاد و یگانگت کے لیے ضروری ہے۔

قانونی اور آئینی مطابقت: ایسا نظام آئینِ پاکستان کی روح اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو گا۔

سفارشات:

2002 کے ایگزیکٹو آرڈر کو کالعدم قرار دیا جائے۔
اقلیتی نشستوں پر براہ راست انتخابات کو بحال کیا جائے۔
آئینی ترامیم کے ذریعے اقلیتوں کو مساوی انتخابی حقوق دیے جائیں۔
پارلیمان اور عدلیہ اس مسئلے پر ازخود نوٹس لیں اور اصلاحات کی راہ ہموار کریں۔

2002 کا صدارتی ایگزیکٹو آرڈر اقلیتوں کو قومی دھارے میں لانے کے بجائے انہیں ایک ایسی سیاسی غلامی میں دھکیل چکا ہے جہاں ان کی آواز اور نمائندگی محض علامتی بن کر رہ گئی ہے۔ اس نظام نے نہ صرف اقلیتوں کے آئینی اور انسانی حقوق کو سلب کیا ہے بلکہ جمہوری اصولوں کی بھی نفی کی ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اقلیتوں کو براہ راست ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے، تاکہ وہ حقیقی معنوں میں قومی سیاسی عمل کا حصہ بن سکیں، اور پاکستان کو ایک مضبوط، شفاف اور سب کے لیے برابر جمہوری ریاست بنایا جا سکے۔

Facebook Comments HS