آپریشن سیندور سے تندور تک


مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے حسب عادت اس کا الزام پاکستان کے سر تھوپتے ہوئے پاکستان کی سرزمین پر حملے کیے جسے آپریشن سیندور کا نام دیا حال ہی میں آپریشن سیندورکے سو سے زائد ہلاک شدگان کو اعزازات دینے کا سرکاری اعلان ایک ایسا دلچسپ موڑ ہے جو اپنے اندر بے شمار تضادات سموئے ہوئے ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے بلا جواز پاکستان کو دہشت گردوں کا مسکن قرار دے کر حملہ کیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے دفاعی کارروائی میں منہ کی کھانے کے بعد بھی کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان سے یکسر انکار کر دیا تھا۔ پھر پاکستان نے بنیان مرصوص کے تحت اسے بروقت اور پر اثر جواب دیا تب بھی اپنے نقصانات کو چھپانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی مگر اب جبکہ اعزازات تقسیم کرنے کا وقت آیا ہے تو دفاعی محکمے کے ریکارڈ میں اچانک سے ”ہلاک ہونے والے سو سے زائد فوجی اہلکار نمودار ہو گئے ہیں، جن میں رافیل طیاروں کے تین پائلٹ بھی شامل ہیں۔ کیا یہ وہی پائلٹ ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ واپس پہنچ گئے ہیں؟ یا یہ وہی رافیل ہیں جو پاکستان کے بہادر شاہینوں نے ڈھیر کر دیے تھے یا پھر یہ اعزازات درحقیقت ان سوالات کا جواب ہیں جو عوامی سطح پر اٹھائے جا رہے تھے؟

ہندوستان کے گودی میڈیا اور حکمرانوں نے مریدکے، بہاولپور اور کشمیر میں مساجد اور گھروں پر کیے گئے بلاجواز حملے کو ایک ”شاندار فتح“ کے طور پر پیش کیا تھا، عورتوں اور بچوں کی لاشوں پر خوشی کے شادیانے بجائے تھے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ اگر واقعی یہ فتح تھی تو پھر ہندوستان کے اس قدر جانی نقصانات کیوں ہوئے؟ اور اگر نقصانات ہوئے ہی نہیں تھے تو پھر یہ اعزازات کس لیے؟ شاید یہ وہ ”اخلاقی فتح“ ہے جس میں اپنے ہی جوانوں کی لاشیں گن کر انہیں ”قومی ہیرو“ کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ کیا یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ہار اور جیت کا فیصلہ محض پروپیگنڈے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے؟

رافیل طیاروں کے پائلٹوں کو اعزازات دینے کا فیصلہ بھی اپنے آپ میں ایک طنز ہے۔ کیا یہ وہی ہوائی جہاز ہیں جن کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کیے گئے تھے اور جنہیں ”دشمن کے لیے خوفناک خطرہ“ قرار دیا گیا تھا؟ جن کے گرنے سے یکسر انکار کر دیا گیا تھا۔ اگر یہ طیارے اور ان کے پائلٹ اتنے ہی موثر تھے تو پھر انہیں کس چیز نے ناکام بنا دیا؟ کیا یہ کسی جادو منتر سے بٹھنڈا، کشمیر اور دیگر مقامات پر جا گرے؟ کیا یہ اعزازات دراصل اس تلخ حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہیں کہ ہندوستان کی دفاعی پالیسیاں محض ”دکھاوے“ تک محدود ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ جنگیں نہ تو ٹی وی اسٹوڈیوز میں جیتی جاتی ہیں اور نہ ہی اخباری بیانات سے۔ جھوٹ کی بنیاد پر اپنے غلط فیصلوں پر جان سے جانے والے جوانوں کو سیاست کا حصہ بنانا ان کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ مگر یہی مودی کا طرز سیاست ہے۔ اگر واقعی ہندوستانی حکومت کو اپنے فوجیوں کی پرواہ ہے تو اسے ان کے خاندانوں کی مدد کرنی چاہیے، نہ کہ ان کے تابوتوں اور ان کی چتا کو ”ووٹ بینک“ میں تبدیل کر دیا جائے۔ مگر لگتا یہی ہے کہ بلا جواز بھڑکائی گئی آگ میں بھسم ہونے والوں کی موت بھی ایک ”سیاسی ہتھکنڈے“ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔

آخر میں، یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا آپریشن سیندور واقعی ایک ”عسکری کامیابی“ تھی یا محض ایک پراپیگنڈا ایکسرسائز جس کا مقصد عوامی توجہ کو کسی اور سمت میں موڑنا تھا؟ اپنے ہی فوجیوں کی لاشیں گرا کر ہمدردی کے ووٹ سمیٹنا تھا اور کیا یہ اعزازات ایک خود ساختہ فتح کا جشن منانے کا ذریعہ ہیں؟ جب تک ان سوالوں کے جوابات نہیں ملتے، تب تک یہ سارا معاملہ یک طرفہ ”طنزیہ تماشا“ ہی رہے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “آپریشن سیندور سے تندور تک

  • 09/07/2025 at 10:50 شام
    Permalink

    دوران جنگ جو کچھ کہانیاں دونوں اطراف سے بیان کی جاتی ہیں ان میں سب کچھ جائز ہوتا ہے کیوں کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔
    میں ایک سچا پاکستانی ہوں لیکن اب چوں کہ جنگ ختم ہوچکی اس لئے جھوٹ کی گنجائش نہیں۔
    یہ خبرکہ ہندوستان نے سو سے زائد لوگوں کی موت کا اقرار کرلیا جس میں 3 رفال کے پائلٹ بھی شامل ہیں یہ خبر ہمارے کسی ادارے کی پیشکش ہے اب تک نہ تو اس کی کسی بھی انڈین میڈیا سے تصدیق ہوئی ہے نہ ان کے کسی بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے۔ ہمارے جتنے اخبارات میں یہ خبر چھپی ان سب کا متن ایک جیسا ہی ہے یعنی یہ خبر ان کو تھالی میں رکھ کر پیش کی گئی ہے۔ اس لئے تصدیق کا انتظار کریں۔
    ویسے بھی یہ خبر اگر وہاں سے کسی ذریعہ سے حاصل ہوئی تھی تب بھی اس طرح پھیلانے کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ بیک فائر کرسکتی ہے اور فی الوقت یہ بیک فائر ہی ہے۔

Comments are closed.