پاکستان میں دوہرا تعلیمی نظام: نوجوان نسل کے نفسیاتی مسائل


afshan saher

پاکستان میں تعلیمی نظام کئی دہائیوں سے تنقید کی زد میں ہے، مگر سب سے زیادہ سنگین اور پیچیدہ مسئلہ جس نے ملک کے تعلیمی ڈھانچے کو غیر متوازن اور نوجوان ذہنوں کو بے یقینی کا شکار بنایا ہے، وہ ہے ”دوہرا تعلیمی نظام“ ۔ ایک طرف سرکاری اسکولوں اور مدرسوں کا نظام ہے جو محدود وسائل، فرسودہ نصاب اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے رحم و کرم پر ہے، تو دوسری جانب نجی تعلیمی ادارے اور بین الاقوامی معیار کی اسکولنگ ہے جو مہنگی، مراعات یافتہ اور اشرافیہ تک محدود ہے۔ ان دونوں کے بیچ نوجوان نسل ذہنی کشمکش، احساسِ کمتری، اور شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔

تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر، فکر کی بالیدگی اور معاشرتی ہم آہنگی کا ذریعہ ہے۔ مگر جب ایک ہی ملک میں دو، بلکہ تین مختلف تعلیمی دھارے چل رہے ہوں، تو نہ صرف تعلیمی معیار متضاد ہو جاتا ہے بلکہ سماجی تفاوت بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ تفاوت صرف معاشی یا لسانی نہیں، بلکہ نفسیاتی سطح پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، جن کا شکار زیادہ تر نوجوان اور طلبہ بنتے ہیں۔

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان میں تعلیمی نظام بنیادی طور پر تین حصوں میں بٹا ہوا ہے : سرکاری تعلیمی ادارے، نجی اسکولز، اور دینی مدارس۔ ہر نظام کا اپنا نصاب، اپنی زبانِ تدریس، اور اپنی معاشرتی حیثیت ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اردو یا علاقائی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے، جن میں اکثر بنیادی سہولیات کی کمی، تدریسی عملے کی نا اہلی، اور جدید تدریسی تکنیکوں کی عدم موجودگی شامل ہیں۔ دوسری جانب نجی تعلیمی ادارے، خاص طور پر انگلش میڈیم اسکول، جدید نصاب، بین الاقوامی زبان، اور سمارٹ کلاس رومز سے لیس ہیں۔ تیسری سطح پر مدارس کا نظام ہے، جو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جزوی عصری تعلیم بھی فراہم کرتا ہے۔

اس تقسیم نے نہ صرف تعلیمی مساوات کو ختم کیا ہے بلکہ معاشرے میں طبقاتی تفریق کو مزید بڑھا دیا ہے۔ نوجوان ان مختلف نظاموں سے ہو کر جب معاشرے میں آتے ہیں تو ان کے خیالات، زبان، اظہار، اور فکری ساخت اتنی مختلف ہوتی ہے کہ باہمی ہم آہنگی پیدا کرنا ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ یہی تنوع آگے جا کر تعصبات، احساسِ محرومی، اور ذہنی خلفشار کو جنم دیتا ہے۔

دوہرے نظامِ تعلیم کی سب سے زیادہ تکلیف دہ قیمت ہماری نوجوان نسل اپنے نفسیاتی سکون کی صورت میں چکا رہی ہے۔ ایک غریب طالبعلم جو سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کر رہا ہے، جب اپنے امیر ہم عمر کو انگریزی بولتے، جدید ٹیکنالوجی سے واقف اور مہنگی یونیفارم میں دیکھتا ہے تو اس کے اندر احساسِ کمتری جڑ پکڑنے لگتا ہے۔ وہ اپنی تعلیمی شناخت پر شرمندگی محسوس کرتا ہے، اور اکثر خود کو معاشرتی دوڑ سے باہر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی کیفیت اس کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے، جس کا اثر اس کی تعلیمی کارکردگی، شخصیت اور مستقبل کے انتخاب پر بھی پڑتا ہے۔

دوسری طرف نجی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بھی ایک الگ دباؤ کا شکار ہیں۔ ان پر والدین اور معاشرے کی طرف سے کامیابی، مقابلہ بازی، اور کیریئر میں تیزی سے آگے بڑھنے کا غیر معمولی دباؤ ہوتا ہے۔ ہر وقت کامیاب بننے کی دوڑ نے ان کے اندر اضطراب، بے چینی، نیند کی کمی، اور یہاں تک کہ ڈپریشن کو جنم دیا ہے۔ مقابلے کے اس ماحول نے انہیں ایک مشینی انسان بنا دیا ہے، جو صرف نمبروں، گریڈز اور سی وی کی زینت کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔

دینی مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کا مسئلہ ایک اور رخ اختیار کرتا ہے۔ وہ جب معاشی یا تعلیمی میدان میں کسی جامع شناخت یا روزگار کے قابل نہ بن سکیں تو احساسِ بیگانگی اور ردعمل میں شدت پسندی یا مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی تعلیمی شناخت کو معاشرے میں ناقابلِ قبول محسوس کرتے ہیں، اور یہی تنہائی ان کی فکری ساخت کو منفی رخ دے سکتی ہے۔

ان تمام مسائل کی جڑ تعلیمی نظام کی غیر مساوی تقسیم ہے، جو کہ ایک مشترکہ قومی شناخت پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر تمام طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع، زبان، نصاب اور مہارتیں مہیا کی جاتیں تو یہ نفسیاتی مسائل اس شدت سے جنم نہ لیتے۔

حل کی طرف پیش قدمی کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی پالیسی ساز ادارے دوہرے نظام کو ختم کر کے ایک مربوط اور قومی یکجہتی پر مبنی نظامِ تعلیم مرتب کریں۔ تمام اداروں میں زبانِ تدریس، نصاب، اساتذہ کی تربیت، اور وسائل کی فراہمی میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ تعلیم کو طبقاتی یا تجارتی میدان کی بجائے فکری آزادی، شخصی نمو، اور معاشرتی اتحاد کا ذریعہ بنایا جائے۔

اسی کے ساتھ ساتھ، ہر سطح کے طلبہ کے لیے نفسیاتی مشاورت، ذہنی صحت کی سہولیات، اور انفرادی صلاحیتوں کے فروغ کے مواقع مہیا کیے جائیں۔ طلبہ کو صرف کتابی علم نہیں، بلکہ خود اعتمادی، مواصلاتی مہارت، اور سماجی شعور دیا جائے، تاکہ وہ اپنی تعلیمی پس منظر سے قطع نظر، معاشرے میں باوقار طریقے سے جینے کے قابل ہو سکیں۔

آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جب تک ہم اپنے تعلیمی نظام کی طبقاتی تقسیم ختم نہیں کرتے، ہم ایک مربوط، پُرامن، اور خود اعتماد معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ نوجوان نسل ہمارے مستقبل کی امید ہے، اور اگر ان کے ذہنوں میں مسلسل کشمکش، احساسِ کمتری، اور فکری الجھنیں رہیں تو وہ ترقی یافتہ قوم کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ کر سکیں گے۔

Facebook Comments HS