برکس کا کردار اور مستقبل

6 جولائی کو سترہویں برکس سربراہی اجلاس کا ریو اعلامیہ جاری ہوا، جس کا موضوع تھا ”گلوبل ساؤتھ تعاون کو مضبوط بنانا اور مزید جامع اور پائیدار عالمی حکمرانی کو فروغ دینا“ ۔ یہ اجلاس برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو میں ہوا۔
اعلامیے میں اس بات کا اعلان کیا گیا کہ برکس ممالک توسیع شدہ برکس میکنزم کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے اور سیاست و سلامتی، معیشت و مالیات اور ثقافت و انسانیت کے تین ستونوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا کہ برکس ممالک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے تمام یک طرفہ جبر کے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اور کسی بھی طرح کی یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں جن کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اجازت نہیں دی گئی۔ اعلامیہ میں جہاں برکس میں توسیع کی ضرورت پر زور دیا گیا وہیں مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، سائنسی اور تکنیکی اختراعی تعاون، عالمی صحت کے شعبے میں تعاون، توانائی کی تبدیلی، ثقافتی تبادلے، اور خلاء کے پرامن استعمال جیسے معاملات پر برکس ممالک کے متفقہ موقف کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔
برکس کی تشکیل 2009 میں ہوئی، جس میں ابتدائی طور پر برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل تھے۔ یہ گروپ ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی اور سیاسی تعاون کو فروغ دینے کے لیے معرض وجود میں آیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد عالمی معاشی نظام میں مغربی ممالک کی بالادستی کو متوازن کرنا اور ترقی پذیر دنیا کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں برکس نے نہ صرف اقتصادی شعبے میں بلکہ سیاسی اور ثقافتی میدانوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
برکس کے قیام کے بعد سے اس کے رکن ممالک نے اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے نیو ڈویلپمنٹ بینک کا قیام ایک اہم قدم تھا، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل مہیا کرنا تھا۔ اس کے علاوہ، برکس نے اپنی کرنسیوں میں تجارت کو بڑھانے کے لیے بھی کوششیں کی ہیں تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے۔ یہ اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہیں۔
سیاسی سطح پر برکس نے کثیر الجہتی نظام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ گروپ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر ترقی پذیر ممالک کے موقف کو مضبوطی سے پیش کرتا ہے۔ خاص طور پر چین اور روس کی قیادت میں برکس نے مغربی ممالک کی جانب سے یک طرفہ پابندیوں اور دباؤ کے خلاف ایک متبادل پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ مثال کے طور پر روس پر مغربی پابندیوں کے بعد برکس کے دیگر اراکین نے اس کے ساتھ اقتصادی تعاون کو جاری رکھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروپ اپنے اراکین کے مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
سترہویں برکس سربراہ اجلاس میں چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے کہا کہ اس وقت دنیا صدی کی تیز تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور نظم و نسق کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ وسیع مشاورت، مشترکہ تعمیر اور اشتراک پر مبنی عالمی حکمرانی کے تصور نے اس کی قدر اور عملی اہمیت مزید واضح کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برکس ممالک کو گلوبل ساؤتھ کے ”صف اول“ دستے کی حیثیت سے خودمختاری کی پاسداری کرتے ہوئے ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اتفاق رائے پیدا کرنے اور یکجہتی حاصل کرنے میں مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا کہ 2024 میں روس اور دیگر برکس ممالک کے درمیان سیٹلمنٹ میں روبل اور ’دوست ممالک‘ کی کرنسیوں کا تناسب 90 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ رکن ممالک کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری کے پیمانے کو بڑھایا جائے اور ایک نیا برکس سرمایہ کاری پلیٹ فارم قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ پیوٹن نے برکس کے فریم ورک کے اندر کاربن مارکیٹ پارٹنرشپ، ثالثی سرمایہ کاری مرکز، منصفانہ مسابقت کا پلیٹ فارم اور مستقل ٹیکس سیکریٹریٹ کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برازیل کے صدر لوئزانا سیولولا ڈسیلوا نے نشاندہی کی کہ دنیا کو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے غیر معمولی تنازعات کی صورتحال کا سامنا ہے اور نیٹو کے رکن ممالک کے رہنماؤں نے 2035 تک سالانہ دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے عالمی اسلحے کی دوڑ میں شدت آئے گی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ اگر بین الاقوامی حکمرانی کی موجودہ صورتحال اکیسویں صدی میں عالمی کثیر الجہتی کے نئے حالات کی عکاسی نہیں کرتی تو برکس تنظیم کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی حکمرانی کی تجدید اور اپ گریڈیشن کو فروغ دے۔
اقتصادی لحاظ سے برکس کے رکن ممالک دنیا کی کل جی ڈی پی کا تقریباً 30 فیصد حصہ رکھتے ہیں، اور ان کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا 40 فیصد سے زیادہ ہے۔ اگر یہ گروپ اپنی اقتصادی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ عالمی معیشت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر برکس اپنی مشترکہ کرنسی متعارف کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کر سکتا ہے، جو عالمی مالیاتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی ہو گی۔
برکس کے بارے میں ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ یہ تنظیم امریکہ مخالف ہے اسی لئے اس کی کسی بھی حکمت عملی کو اس تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برکس کے حالیہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی جو ان کے مطابق کسی بھی طرح امریکہ مخالف اتحاد میں شامل ہوں گے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی برکس ممالک کی جانب سے ان کے اس بیان پر تا حال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ اگر برکس ممالک کا اتحاد مختلف معاشی نظاموں اور اتحادوں میں شمولیت کے با وجود بھی اس انداز میں کامیاب ہو جاتا ہے جیسی گلوبل ساؤتھ ممالک کی خواہش ہے تو یہ امریکہ کے لئے فکر کا باعث ہو گا۔
گزشتہ سالوں میں متعدد ممالک نے اس گروپ میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برکس کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ اس توسیع سے نہ صرف گروپ کی اقتصادی طاقت میں اضافہ ہو گا بلکہ اس کا سیاسی وزن بھی بڑھے گا۔ برکس نے اپنے قیام کے بعد سے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا ہے۔ اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی شعبوں میں اس کے اقدامات نے اسے عالمی سطح پر ایک اہم کردار بنا دیا ہے۔ اگرچہ کچھ چیلنجز درپیش ہیں، لیکن گروپ کی مسلسل توسیع اور اراکین کے درمیان تعاون میں اضافہ اس کے مستقبل کو روشن بنا رہا ہے۔ آنے والے سالوں میں برکس عالمی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے رکن ممالک مشترکہ مفادات پر متحد رہیں۔

