کیا خوب دن تھے جوانی کے


1981 کے شروع میں ہی میجر صاحب صرف 36 سال کی عمر میں فوج کو خیر باد کہہ کر گھر آ گئے تھے۔ بوریوالا میں ہمارا ایک مکان موجود تھا جو کہ کرائے پر دیا ہوا تھا۔ اس کو خالی کروا کر اس کی مرمت اور حسبِ ضرورت چھوٹی موٹی تبدیلیوں کا کام شروع کروا دیا گیا۔ اس دوران میجر صاحب اپنے اہل و عیال سمیت ہمارے ساتھ گاؤں میں ہی مقیم رہے۔ ایک ویک اینڈ پر جب میں گھر آیا ہوا تھا تو انہوں نے میرے ساتھ ملتان جا کر کچھ میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کر لیا۔

وہاں سے فارغ ہوتے ہوئے ایک ڈیڑھ کا وقت ہو چکا تھا۔ ہسپتال سے نکل کر جب ہم گاڑی میں بیٹھے تو مجھ سے دریافت کیا کہ تمہاری ٹرانسفر کون کرتا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہاں گلگشت میں ہمارا ڈائریکٹوریٹ واقع ہے اور ہمارے تبادلہ جات کے احکامات وہیں سے ہی ڈائریکٹر تعلیم جا ری کرتا ہے۔ کہنے لگے کہ، چلو تمہارے ڈائریکٹر سے بھی ملتے چلیں۔

جب ہم ڈائریکٹوریٹ کی عمارت میں داخل ہو رہے تھے تو وہاں سے میاں شریف اپنی بوسیدہ سی بائیسکل ہاتھ میں پکڑے ہوئے دفتر سے باہر نکل رہے تھے۔ میاں صاحب بھی اپنے مزاج کے عجیب شخص ہوا کرتے تھے۔ انتہائی ایمان دار، محنتی اور مخلص تھے۔ اُن کے پاس ایک مشہور ِ زمانہ کہنہ سی سائیکل ہوا کرتی تھی۔ جس پر وہ دفتر سے گھر آیا جایا کرتے تھے۔ میں نے میجر صاحب کو بتایا کہ یہ ہمارے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں اور ہمارے تبادلے کا اختیار بھی انہی کو حاصل ہے۔

انہوں نے بڑی آہستگی سے میاں صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور انہیں کہا کہ دو منٹ کے لیے اپنے دفتر واپس آ کر ذرا میری بات سن لیں۔ میاں صاحب نے بغور اُن کی طرف دیکھا۔ کچھ دیر خاموشی سے کھڑے ہمیں گھورتے رہے پھر اپنی سائیکل چپڑاسی کے حوالے کر کے ہمیں ساتھ لیے اپنے دفتر میں آ کر بیٹھ گئے۔ میجر صاحب نے اُن کے گوش گزار کیا کہ وہ ریٹائرڈ آرمی افسر ہیں اور عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔ اب وہ اپنی رہائش بوریوالا میں رکھیں گے اور اپنی صحت کی صورتِ حال کے پیشِ نظر اُن کی خواہش ہے بلکہ ضرورت بھی ہے کہ میں وہاں پر مستقلاً اُن کے ساتھ رہوں اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب میرا تبادلہ بوریوالا میں ہو جائے۔

میاں شریف نے بڑے تحمل سے اُن کی بات سنی اور بولے کہ ایم سی ہائی سکول بورے والا میں ایک سیٹ خالی تو ہے لیکن وہاں کے ہیڈماسٹر ایم سی کیڈر کے علاوہ کسی دوسرے کیڈر کے ٹیچر کو جائن نہیں کریں گے۔ اس لیے وہاں پر تمہارے لیے مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ میں دیکھتا ہوں اگر قریبی کسی مڈل سکول میں سیٹ خالی ہے تو وہاں پر بھجوا دیتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے متعلقہ کلرک کو بلوایا اور بوریوالا سے پندرہ سولہ کلومیٹر اور ہمارے گاؤں سے صرف دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مڈل سکول چک نمبر 315 ای بی میں میرا تبادلہ کر دیا۔ اس سکول کو اسی سال پرائمری سے اپ گریڈ کر کے مڈل کا درجہ دیا جا رہا تھا اور اس کا باقاعدہ آغاز 16 اپریل کو ہونے جا رہا تھا۔ جب کہ اس وقت جنوری کا مہینہ تھا اور میں نے وہاں پر 16 اپریل کو ہی جائن کرنا تھا۔

اُن دنوں ہائی سکولوں میں سائنس ٹیچرز کی کمی کے پیشِ نظر انہیں مڈل سکولوں میں نہیں بھیجا جاتا تھا۔ میں نے میاں صاحب سے اس بارے میں تذکرہ بھی کیا تو بولے، کہ جاؤ وہاں پر ہیڈ ماسٹری کرو۔ میرے ہوتے ہوئے تمہیں وہاں کوئی نہیں پوچھے گا۔ واپسی پر ٹرانسفر آرڈر میری جیب میں تھے۔ یہی میاں صاحب میں خوبی تھی کہ کام کرتے وقت دفتری طریق کار اور محکمانہ موشگافیوں کو پس پشت ڈال دیا کرتے تھے۔

قصہ مختصر یہ کہ 16 اپریل کو میں چک نمبر 315 ای بی میں بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا پرائمری سکول تھا جس میں صرف دو ٹیچرز ہی تعینات تھے۔ ایک تو ہمارے اپنے گاؤں کے کریم اللہ صاحب تھے اور دوسرے اسی گاؤں سے تعلق رکھنے والے فرزند صاحب تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ آج سے اس پرائمری سکول کو اپ گریڈ کر کے مڈل سکول کا درجہ دیا جاتا ہے اور میں اس سکول کا پہلا ہیڈماسٹر ہوں۔ مجھ سے پہلے اسی گاؤں کے ایک رہائشی رفیق کاہلوں بھی یہاں موجود تھے جو کسی اور سکول سے تبدیل ہو کر آج میرے ساتھ ہی یہاں پر تشریف لائے تھے۔

تھوڑی دیر کے بعد ماسٹر عبدالستار صاحب بھی یہاں پہنچ گئے جو قریبی گاؤں 309 ای بی کے رہائشی تھے اور ہمارے رشتے دار بھی تھے۔ یہ بہت تجربہ کار اُستاد تھے اور ہمارے گاؤں کے قریب ہی واقع مڈل سکول چک نمبر 331 ای بی ٹوپیاں والا میں کافی عرصہ تک ہیڈ ماسٹر کی خدمات انجام دے چکے تھے۔ اُن کے آنے سے مجھے کافی اطمینان ہو گیا کیوں کہ مجھے تو دفتری امور کا کچھ تجربہ نہ تھا۔ اس لیے میں نے یہ سارے معاملات فوراً ہی اُن کے حوالے کر دیے۔ انہوں نے سب سے پہلے تو ایک بڑا سا کاپی نما رجسٹر منگوایا اُس کے اُوپر آرڈر بک لکھ کر اس میں میری طرف سے پہلا آرڈر تحریر کر دیا۔ جس کے مطابق پرائمری سکول 315 ای بی کو اپ گریڈ کر کے مڈل سکول کا درجہ دے دیا گیا اور اس پر مجھ سے دستخط کروا لیے۔

میں اپنے دونوں نئے آنے والے رفقائے کار کے ساتھ مل کر سکول کی عمارت کا جائزہ لے رہا تھا اور یہاں پر مڈل کلاسیں بٹھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اسی اثنا ء میں اس علاقے کی معروف سیاسی شخصیت خادم باجوہ بھی وہاں پر تشریف لے آئے۔ مجھ سے مل کر خوش ہوئے کیوں کہ میرے بڑوں کے ساتھ اُن کے دیرینہ مراسم تھے۔ حسبِ دستور انہوں نے پوچھا کہ میرے لائق کوئی خدمت، خلاف دستور میں نے انہیں بتایا کہ میرے پاس تو اپنے اور اپنے نئے آنے والے اساتذہ کے بیٹھنے کے لئے کرسیاں بھی نہیں ہیں۔

صرف ڈھیلی سی چولوں والی تین کرسیاں یہاں پر موجود ہیں جن پر بیٹھنے کے بعد ہر وقت دھڑکا ہی لگا رہتا ہے کہ اب گرا کہ تب گرا اور اسی قبیل سے تعلق رکھنے والی دو میزیں بھی ہیں۔ اب مجھے صحیح عدد تو پتہ نہیں ہے لیکن انہوں نے اس سلسلے میں کچھ رقم دینے کی حامی بھر لی اور ہم نے بہت جلد ہی اس کمی کو دور کر لیا تھا۔

آج کے دن میں نے سٹاف میٹنگ کی اور اس میں فیصلہ کیا گیا کہ قریب قریب کے تمام گاؤں کی مساجد میں اعلان کروائے جائیں گے کہ آج سے چک نمبر 315 ای بی میں مڈل سکول نے کام شروع کر دیا ہے۔ داخلہ لینے کے خواہش مند طلباء فوراً ہی یہاں پر حاضر ہو کر داخلہ حاصل کریں۔ اگلے دن ان اعلانات کے اثرات نظر آرہے تھے۔ سکول میں داخلہ کے خواہش مند اپنے لواحقین کے ساتھ آرہے تھے۔ پندرہ اٹھارہ بچوں نے اسی سال اس سکول سے پانچویں کا امتحان پاس کیا تھا۔

انہیں تو فوراً ہی چھٹی جماعت میں داخل کر لیا گیا اور اتنے ہی اور بچے پہلے دن ہی چھٹی جماعت میں داخل ہونے کے لیے آ گئے تو انہیں بھی فوراً ہی بلا حیل و حجت داخل کر کے یہاں پر چھٹی جماعت کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اسی دوران ایک اور ٹیچر محمد رفیق بھی آ گئے میں نے عبدالستار صاحب کو ہدایت کی کہ آپ چھٹی اور ساتویں جماعت کا ٹائم ٹیبل آپس کے صلاح مشورے سے تیار کر لیں اور جو مضامین رہ جائیں وہ مجھے دے دیں۔

قصہ مختصر یہ کہ اگلے دن باقاعدہ پڑھائی کا کام شروع کر دیا گیا۔ ٹائم ٹیبل کے مطابق چھٹی اور ساتویں جماعت کو ریاضی اور سائنس کے مضامین میں نے پڑھانا تھے۔ چند دنوں کے بعد ہم نے ساتویں جماعت میں کچھ طالب علم داخل ہونے پر ساتویں جماعت کا بھی باقاعدہ آغاز کر دیا۔ کچھ عرصے بعد چک نمبر 477 ای بی سے پی ٹی شوکت بھی یہاں آ کر جائن ہو گیا۔ میں اپنے سٹاف میں سب سے کم عمر تھا لیکن میرا اُن لوگوں کے ساتھ سلوک بڑا دوستانہ ہوا کرتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ شوکت اکثر صبح کے وقت لیٹ ہوجاتا میں نے اس سے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی تو اس نے بتایا کہ پہلے وہ آٹھ دس میل کا فاصلہ سائیکل پر طے کر کے 495 ای بی کے بس سٹاپ پر پہنچتا ہے اور پھر سائیکل وہاں پر رکھ کر بقیہ فاصلہ بس سے طے کر کے یہاں آتا ہے۔ اس لیے لیٹ ہوجاتا ہے۔ اس کے مسئلے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے میں نے اُسے پہلے پیریڈ کی رعایت دے دی کہ وہ دوسرا پیریڈ شروع ہونے تک آ جایا کرے اور مقامی پرائمری سکول ٹیچر فرزند صاحب سے کہا کہ وہ صبح اسمبلی کروا دیا کریں۔

مجھے اُن کے رویے میں کچھ گریز اور گومگو کی سی کیفیت محسوس ہوئی لیکن میں نے اُنہیں تو کچھ نہ کہا لیکن اگلے دن خود آ کر اسمبلی کروانا شروع کردی۔ اب سارے ٹیچر باری باری میرے پاس آئے کہ سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ آپ ایک طرف ہٹ جائیں اسمبلی ہم کروا دیتے ہیں۔ لیکن میں نے اُن پر واضح کیا کہ اسمبلی کروانے سے میری کوئی بے عزتی نہیں ہوتی۔ اگلے دن میرے آنے سے پہلے ہی فرزند صاحب کھڑے اسمبلی کروا رہے تھے۔ دو ہفتوں کے دوران ہی ہمارے سکول کے مڈل حصے کی تعداد تقریباً دو سو تک پہنچ چکی تھی۔

تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب چھٹی جماعت کے طلباء تھے۔ جنہیں ہم نے دو سیکشن میں تقسیم کیا ہوا تھا اور پچاس ساٹھ کے لگ بھگ ساتویں جماعت کے طلباء تھے۔ تفریح کے وقت سکول کے گراؤنڈ میں والی بال کا نٹ لگایا جاتا۔ لڑکوں اور استادوں پر مشتمل روزانہ دو ٹیمیں تشکیل دی جاتیں اور اُن دونوں ٹیموں کے درمیان باقاعدہ میچ کھیلا جاتا اور باقی طلباء اور اساتذہ اس میچ کو نہایت دل چسپی سے دیکھا کرتے۔

اسی دوران میرے چچا جان انتقال کر گئے جو قریبی مڈل سکول چک نمبر 331 ای بی میں ٹیچر تھے۔ اس وجہ سے دو تین دن میں سکول نہ آ سکا۔ اُن کی قل خوانی کے مواقع پر میرا سکول سٹاف بھی سکول بند کر کے قل خوانی میں شرکت کرنے کے لیے ہمارے گاؤں پہنچ گیا۔ مجھے اُن کا یہ فعل کچھ ایسا اچھا نہ لگا لیکن میں نے اس کا اظہار مناسب نہ سمجھا۔ اسی دوران ہمارے محکمے کے دو اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز بھی وہاں پر پہنچ گئے اور انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تو آپ کے سکول کی انسپکشن کرنے آئے تھے سکول کو بند پا کر صورتِ حال کا علم ہونے پر یہاں چلے آئے۔ انہوں نے فاتحہ خوانی کی اظہار افسوس کیا کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہے۔ پھر اُٹھ کر چلے گئے سکول کی غیر قانونی بندش کے متعلق ذکر تک کرنا بھی انہوں نے مناسب نہ سمجھا۔ کیا بھلے اور وضع دار لوگ ہوا کرتے تھے اس زمانے میں۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ ان دونوں صاحبان کا نام ایک ہی تھا ”محمد حسین“ ۔ ایک صاحب میاں چنوں سے تعلق رکھتے تھے اور ایک بورے والا سے۔ اس واقعے کے ہفتے عشرے بعد وہ ہمارے سکول میں ایک بار پھر تشریف لے آئے اور سکول میں طلباء کی تعداد کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے ہی ہمیں بتایا کہ ہمارے سکول میں طلباء کی تعداد علاقے بھر کے مڈل سکولوں میں سب سے زیادہ ہے بلکہ چک نمبر 331 ای بی عرصہ تیس سال سے کام کرنے والے مڈل سکول سے بھی زیادہ ہے اور انہوں نے سکول کی لاگ بک میں ہماری اس کارکردگی کی دل کھول کر تعریف کی۔

اس واقع کے بیس پچیس سال بعد رفیق ڈھلوں صاحب جو میرے بعد یہاں پر ہیڈ ماسٹر رہے تھے۔ اکثر بورے والا کلب میں مجھے کہا کرتے کہ جب میں نے وہاں پر تمہارے متعلق لکھی ہوئی لاگ بک پڑھی جہاں لکھا ہوا تھا کہ سکول کا ہیڈماسٹر نوجوان ہے خوبصورت ہے، خوش اخلاق ہے، مستعد اور مخلص ہے تو مجھے تعجب ہوا کہ یہ افسران سکول کا معائنہ کرنے کے لیے آئے تھے یا صرف تمہیں دیکھنے اور تمہاری تعریفیں کرنے کے لیے ہی یہاں پر تشریف لائے تھے۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا خوب دن تھے جوانی کے

  • 09/07/2025 at 3:10 شام
    Permalink

    شکریہ برائے 1981

Comments are closed.