جوانوں کو پیروں کا استاد کر


ادارے عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ان کا نام افرادی قوت سے ہوتا ہے ؛ یہ وہی قوت ہے جو گمنام جگہوں کو ارفع مقام تک پہنچا دیتی ہے ؛ افرادی قوت کی تیاری کے لیے اعلیٰ ادب، عظیم اقدار اور معیاری نظامِ تعلیم ضروری ہوتا ہے۔ علم و ادب کے سکے کو کون نہیں جانتا ہے؟ اور یہ کہاں نہیں چلتا ہے؟

مشہور عربی مقولہ ہے :
”الادب یرفع الخامل“
ترجمہ: ”ادب (علم) گم نام کو بلند مقام پر پہنچا دیتا ہے۔“

وہ ادارے ( institutes) جس میں ہر نیا آنے والا طالبِ علم جتنا زیادہ علمی مرتبہ حاصل کرے گا؛ وہ علمی مرتبہ اس ادارہ کے کامیاب ہونے کی علامت سمجھا جائے گا۔ کُہنہ روایات کو توڑنا اور نئے نابغوں (Genius) کو جنم دینا ایک اچھے ادارے کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی دلیل ہے۔ مزید برآں نامور اساتذہ وہی رہے جن کے طلبہ یا جن سے استفادہ کرنے والے ان سے آگے بڑھ گئے۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اساتذہ کرام کے نام آپ کے تبحّرِ علم کی وجہ سے زندہ ہیں۔

امام غزالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوانح عمریاں لکھی گئیں، تو ان کے اساتذہ کرام کے نام بھی شان و شوکت سے لکھے گئے۔ میر حسن کو کون جانتا اگر اقبال ان کا شاگرد نہ ہوتا؛آرنلڈ بھی تو مستشرق تھا باقی مستشرقوں کی طرح، مگر اقبال کی وجہ سے ان کا نام تاریخ کے دھندلکوں میں گم نہیں ہوا۔

تواریخ کی کتنی کتابیں بہ طور دلیل پیش کی جا سکتی ہیں جن میں شاگردوں کی وجہ سے اساتذہ کرام کے نام کا اندراج ہوا ہے۔ اس منظر نامہ کا اس وقت حقیقی مصداق صرف اور صرف ادارہ معین الاسلام ہے۔ اس کے افتاء فی الفقہ کے سالانہ رزلٹ 2024 نے چونکا کے رکھ دیا، ساتھ ساتھ ایک تلخ حقیقت سے پردہ کشائی بھی کی۔

پہلی بات تو یہ کہ مرکز میں مجموعی طور پر 38 علمائے کرام شریک امتحان ہوئے ؛ ان میں سے 28 درخشندہ ستارے ادارہ معین الاسلام بیر بل شریف کے نظر آئے، اس سے یہ بھی بات کھل کر سامنے آ گئی کہ ڈویژن سرگودھا کے تمام ادارے یعنی مدارس افرادی قوت پیدا کرنے سے قاصر ہیں، اس فریضہ کی حقیقی تکمیل بھی ادارہ نے کی۔ اس پر سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں اور ناظمِ ادارہ پروفیسر محبوب حسین کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں۔ مدارس کی اشرافیہ کو اس منظر نامے سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

دوسری بڑی کامیابی یہ نصیب ہوئی کہ سب کے سب اعلی فرسٹ ڈویژن سے کامیاب ہوئے سب کے نمبر 75 فیصد سے زائد رہے، اس سے ادارہ معین السلام بیر بل شریف کے 43 سالہ کامیابی کی روایت بھی برقرار رہی بلکہ مزید بڑھوتری کے ساتھ ترقی کی منزل طے کی۔

تیسری بڑی اور قابل رشک بات یہ ہے کہ اس امتحان میں اساتذہ کرام اور ان کے طلبہ شریک ہوئے جبکہ تینوں پوزیشنیں طلبہ یعنی شاگردوں کے حصہ میں آئیں اس کے سبب ناظم ادارہ بہت خوش ہوئے راقم کو تو ہنستے وقت ان کے دانتوں سے خارج ہونے والی روشنی کی نورانی شعائیں بھی ابھی تک یاد ہیں۔

ناظمِ ادارہ نے کہا: ”میرے نزدیک اچھے اساتذہ وہی ہوتے ہیں جن کے طلبہ ان سے آگے نکل جائیں“

حضرتِ اقبال نے جو کہا تھا کہ کُہنہ روایات کو توڑ کر نئی راہیں استوار کرو، وہ روایات جن میں بڑھوتری کا ٹیگ ( Tag) صرف اور صرف پرکھوں اور بڑوں کے ناموں پر لگایا جاتا ہے ؛ اس زہریلی بوٹی سے اجتناب کرو۔ علامہ اقبال نے کہا:

خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

ادارہ معین الاسلام کا طغرائے امتیاز جوانوں کو پیروں کا استاد کرنے میں حقیقی آب و تاب سے منعکس ہو چکا ہے، اس امر میں ناظم ادارہ کی محنت، بے لوث خدمت اور جاں فشانی اوجِ کمال کو پہنچی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ناظمِ ادارہ نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا :

”“ میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ ”کسے را بہ حقارت منِگر“

”کسی کو حقارت کی نگاہ سے مت دیکھو“ بلکہ ہر طالب علم کے اندر عمدہ ٹیلنٹ ”Talent“ چھپا ہوا ہے، ایک سے ایک بڑھ کر ہیرا ادھر موجود ہے یہ سارا ثمر قرآنِ مجید سے محبت کے سبب مل رہا ہے۔ ”“ اللہ تعالیٰ اس چراغ کو دیر تک شعلہ فگن رکھے۔ اس گھاٹ سے تشنگانِ علم و ادب اپنی پیاس بجاتے رہیں۔

Facebook Comments HS