ریکوڈک سی ڈی سی تنازعات کی زد میں کیوں؟
چاغی، بلوچستان کا ایک اہم اور وسیع ضلع ہے، جو پاکستان کے مغربی سرے پر واقع ہے اور ایران و افغانستان کی سرحدوں سے متصل ہے۔ 28 مئی 1998 کو یہاں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے، جنہوں نے ملک کو دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ پاک۔ ایران آر سی ڈی شاہراہ چاغی سے گزرتی ہے، جو پاکستان کو ایران، ترکی اور یورپ سے ملاتی ہے، اور معاشی ترقی کے لیے ایک اہم راستہ فراہم کرتی ہے۔ چاغی کی بنجر مگر معدنیات سے مالا مال زمین، پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
جس طرح چاغی نے 28 مئی کو اپنا سینہ تان کر ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوط کیا، اسی طرح آج ریکوڈک اپنی سرزمین دے کر پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے جا رہا ہے۔ ریکوڈک پروجیکٹ چاغی کی تحصیل نوکنڈی میں واقع ہے، جہاں گزشتہ دو سال سے بیریک مینگ کارپوریشن کی ذیلی کمپنی ریکودک مینگ کمپنی (RDMC (کام کر رہی ہے۔ پروجیکٹ مینجمنٹ کے مطابق ریکوڈک میں کان کنی کا باقاعدہ آغاز 2028 سے ہو گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف چاغی بلکہ پورے بلوچستان اور پاکستان میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔
آر ڈی ایم سی کمپنی کی جانب سے ضلع چاغی میں تعلیم، صحت اور آب نوشی کے منصوبوں پر کان کنی شروع ہونے سے پہلے ہی تقریباً 20 ارب روپے کم و بیش خرچ کیے جائیں گے۔ اس وقت نوکنڈی میں ایک کمیونٹی ہیلتھ سینٹر، ایک پرائمری اسکول اور ایک بی ایچ یو دیہی علاقہ ہمے میں فعال ہے، جہاں مقامی لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور نوکنڈی میں ایک ٹیکنیکل سینٹر بھی بنایا ہے جہاں نوجوانوں کو ہنر سکھا کر کارآمد شہری بنایا جا رہا ہے۔
چونکہ ریکودک مینگ کمپنی ایک ملٹی نیشنل پروجیکٹ ہے، اس لیے ترقیاتی سرگرمیاں مقامی کمیونٹی کی مشاورت سے کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے دو سال قبل سی ڈی سی (کمیونٹی ڈویلپمنٹ کمیٹی) قائم کی گئی، جس میں 12 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں۔ ان افراد کا انتخاب مقامی قبائل، سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں کی مشاورت سے کیا گیا۔ چار اعزازی ممبران، جن میں ضلع چیئرمین اور ڈپٹی کمشنر شامل ہیں، جبکہ دو کمپنی کی ممبران بھی کمیٹی میں شامل ہیں لیکن انہیں ووٹنگ کا حق حاصل نہیں۔
حال ہی میں سی ڈی سی کے انتخابات ہوئے، جن میں پاکستان مسلم ن رخشان ڈویژن کے صدر اور قبائلی رہنما حاجی عرض محمد بڑیچ کو نیا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ اس پر پاکستان پیپلز پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی، خان پینل نے اعتراضات اٹھائے اور سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ بعض ممبران نے جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے اپنی رکنیت سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ اس کے بعد سی ڈی سی کی افادیت اور حیثیت پر سوالات اٹھنے لگے۔
اس صورتحال پر کمیونٹی انگیجمنٹ منیجر علی دوست یلانزئی نے موقف دیتے ہوئے تمام الزامات کو رد کیا اور کہا کہ سی ڈی سی کے ممبران کا انتخاب کسی فرد یا کمپنی نے نہیں، بلکہ نوکنڈی کے اسٹیک ہولڈرز (قبائل، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی) نے باہمی مشاورت سے کیا کمپنی نے صرف سہولت کار کا کردار ادا کیا۔
سی ڈی سی کی تشکیل نو کے وقت دو گروپ بنے ایک ”خان پینل“ اور دوسرا سیاسی و سماجی حلقوں پر مشتمل گروپ۔ دونوں نے 6۔ 6 نام دینے پر اتفاق کیا، تاہم ”خان پینل“ نے ووٹنگ رائٹس بڑھانے کی شرط رکھی، جو قبول نہ ہونے پر سی ڈی سی میں شامل نہ ہوئے بعد میں اسی پینل کے کئی افراد نے خود سی ڈی سی ممبرشپ قبول کی۔
خواتین ممبران کے انتخاب پر اختلاف کی وجہ سے اجلاس ملتوی کیا گیا، جس کے بعد کمپنی نے دونوں گروپوں سے 2۔ 2 خواتین ممبران کے نام مانگے، لیکن ”خان پینل“ نے نام دینے سے انکار کر دیا۔ بالآخر موجودہ ممبران نے متفقہ طور پر چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کیا۔
علی دوست یلانزئی کے مطابق کمپنی کسی گروہ یا جماعت کی حمایت نہیں کرتی، بلکہ سی ڈی سی کا مقصد مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود ہے۔ بدقسمتی سے مقامی سیاسی اختلافات نے ایک غیر سیاسی اور فلاحی پلیٹ فارم کو بھی متاثر کیا، حالانکہ اس کا مقصد صرف اجتماعی مفاد ہے۔
سی ڈی سی کمیٹی کے نومنتخب چیئرمین حاجی عرض محمد بڑیچ نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا۔
میں گزشتہ دو سال سے سی ڈی سی کمیٹی کا جنرل سیکریٹری رہا ہوں۔ ان دو سالوں کے دوران ہم نے ریکودک مینجمنٹ کو علاقے کی ترقی کے لیے تمام کمیٹی ممبران کی مشاورت سے اہم مسائل پر تجاویز پیش کیں، جن پر پروجیکٹ نے عملدرآمد بھی کیا۔ ان دو سالوں میں تقریباً ایک ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی کام سی ڈی سی نوکنڈی کی تجاویز پر مکمل کیے گئے۔
اب مجھے سی ڈی سی ممبران نے بھاری اکثریت سے چیئرمین منتخب کیا ہے۔ اگرچہ کچھ ممبران نے ابتدا میں حمایت کی اور بعد میں انحراف کیا، مگر اس کے باوجود مجھے اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔
ریکوڈک پروجیکٹ میں کام کرنے والی کمپنی دیگر کمپنیوں سے مختلف ہے، اس کا معیار بین الاقوامی ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسا ہے۔ ہم سی ڈی سی کمیٹی کے ارکان عوامی اور کمیونٹی بنیاد پر تجاویز دیتے ہیں، جن پر کمپنی اجتماعی طور پر عملدرآمد کرتی ہے۔ سی ڈی سی ممبران کو اس عمل میں یہی فائدہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے مفاد میں تجاویز دیتے ہیں، نہ کہ کمپنی کی طرف سے کوئی ذاتی مراعات حاصل کرتے ہیں۔
میں اب تین سال کے لیے چیئرمین منتخب ہوا ہوں، اور میری کوشش ہوگی کہ تمام ممبران کے ساتھ مل کر ایک عام شہری سے بھی تجاویز حاصل کروں۔ ہماری ترجیح ہوگی کہ ہم زیادہ سے زیادہ موثر اور مفید تجاویز پروجیکٹ کو دیں تاکہ ریکوڈک پروجیکٹ علاقے کی ترقی کے لیے انقلابی اقدامات کرے۔
میرا سی ڈی سی کمیٹی کے حوالے سے کسی سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ میں سب کو ساتھ لے کر علاقے کے مفاد میں چلنا چاہتا ہوں تاکہ علاقے کے بنیادی مسائل حل کیے جا سکیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر اور ممتاز قبائلی رہنما، ملک رحمت اللہ نوتیزئی نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، جس کی نمائندگی اس وقت قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہے۔ ضلع چاغی میں بھی پارٹی فعال ہے اور ہمارے کارکن نوکنڈی سمیت مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔ ہمیں اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ پروجیکٹ مینجمنٹ کی جانب سے سی ڈی سی (CDC) کمیٹی تشکیل دی گئی، لیکن اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کو شامل نہیں کیا گیا۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ جانبداری کا مظہر بھی ہے۔ جس طرح دیگر جماعتوں کو سی ڈی سی کمیٹی میں نمائندگی دی گئی ہے، اسی طرح پیپلز پارٹی کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ ہم نے متعدد بار زبانی اور تحریری طور پر کمپنی مینجمنٹ کو آگاہ کیا، لیکن ہمارے تحفظات کو نظر انداز کیا گیا۔
نوکنڈی میں ہماری پارٹی کے پرانے اور با اعتماد کارکن موجود ہیں، جو کمیونٹی کا حصہ ہیں، اس کے باوجود ہمیں دانستہ طور پر سی ڈی سی سے باہر رکھا گیا۔ کمپنی کی جانب سے یک طرفہ طور پر کمیٹی تشکیل دینا اور دیگر سیاسی جماعتوں کو لاعلم رکھنا انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے کہ سی ڈی سی کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے کو شامل کیا جائے۔ اس حوالے سے ہم نے پارٹی کی صوبائی اور مرکزی قیادت کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔ اگر ہمیں جائز نمائندگی نہ دی گئی تو ہم بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
ڈسٹرکٹ وائس چیئرمین، یار محمد زئی قبیلے کے سربراہ پیپلز پارٹی صوبائی کونسل کے ممبر اور پاک ایران سرحدی علاقے راجئے کے مالک، میر اسفندیار خان یار محمد زئی نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ میں پاک ایران سرحدی علاقے راجئے کا مالک ہوں اور یونین کونسل جعلی، تحصیل نوکنڈی میں واقع ہے، اور میں وہیں سے چیئرمین منتخب ہوا ہوں۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مجھے بھی سی ڈی سی (Community Development Committee) کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ہم عوامی نمائندے ہیں اور ایک قبائلی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ صحت، تعلیم، آبنوشی جیسے عوامی مسائل پر نہ صرف کام کیا ہے بلکہ ہر فورم پر آواز بھی بلند کی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا خان پینل صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔ اس وقت تحصیل تفتان اور نوکنڈی میں تمام بلدیاتی نمائندے خان پینل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ضلع سطح پر نہ صرف ضلعی حکومت بلکہ ایم پی اے بھی خان پینل کا حصہ ہے۔ مختلف قبائلی اور سیاسی لوگ خان پینل کے اتحادی ہیں، لیکن سی ڈی سی میں اس پلیٹ فارم کو نظرانداز کرنا سراسر زیادتی اور ہماری کمیونٹی کے عوام کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے۔
یونین کونسل جعلی چونکہ نوکنڈی کی یو سی ہے، ہمیں بتایا جائے کہ ان کی دو سالہ کارکردگی کیا رہی؟ عملی طور پر کارکردگی صفر ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نوکنڈی تحصیل میں ایک ارب روپے سے زائد کمیونٹی کی تجاویز پر خرچ کیے گئے، مگر ہمارے لوگوں کو ان فنڈز کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر بنایا گیا، لیکن وہاں سے معمولی بیماریوں کے مریضوں کو بھی ریفر کیا جاتا ہے، جس کا میں خود گواہ ہوں۔
ہمارا مقصد مخالفت نہیں، ترقی ہے۔ ریکوڈک منصوبہ نہ صرف چاغی، بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جو کمیونٹی فنڈز موجود ہیں، ان کے حوالے سے ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، سیاسی جماعتیں، قبائلی عمائدین، اور لوکل باڈی کے نمائندے سب کو اعتماد میں لے کر ایک متفقہ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ پورے علاقے کی یکساں نمائندگی ممکن ہو۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریکودک کی موجودہ منیجمنٹ شاید ایسا نہیں چاہتی۔ وہ من پسند افراد کو منتخب کر کے یک طرفہ فیصلے کرواتی ہے، جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور خان پینل کے تمام اتحادیوں کو سی ڈی سی سے باہر کر کے بعد میں پورے علاقے کی نمائندگی کا تاثر دینا بددیانتی ہے۔
ریکودک پراجیکٹ اور بیرک گولڈ کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لیں، کیونکہ نچلی سطح پر کمیونٹی نمائندوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سی ڈی سی میں تمام فریقین کو شامل کیا جائے تاکہ ایک مضبوط، دیرپا اور متفقہ کمیٹی بنائی جا سکے، جو باہمی مشاورت سے علاقے کے بنیادی مسائل حل کرے موجودہ سی ڈی سی یک طرفہ ہے جسے عوامی اثر و رسوخ رکھنے والے پارٹیز، پینلز، اور نمائندوں نے مسترد کر دیا ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں کا موقف ہے کہ چونکہ ڈپٹی کمشنر چاغی سرکاری سطح پر اس ضلع کی منتظمِ اعلیٰ ہیں، اس لیے کمپنی کو چاہیے تھا کہ ضلع بھر سے جتنی بھی ممبرات منتخب کرنی تھیں، وہ ڈپٹی کمشنر کے ذریعے کروائی جاتیں۔ سی ڈی سی (Community Development Committee) کی چیئرپرسن ضلع سطح پر ڈپٹی کمشنر اور تحصیل سطح پر اسسٹنٹ کمشنر کو بنایا جاتا، جبکہ باقی ممبرات مقامی اسٹیک ہولڈرز اور کمیونٹی کی مشاورت سے شامل کی جاتیں۔
تاہم، ریکوڈک میں کام کرنے والی کمپنی، بیرک مینگ کارپوریشن، چونکہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے، وہ ان روایتی طریقوں کو تسلیم نہیں کرتی۔ کمپنی مقامی آبادی کی مشاورت سے کام کرنا چاہتی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے اجتماعی اور عوامی معاملات میں سیاسی اختلافات آڑے آ جاتے ہیں، جو ہمارے علاقے کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اگرچہ کمپنی کی یہ پالیسی نہیں ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، لیکن علاقے کے مفاد میں اسے سی ڈی سی کو صاف، شفاف اور نمائندہ بنانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ سی ڈی سی میں تمام کمیونٹی کی نمائندگی شامل ہے جسے اکثریتی عوامی مینڈیٹ رکھنے والے قبائلی عمائدین اور پارٹی رہنماؤں نے مسترد کیا ہے۔


