شکریہ بھارت
آپریشن بنیان مرصوص دنیا کی نظر میں صرف ایک آپریشن کی حیثیت رکھتا ہو گا مگر بندہ ناچیز کی نظر میں اس کا اثر بہت گھنا اور گہرا ہے، اس ملک کی تاریخ میں بڑے بڑے واقعات پیش آئے توجہ طلب پہلا بڑا واقع 14 اگست 1947 کو اس ملک کا قیام تھا، دوسرا 1965 اور 1971 کی جنگیں تھیں جو ہم نے اپنی بقا کے لئے اپنے دشمن سے لڑیں، 2019 میں دشمن کی ناپاک سازش کو ہم نہ صرف ناکام بنایا بلکہ اس کو منہ توڑ جواب دے کر اس کے بخیے اکھیڑ کے رکھ دیے تھے، اب کی بار پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے وہ کی جو کوئی بھی غیرت مند ملک برداشت نہیں کر سکتا تھا، ہماری خودمختاری کو للکارا گیا تھا اور پھر جو پاکستان نے کیا اس کو دنیا نے دیکھا۔
جب بھارتی ڈرونز پاکستانی فضاؤں میں آئے اور ان کو ہمارے جوان ہماری مشینیں اور ہمارے لوگ گراتے رہے، اس بیچ ایک تصویر نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، جس میں ایک شہری اپنے ذاتی اسلحہ سے رینجرز کے جوان کے ساتھ مل کر دشمن کے ڈرون کو مار گرانے میں کامیاب ہوا، یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جس کا اس قوم کو شدت سے انتظار تھا۔
اس جنگ میں جو رہی تو کچھ ہی گھنٹے، ہماری بہادر افواج نے بھارت کے حیران کن طور پر چھکے چھڑا دے اور ان کو گھٹنوں پر لے آئے کہیں سفید جھنڈے تو کہیں سیز فائر کی باتیں، کمال بات تو یہ کہ اس جنگ میں ہمیں لہو گرمانے کے لئے کسی ملی نغمے کسی جنگی ترانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی، کیونکہ ہمارے جوانوں کے ساتھ ہماری قوم ڈٹ کر کھڑی ہو گئی تھی، علی الصبح جب آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا گیا تو کہیں کھیتوں میں کہیں سڑکوں پر ہمارے لوگ ہماری افواج کے ساتھ موجود تھے، دنیا یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ اتنے خطرناک مزائل چل رہے ہیں اور غیور قوم کے لوگ اپنی افواج کے ساتھ موجود ہیں۔
ان آنکھوں نے وہ لمحہ بھی قید کیا ہے جب پاکستانیوں نے جنگ سے واپسی پر اپنے بہادر سپوتوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، اور خاکسار کی آنکھوں کو وہ لمحہ بھی یاد ہے جب ناپاک سیاسی عزائم کو پانے کے خاطر چند برس قبل سیاسی بلوائیوں کے ہاتھوں فوجی جوانوں کی گاڑیوں پر سنگ باری کی گئی تھی۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی آر نہیں کہ *شکریہ بھارت* تم نے وہ کر دکھایا جو بڑے بڑے سیمینار، سیاسی تقاریر، بڑے بڑے جلسے نہ کرپائے، تم نے آپریشن سندور کے نام پر اپنے سیاسی عزائم تو پورے کیے یا نہ کیے ہم نے وہ حاصل کر لیا جس کی یہ قوم پچھلی کئی دہائیوں سے متلاشی تھی، تقسیم میں پڑی یہ قوم اک بار پھر سے جی اٹھی، ہم نے نہ صرف دشمن کا غرور مٹی میں ملایا، ہم نے عالمی محاذ پر اپنے نام کے جھنڈے گاڑے، سپر پاور کے سپر صدر نے بھی کہہ دیا کہ پاکستانی کمال قوم ہے، 9 مئی سے پہلے اور 9 مئی کے بعد کے پاکستان میں زمین آسمان کا فرق ہے، بیساکھیاں ڈھونڈتی یہ قوم اور اس کے ادارے، اب تن تنہا اپنے دم پر کھڑے ہو رہے ہیں، یہ قوم کھڑی ہو رہی ہے، امریکہ بھی پاکستان سے تجارت کا خواہاں ہے، وہ دن دور نہیں جب یہ ملک یہ قوم دوبارہ سے اٹھ کھڑی ہوگی، انشاءاللہ۔ تو پھر کیوں نہ کہیں ہم شکریہ بھارت!


