فکرِ معاش نے چھین لیے میرے پیارے پیارے دوست


زمانۂ طالبِ علمی اور موسمِ گرما کی تعطیلات، چاہے اسکول ہوں، کالج یا یونیورسٹی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہے ہیں۔ میری سرکاری ملازمت کو سات سال ہو چکے ہیں، اور کالج میں پڑھاتے ہوئے یہ تیسرا سال جاری ہے۔ اس مرتبہ پہلی بار موسمِ گرما کی تعطیلات آئیں، فرصت کے لمحات ملے، اور زندگی کے مختلف ادوار کی ”سمر ویکیشنز“ کا موازنہ کرنے کا موقع بھی میسر آیا۔

فرق صرف اتنا محسوس ہوا کہ طالبِ علمی کے دور میں کہیں دور دور تک فکرِ معاش کا تصور بھی نہ تھا۔ جب ہم طالبعلم تھے، تب یہ چھٹیاں محض خوشی، دوستوں سے ملاقات، آؤٹنگز، گپ شپ اور رات دیر تک فون کالز کا نام ہوا کرتی تھیں۔ صرف بے فکری سے لمحوں کو جینے کا سلیقہ آتا تھا۔ وہ دن بھی کیا دن تھے، جب دوستی صرف ہنسی، بے لاگ باتوں اور دل سے نکلی دعاؤں کا نام تھی۔ نہ پیسہ درمیان میں آتا تھا، نہ کوئی فائدے کی سوچ۔ نہ کیریئر کا بوجھ تھا، نہ اسٹیٹس کا دباؤ۔ عجب سکون ہوتا تھا اس وقت میں۔ جب کسی دوستی کو نبھانے کے لیے نہ وقت نکالنا پڑتا تھا، نہ کسی وجہ کی ضرورت ہوتی تھی۔ بس ملنے کو دل چاہتا اور مل لیتے۔

لیکن جیسے ہی تعلیم مکمل ہوئی، موسمِ گرما کی وہ بے فکری پر مبنی تعطیلات بھی ختم ہو گئیں۔ اور ساتھ ہی فکرِ معاش نے زندگی پر حکومت کرنا شروع کر دی۔ اب تو دوستوں کی گفتگو بھی بدل گئی ہے۔ کون کیا کام کر رہا ہے؟ کون کس شہر میں ہے؟ کس کا ذریعۂ معاش کیا ہے؟ ہر کوئی کسی نہ کسی مشغلے میں الجھا ہوا، کسی نہ کسی ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے۔ کسی کو نوکری کی پریشانی کھا گئی، کسی کو گھر کی ذمہ داری نے جکڑ لیا۔ کسی کی زندگی اتنی تیز ہو گئی کہ وقت تو ہے، مگر ملاقات کی گنجائش نہیں۔ اور میں بس یہی سوچتا ہوں ”کیا واقعی فکرِ معاش اتنی بڑی مجبوری ہے کہ انسان رشتے، یاریاں اور دیرینہ تعلقات بھی بھول جائے؟“

میرے اُن سب دوستوں کی ایک لمبی فہرست ہے، جو زندگی کی فکر میں کہیں کھو گئے۔ فکرِ معاش نے اُنہیں آن گھیرا۔

سلمان، میرا اسکول کا سب سے خوش مزاج اور ہنس مکھ دوست، ہر وقت ساتھ ہوتا تھا۔ نہ جانے کہاں کھو گیا؟ پندرہ سال کی دوستی، ہر موڑ پر میرا ہمسفر۔ آج فکرِ معاش میں ایسا گم ہوا کہ سلام کا جواب بھی چار دن بعد ملتا ہے۔ اور جب بات ہوتی ہے تو صرف اخراجات اور تنخواہ کی۔

عمر نے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان چھوڑ کر نیوزی لینڈ کا رخ کر لیا۔ اگر یہاں معاشی تحفظ ہوتا تو شاید آج ہم ساتھ ہوتے۔ مہینوں بعد کبھی کبھار ایک سرسری اور رسمی سی کال ہو جاتی ہے۔

احسن روزگار کی خاطر اپنے گھر سے دور، بیوی بچوں سے جدا، ایک کمرے میں بند، صرف پیسے کمانے کی دھن میں مشغول ہے۔

زین پنجاب کے آخری کونے میں روزی کی فکر میں اُلجھا ہوا ہے۔ جب ہم ساتھ تھے تو یہ سب باتیں کبھی سوچتے بھی نہ تھے۔ نوکری کیا ہوتی ہے؟ کمائی کا ذریعہ کیا ہے؟

زوہیب بہتر کیریئر کے لیے لاہور سے اسلام آباد منتقل ہو گیا۔ جب اسے فیڈرل ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت ملی تو مجھے بے حد خوشی ہوئی، مگر اب اس سے بات کرنے کے لیے بھی اُس کی فرصت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

یاسر اپنے کاروبار میں اتنا مصروف ہے کہ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بھی نہ ملاقات ہوتی ہے، نہ کال۔ پتا نہیں کس موڑ پر گم ہو گیا۔

اور عثمان، جب ایک نوکری سے بات نہ بنی تو دوسری بار خود کا ریسٹورنٹ شروع کر لیا، تاکہ معاشی مسائل سے نمٹ سکے۔

یہ دوست، وہ رشتے جو کبھی دن کا روشن پہلو ہوا کرتے تھے، آج فکرِ معاش کے سائے میں دھندلا چکے ہیں۔ کسی سے بات ہوئے برس گزر جاتے ہیں، کسی سے رابطہ ہی نہیں رہتا۔ اور اگر کبھی بات ہو بھی جائے تو اُن کے لہجے میں وہ گرمجوشی، وہ خوشی نہیں ہوتی۔ انداز اتنا تھکا تھکا سا ہوتا ہے کہ بات چند لمحوں میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔ سب کچھ عجیب سا ہو گیا ہے۔ وہ باتیں جو کبھی بے وجہ بھی ہوتی تھیں، اب ”بزی ہوں“ کا ایک جملہ سب کچھ چھپا لیتا ہے۔ اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ تو وہ لوگ ہیں ہی، نہیں جن سے میری دوستی تھی۔ یہ صرف میری یا آپ کی نہیں، ہر اُس شخص کی کہانی ہے جو زندگی کی دوڑ میں کسی نہ کسی کو کھو چکا ہے۔ ہر کسی کو نوکری، بل، کرایہ، کیریئر اور ”سیٹل ہونے“ کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ فکرِ معاش ایسی لعنت بن چکی ہے جو صرف وقت ہی نہیں، دوستی بھی نگل جاتی ہے۔

فکرِ معاش نے نہ صرف ہماری مسکراہٹیں چھین لی ہیں، بلکہ وہ دوستیاں، وہ یاریاں، وہ لمحے بھی چکناچور کر دیے ہیں جو کبھی روح کا حصہ تھے۔ ہر کوئی بھاگ رہا ہے۔ نام، پیسے، مقام کے پیچھے۔ اور اس دوڑ میں ہم اُن چہروں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں جو کبھی زندگی کی روشنی ہوا کرتے تھے۔ لغزش کا یہ دور سب پر گزرا ہے، لیکن کچھ لوگ اس میں یوں کھو گئے کہ اُن کی پہچان ہی بدل گئی۔ اب اُن کے چہرے ویسے ہی ہیں، لیکن انداز اور جذبات بالکل الگ۔ شاید وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے۔

وہ دوستی جو کبھی بے وجہ بھی مضبوط تھی، آج ہر وجہ کے باوجود بھی ٹوٹ رہی ہے۔
وہ لمحے جو بس ساتھ بیٹھنے سے گزر جاتے تھے، اب اُن کے لیے شیڈول بنانا پڑتا ہے۔
وہ رشتے جو دل سے جُڑے تھے، اب سوشل میڈیا کے ”سین“ تک محدود ہو گئے ہیں۔

اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمیں سب کچھ معلوم ہے۔ مگر پھر بھی ہم کچھ نہیں کر پاتے۔ ہر کسی کے پاس کہنے کو ایک ہی جملہ ہے ”یار، وقت نہیں ملتا۔“

آج کئی سالوں بعد جب موسمِ گرما کی چھٹیاں دوبارہ ملی ہیں، تو وہ پرانی چھٹیاں یاد آ گئی ہیں۔ جب چھٹیوں کا مطلب صرف آرام نہیں، یار باشی بھی ہوتا تھا۔ جب یہ دن دوستوں سے ملنے کا بہانہ بنتے تھے، اور دل کھول کر جینے کا وقت دیتے تھے۔

لیکن اب۔ اب یہ چھٹیاں صرف سوچنے کا وقت دیتی ہیں کہ کیسے ہماری روح کے قریب ترین لوگ زندگی کے بوجھ تلے کھو گئے، اور کس طرح فکرِ معاش نے چھین لیے میرے پیارے پیارے دوست۔

Facebook Comments HS