گلگت بلتستان: گلیشیئرز کا تیز پگھلاؤ، سیلابی خطرات اور انتظامی ردِعمل


گلگت بلتستان، جو اپنی برف پوش چوٹیوں، نیلگوں جھیلوں اور قدرتی مناظر کے باعث عالمی سیاحت کا مرکز رہا ہے، آج شدید ماحولیاتی خطرات کی زد میں ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں خطے میں گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ، طغیانی، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ دنوں میں جاری شدید گرمی اور مغربی ہواؤں کے دباؤ نے گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو غیر معمولی حد تک تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی، دریاؤں میں بہاؤ کی شدت، اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) جیسے خطرناک مظاہر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ان اثرات پر فوری اور جامع منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آئندہ مہینوں میں گلگت بلتستان شدید ماحولیاتی بحران کا شکار ہو سکتا ہے

وادی ہنزہ کے علاقے حسن آباد میں پیر کی دوپہر ششپر گلیشیئر سے جڑی گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا۔ پانی کے تیز رفتار، کیچڑ آلود ریلے نے زمین کو نگل لیا، درخت جڑ سے اکھاڑ دیے، اور مکانات کو نقصان پہنچایا۔ ریلا کچھ لمحوں کے لیے رُکا، مگر اس کے بعد طوفانی شدت کے ساتھ بہا اور قراقرم ہائی وے کے قریب پہنچ کر انفراسٹرکچر اور انسانی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔

یہ ایک ہفتے کے دوران دوسرا ایسا واقعہ ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی واضح مثال ہے۔

نگر خاص میں سپلتر نالہ میں آنے والے اچانک اور شدید سیلاب نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا۔ مرکزی کاز وے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جبکہ متبادل راستے اور قریبی زمین میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، اور کئی درخت بھی اکھڑ چکے ہیں۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ٹریفک مکمل طور پر معطل ہے۔ گلگت کے علاقے جوتل کھاری میں دریائے ہنزہ کے تیز بہاؤ نے اب تک 15 سے 20 فٹ زمین کو دریا برد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی رہائشی خاندان خطرے میں ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے فوری ردعمل کے طور پر متاثرہ خاندانوں کو خیمے فراہم کیے ہیں اور تکنیکی ٹیمیں کٹاؤ کو روکنے کے لیے متحرک کر دی گئی ہیں۔

دیامر کے گونرفارم اور گرد و نواح میں موسلادھار بارشوں کے نئے سلسلے نے برساتی نالوں میں طغیانی پیدا کر دی ہے۔ پہاڑی علاقوں سے آنے والے پانی نے واٹر چینلز کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ٹریفک کی روانی میں خلل کے باعث سیاح اور مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

عوامی تحفظ کے پیش نظر نگر اور گلگت کی ضلعی انتظامیہ نے تمام قدرتی آبی ذخائر، ندی نالوں اور گلیشیئرز میں تیراکی، نہانے یا دیگر تفریحی سرگرمیوں پر 60 دن کے لیے دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔ والدین اور تعلیمی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ نوجوانوں کو ان خطرناک سرگرمیوں سے باز رکھیں۔

ڈپٹی کمشنر گلگت، امیر اعظم حمزہ، نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی حالت میں کام کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ مشینری، طبی عملہ، ریسکیو 1122، اور فیلڈ سٹاف ہمہ وقت تیار رہنے کے لیے الرٹ ہیں۔

ضلعی انتظامیہ اور ماہرین کی جانب سے عوام کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔ ندی نالوں، پلوں، یا دریا کے کناروں پر قیام نہ کریں۔ سیلابی ریلے کو ہرگز عبور نہ کریں۔ ندیوں میں نہانے یا کپڑے دھونے سے گریز کریں

گلگت بلتستان کو درپیش ماحولیاتی خطرات وقتی نہیں بلکہ ایک مسلسل بڑھتا ہوا بحران ہیں، جو محض وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ سائنسی، جامع اور پائیدار حکمت عملی سے ہی قابو میں آ سکتے ہیں۔ حکومت، ادارے، ماحولیاتی ماہرین اور عوام کو مل کر، بروقت فیصلے اور عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ قدرتی حسن سے مالا مال یہ خطہ محفوظ رہ سکے۔

محض امدادی سرگرمیاں کافی نہیں، بلکہ پیشگی تیاری، موسمیاتی شعور، اور قدرتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ طرزِ زندگی ہی اس چیلنج کا دیرپا حل ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS