نئے پاکستان کی تلاش۔ اک شہری کا کھویا ہوا خواب


silhouette 03

مجھے آج بھی وہ وقت یاد ہے جب ہوا بھی تبدیلی کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ نئے پاکستان کے خواب کی جھلک ہر آنکھ میں دکھائی دے رہی تھی۔ وہ خواب جو ہم سب کو دکھایا گیا اور ہم نے آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیا۔ ہر گلی، ہر چوراہا، ہر دفتر، ہر طالب علم، ہر مایوس باپ، ہر تھکی ہوئی ماں میں آج بھی نئے پاکستان کے خواب کا عکس دکھائی دیتا ہے لیکن وہ خواب آج بھی کہیں گم ہے۔

میں ایک عام شہری ہوں اور میرے پاس صرف شناختی کارڈ اور ووٹ ہے۔ جس سے میں ہر پانچ سال بعد اپنے ملک کے لیے رہنما چن سکتی ہوں۔ جب تبدیلی کے نعروں سے پورا پاکستان گونجنے لگا تو مجھے بھی لگا کہ شاید اب نیا پاکستان وجود میں آ ہی جائے گا، ایسا پاکستان جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو، انصاف خریدنا نہ پڑے اور غربت آدمی کو آدمی سے جدا نہ کرے۔ اسی امید سے میں نے بھی ووٹ تبدیلی کے نعرے لگانے والوں کے حق میں دے دیا مگر نہ آٹے کی قیمتوں میں کمی آئی، نہ ادویات سستی ہوئیں، نہ انصاف کا بول بالا ہوا اور نہ ہی جرم کی شدت میں کوئی کمی آئی۔

میں نے اس ملک کے آئین کو طاقتور کی جیب میں اور غریب کو قانون کے شکنجے میں کسا ہوا دیکھا ہے۔
سچ پوچھیے تو خوشبو بھی چبھنے لگی مجھے
دیکھا جو میں نے پھول کو کچھ پھول بیچتے
اب بھی یہ سوال اکثر میرے ذہن میں گونجتے ہیں کہ
نیا پاکستان کدھر ہے؟
کیا نیا پاکستان ابھی بن رہا ہے؟
یا نیا پاکستان کبھی تھا ہی نہیں؟

میں جھوٹ نہیں بولوں گی، دراصل تبدیلی کے نعرے لگانے والے ایم این اے، ایم پی اے آج خود بھی روٹی، کپڑا اور مکان میں کہیں کھو گئے ہیں۔ تبدیلی کے جلسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے نوجوان آج ہاتھوں میں ڈگریاں لیے، آنکھوں میں سوال لیے مایوسی سے دربدر پھرتے ہیں۔ نہ منزل کا پتہ نہ راستوں کا یقین۔ ان کی مائیں دعاگو ہیں کہ کاش ان کے بیٹوں کو سفارش کے بغیر نوکری مل جائے۔

دراصل اس میں قصور ہمارا بھی ہے، ہم دوسروں کے سہارے زندگی گزارتے ہیں اور ہم دوسروں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ملک کی بہتری کے لیے کام کریں جب کہ ہم خود کچھ بھی نہیں کرتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔ آج کل زیادہ تر لوگ دوسرے ملکوں کو اپنے ملک پاکستان پر ترجیح دیتے ہیں اور وجہ پوچھنے پر کہتے ہیں کہ اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے۔ میں ان لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ سب سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ نے اپنے ملک کے لیے کیا کیا ہے؟

راز حیات پوچھ لے خضر خجستہ گام سے
زندہ ہر اک چیز ہے کوشش نا تمام سے

ہم سب کو خود اپنے ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا ہو گا۔ خواب کبھی مرتے نہیں بس حالات انہیں کہیں دبا دیتے ہیں۔ ہمیں نئے پاکستان کے خواب کو دوبارہ زندہ کرنا ہو گا۔ اور اپنے ملک کو ایک مثالی ملک بنانے کے لیے محنت کرنا ہو گی اور فرقے بازی سے اجتناب کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے ملک کو ایسا بنانا ہو گا جہاں ہمارے خواب کوئی چرا نہ سکے، جہاں نوکریاں رشوت یا سفارش سے نہیں بلکہ میرٹ پر ملیں، جہاں کھانے، تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر ہوں، جہاں قانون سب کے لیے ایک جیسا ہو، جہاں حکمران اپنے فرض بخوبی نبھائیں، اور جہاں حکومت عوام کی خدمت کے لیے بنائی جائے نہ کہ عوام کو لوٹنے کے لیے۔ ایسا پاکستان بننا تب ہی ممکن ہے جب ہم سب اپنے فرائض بخوبی نبھائیں گے اور کسی دوسرے کی مدد کا انتظار کیے بغیر خود اپنے ملک کے حالات کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور اگر ہم دوسروں کے سہارے رہیں گے یا حالات سے گھبرا کر باہر بھاگ جائیں گے تو پھر واقعی اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا۔

یہ تحریر آپ کے لیے ہے اور ان سب کے لیے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں، جو خواب دیکھتے ہیں، اور جو خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی قسم کھا چکے ہیں۔

تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے

Facebook Comments HS