عاشورہ کی سبیل سے اغوا ہونے والی پریا کماری کہاں ہے؟
19 اگست 2021 کی دوپہر تھی۔ عاشورہ کے دن سکھر کے ایک چھوٹے سے قصبے سنگرار میں نو سالہ پریا کماری اپنے والد راجو مل کے ساتھ امام حسینؑ کے قافلے کی پیاس کی یاد میں سبیل لگا کر عزاداروں کو پانی پلا رہی تھی۔ ہندو اور مسلمان صدیوں سے اس علاقے میں مل کر عاشورہ کے دن سبیلیں لگاتے آئے ہیں۔ مگر اس دن سندھ کی بین المذاہب ہم آہنگی کے اس خوبصورت منظر کو ایک ایسا سانحہ تاریک کر گیا جو آج تک حل نہ ہو سکا۔
پریا کماری سینکڑوں افراد کے ہجوم میں سبیل پر مصروف تھی کہ اچانک لاپتہ ہو گئی۔ نہ کسی نے کچھ دیکھا، نہ پولیس کوئی سراغ لگا سکی۔ تفتیش خاموش، ریاستی ادارے لاتعلق اور متاثرہ خاندان تنہا رہ گیا۔
پریا کے والد راجو مل نے سندھ کے وزیروں، آئی جی سندھ، سپریم کورٹ، وزیراعظم اور آرمی چیف تک ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان کا کہنا ہے، ”اگر خورشید شاہ اور ناصر حسین شاہ چاہیں تو میری بیٹی دو دن میں واپس آ سکتی ہے، مگر سب خاموش بیٹھے ہیں۔“
2022 میں سندھ اسمبلی کے فلور پر وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بیان دیا تھا کہ پریا زندہ ہے اور چولستان میں موجود ہے، جلد بازیاب کر لی جائے گی۔ اس کے بعد بھی اعلیٰ پولیس افسران نے والدین کو تسلیاں دیں، لیکن آج تک کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
روحل کوسو، جو اس وقت لاڑکانہ کے ایس ایس پی تھے، انہوں نے جدید طریقوں سے مرکزی ملزم کرم سندرانی کو کراچی سے گرفتار کیا تھا۔ لیکن راجو مل نے الزام لگایا کہ سکھر پولیس نے مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے رشوت لے کر ملزم کو چھوڑ دیا، اور یوں بچی کی بازیابی کی آخری امید بھی ختم ہو گئی۔
راجو مل سندھ کے ہر احتجاج میں اپنی بیٹی کی تصویر اٹھائے پہنچتا ہے۔ وہ وکلاء کے اس احتجاج میں بھی شامل ہوا جہاں دریائے سندھ پر ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا، ”میں ہر دریا، نہر اور راستے پر اپنی بیٹی کو آواز دیتا ہوں، شاید کہیں سے انصاف کی گونج سنائی دے۔“
راجو مل نے عاشورہ کے دن سبیل لگانا بند نہیں کیا۔ وہ ہر سال امام حسینؑ کے قافلے کی پیاس کی یاد میں پانی پلاتا ہے اور دعا کرتا ہے : ”یا حسینؑ! جس دن آپ کے نام کی سبیل لگائی، اسی دن میری بیٹی چھین لی گئی، ہماری نیاڻی واپس لوٹا دیں!“
کچے کے علاقے سے کبھی کبھار آنے والی نامعلوم کالز میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پریا وہاں ہے، مگر پولیس کہتی ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ لیکن اگر یہ جھوٹ ہے تو پھر سچ کہاں ہے؟ راجو مل اور اس کی بیوی روینا آج بھی یہی سوال دہراتے ہیں : ”ہماری بیٹی کہاں ہے؟“
سوال آج بھی زندہ ہے کہ عاشورہ جیسے مقدس دن پر اگر ایک معصوم بچی محفوظ نہیں، تو سندھ کی صوفی روایت، انسانیت اور ریاستی قانون کہاں ہے؟ دنیا آگے بڑھ چکی ہے، مگر سنگرار کے اس غریب ہندو خاندان کی زندگی 2021 کی اس دردناک دوپہر میں رک گئی ہے۔



