حمیرا اصغر: اے زندگی تیرے انجام پہ رونا آیا
ہم عہد ”بے حسی“ میں جی رہے ہیں، آسائشوں کے انبار ہیں لیکن انسان تنہا ہوتے جا رہے ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت فاصلے تو سمٹ گئے لیکن انسان ایک دوسرے سے کوسوں دوری پر چلے گئے، تنہا موت بھی تو خود کشی کے مترادف ہوتی ہے بلکہ خود کشی سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے، ہائے! اس سے بڑی بے حسی اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان ہجوم میں بھی تنہا رہ جائے اور بنا کچھ بتائے مر جائے۔
ٹی وی اور تھیٹر کی مشہور اداکارہ حمیرا اصغر جو اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے بھی منفرد تھی گمنامی کی موت کا شکار ہو گئی، کئی روز پرانی لاش کراچی کے ایک پوش علاقے ڈیفنس میں ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی، عدالتی حکم پر بیلف کی جانب سے فلیٹ کا دروازہ کھولا گیا تو شدید بو پھیل گئی، اندر سے اداکارہ کی ناقابل شناخت حالت میں لاش ملی جو کہ کئی روز پرانی ہونے کی وجہ سے گل چکی تھی۔
موت کی وحشت اپنی جگہ پر لیکن تنہائی کے کرب ایسا کوئی درد نہیں ہوتا جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے، شنید ہے کہ اداکارہ ایک طویل عرصہ سے تنہا رہ رہی تھی، اس سے پہلے معروف اداکارہ عائشہ خان بھی گمنامی کی موت کا شکار ہوئیں، ایک فلیٹ میں تنہائی کا کرب کاٹتے ہوئے ایک دن مر گئی، کئی روز بعد فلیٹ سے لاش ملی۔
ہائے! یہ کیسا سفاک سماج ہے کہ جہاں انسان گمنامی کی موت مرنے لگے ہیں، یہ کیسی موت ہے جس کا نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی رشتوں کا کوئی ساتھ؟
کچھ روز پہلے ایک فیملی نے اپنی بیٹی کو محض اس وجہ سے موت کی آغوش میں پہنچا دیا کیونکہ وہ ایک ٹک ٹاکر تھی اور اپنے ڈیجیٹل اکاؤنٹ معطل نہیں کر رہی تھی۔
چند روز پہلے ایک اور خوبصورت بیٹی ثناء یوسف بھی ایک ظالم کی سفاکیت کی نذر ہو گئی تھی، بیٹیوں کے لیے یہ سماج اب رہنے کے قابل نہیں رہا، بیٹا جیسا بھی ہو چلے گا لیکن بیٹی پرفیکٹ، عزت و عصمت کے معیار پر پوری اترنے والی ہو ورنہ خاندانی عزت و وقار کی موت ماری جائے گی۔
شنید ہے کہ حمیرا اصغر کے ورثاء نے لاش کی سپردگی سے انکار کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ ان کی فیملی میں ڈاکٹر خاصے ہیں، لیکن حمیرا نے روایتی رجحان سے منہ موڑتے ہوئے آرٹسٹ بننے کا فیصلہ کیا، ممکن ہے اس کا یہ فیصلہ ہی اسے تنہائی میں لے گیا ہو کون جانے؟
یہ کیسا سماج ہے کہ جہاں قل، ساتواں، دسواں، چالیسواں اور سالانہ پر تو مرحوم کی یاد میں طرح طرح کے کھانے پکائے جاتے ہیں لیکن رشتوں کی اہمیت کا یہ حال ہے کہ زندگی میں ہی سب رشتے دار دوسروں کی زندگیوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں، یہ کس طرح کا ظالم معاشرہ بن چکا کہ یہاں مرنے کی اطلاع کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ تعزیتی پیغامات کا ایک سلسلہ چل سکے۔
اس طرح کے بے حس سماج میں بیٹی کے پیدا ہونے پر اس کا کوئی نام رکھنے کی کیا ضرورت ہے بس اس کا نام ہی ”دکھ“ رکھ دیا جائے تاکہ سند رہے۔


