جو نہیں ہے، وہ خوبصورت ہے


ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے

جون ایلیا نے یہ شعر چالیس سال پہلے کہا تھا، مگر ہم نے اسے آج تک زندہ رکھا ہے اور شاید ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ کیونکہ یہ صرف ایک شعر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم کسی کو اُس کے جانے کے بعد ہی کیوں یاد کرتے ہیں؟ اگر ہم اتنی ہی قدر زندگی میں کر لیں، جتنی موت کے بعد کرتے ہیں، تو شاید وہ اتنی جلدی رخصت نہ ہوں۔

حمیرا اصغر کا یہ واقعہ شاید ہمارے بوسیدہ معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ شاید یہ ایک یاد دہانی ہے کہ اب ہمیں اس غفلت کی نیند سے جاگ جانا چاہیے۔ ایک کامیاب اور معروف ماڈل و اداکار، جس کے ہزاروں مداح تھے۔ کئی مہینوں سے مردہ حالت میں اپنے فلیٹ میں پڑی تھی اور کسی کو کوئی خبر ہی نہیں تھی۔ سوشل میڈیا فینز اور ان کے شوبز کولیگز کا تو کیا ہی ذکر کرنا، کیونکہ سوشل میڈیا کی زندگی تو دکھاوے کی زندگی ہے، مفاد کی زندگی ہے۔

مگر کیا اس دنیا میں اس کا کوئی اپنا نہیں تھا؟ ماں باپ، بہن بھائی، کوئی دوست؟ کیا اس کے پاس کوئی ایک بھی فرد نہ تھا جس سے وہ دل کی بات کر سکے، اپنا دردِ دل بیان کر سکے، اپنی سسکتی، دم توڑتی ہوئی زندگی کو بیان کر سکتی، مدد مانگ سکتی، جینے کی کوشش کر پاتی؟ آٹھ، نو ماہ سے اس کا کسی سے رابطہ نہیں تھا۔ نہ کسی نے اس سے رابطہ کیا، نہ ہی اس نے کسی سے۔ ذرا سوچیے، یہ مہینے اس نے کس اذیت میں گزارے ہوں گے؟ ہر ایک لمحہ اسے مرنے پر مجبور کرتا ہو گا۔ پتا نہیں، اس نے خود سے اور موت سے کتنی ہی لڑائیاں کی ہوں گی، مگر بیچاری اکیلی لڑکی کیا کرتی؟ بالآخر، ایک دن ہار ماننا پڑی۔

اور مرنے کے بعد ماں باپ کا ایسا رویہ ناقابلِ یقین ہے۔ وہ باپ جس نے اسے پیدا کیا ہو، انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہو، وہ یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ ”اس کی لاش کے ساتھ جو مرضی کرو، ہمیں فرق نہیں پڑتا“ ؟ چاہے اس نے کتنی ہی نافرمانی کی ہو، ماں باپ کو ناراض کیا ہو، اپنی من مانی کی ہو، کچھ بھی کیا ہو۔ کیا وہ سب باپ بیٹی کے مقدس رشتے سے بڑا ہے؟ یا کیا عزت تیس سال کے پیار سے بڑی ہے؟ کیا اپنے مطابق زندگی گزارنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اگر آپ نے گھر والوں کے خلاف جا کر کوئی کام کیا، تو پھر بے شک آپ مر جائیں اور آپ کی لاش مہینوں کمرے میں پڑی رہے اور گل سڑ جائے، مگر پھر بھی آپ کے اپنے، آپ کے ماں باپ، بہن بھائی آپ کی لاش تک کو وصول کرنے سے انکار کر دیں؟

اب کچھ لوگ یہاں پر کہیں گے کہ اس نے ماں باپ کو ستایا ہو گا، ان کو پریشان کیا ہو گا، ان کی عزت خاک میں ملائی ہوگی، اس نے اس تنہائی کا راستہ خود چُنا ہو گا۔ جو بھی ہے، جیسا بھی ہے، اس نے کیا کیا، وہ الگ بحث ہے۔ لیکن کیا کوئی بھی غلطی اتنی بڑی ہو سکتی ہے کہ مرنے کے بعد بھی انسان اپنوں کے دل میں اپنی عزت نہ بحال کر سکے؟

یہ ہم انسانوں کا بہت بڑا اور تکلیف دہ المیہ ہے کہ ہم لوگ جیتے جی قدر نہیں کرتے اور مر جانے کے بعد پھولوں کے ہار چڑھاتے نہیں تھکتے۔

جون ایلیا نے اس صورتحال کو ایک اور شعر میں کچھ یوں بیان کیا تھا:
خالی خالی جو گھر تھا، اک دم بھر گیا
اداس بیٹھا وہ شخص، کل رات مر گیا

یہ انسانی رشتے آخر کس لیے ہوتے ہیں؟ ماں باپ، بہن بھائی، دوست، کولیگز۔ ان سب کا ہماری زندگی میں کیا مقصد ہے، اگر وہ اُس وقت ہمارے کام نہ آئیں، جب ہمیں ان کی سخت ضرورت ہوتی ہے؟

سمجھ نہیں آتا کہ ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں یا شاید اب ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس قدر مصروف ہو گئے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اپنے، ان کا وجود، ان کی خوشی، معنی ہی نہیں رکھتے۔ ہم پہلے انہیں نظر انداز کرتے ہیں، پھر ان کو اس بے رحم اور ظالم دنیا میں درندوں اور انسانی شکل میں موجود بھیڑیوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس انسان کو اس نہج پر لے جاتے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے آگے صرف اور صرف اندھیرا رہ جاتا ہے۔ وہ کچھ دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔ وہ اتنا اکیلا ہو جاتا ہے کہ اس کی سانسیں اس پر بھاری ہو جاتی ہیں۔ ہر وقت اسے اپنے اردگرد اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔

ہمیں اپنے رویوں پر سوچنا ہو گا۔ اپنی ترجیحات اور روّیوں کو درست کرنا ہو گا۔
ورنہ کل حمیرا اصغر کی جگہ ہم ہوں گے اور ہماری یاد میں ہمارے دوست سوشل میڈیا پر پوسٹس کر رہے ہوں گے۔

Facebook Comments HS