جمعیت علمائے اسلام ۔۔۔ ایک عوامی سیاسی جماعت (2)


پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

2۔ مشرقی اقدار کا تحفظ

انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ جس سرزمین میں پیدا ہو اس کی مٹی، اس کی ریت رواج، اس کی بول چال اور مذہبی اقدار کے ساتھ مضبوط ترین رشتے میں بندھ جاتا ہے۔ پاکستانی خواہ لاس اینجلس اور ایمسٹرڈیم کی روشنیوں میں بستا ہو یا عرب کے ریگزاروں میں، اس کی خواہش رہتی ہے کہ وہ شادی بیاہ سے لے کر مرگ کی رسموں تک کے تمام اہم امورپاکستانی روایات کے مطابق ادا کرے۔ ہر پاکستانی کی خواہش ہے کہ اس کے رہن سہن میں مشرقی اقدار کا رنگ نمایاں ہو۔ جمعیت علماء اسلام اسی مشرقیت کی پرزور وکالت کرتی ہے۔ یہاں ایک نکتہ ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کہ جمعیت علماء اسلام مشرقیت اور مشرقی اقدار کی پرزور وکالت کرنے کے باوجود رجعت پسند پارٹی ہے اور نہ ہی دیگر اقوام اور تہذیبوں سکے ساتھ منافرت روا رکھتی ہے بلکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پاکستانی سماج میں موجود غیر انسانی اور غیر مذہبی رسم و رواج جیسے کاراکاری اور وٹہ سٹہ، خواتین کے ساتھ نا انصافی اور انہیں زمین و جائیداد سے محروم رکھنے جیسی رسموں کو فی الفور ختم کیا جائے لیکن ان ننگ تہذیب رسموں کے خاتمے کے لیے مغربی اقدار کو بھی ہمارے اوپر مسلط نہ کیا جائے۔

اس پس منظر میں جمعیت کا منشور سادہ سا ہے کہ تہذیب و تمدن کل انسانیت کا سرمایہ ہے جس سے استفادہ کرنا چاہیے لیکن کسی بھی بیرونی تہذیب کو من و عن ہمارے سماج پر مسلط نہ کیا جائے۔ جو اصول اور قوانین مغرب یا کسی دوسری تہذیب کے ہاں کامیابی کے ساتھ منطبق ہو کر انسانیت کے لیے اپنی افادیت منوا چکے ہوں انہیں پاکستان درآمد کرنے میں مضائقہ نہیں ہے تا آنکہ وہ اصول و قوانین خلاف انسانیت، خلاف مذہب اور مشرقی تہذیب سے متصادم نہ ہوں۔ یعنی ضرورت پڑنے پر دیگر اقوام و ملل کے تجربات سے استفادہ کیا جانا چاہیے لیکن اس کی بنیاد فلسفہ ضرورت اور خودداری ہو نہ کہ مرعوبیت کہ مغرب کی ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر پاکستان میں لاگو کر دیا جائے۔

3۔ عوامی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے منصوبے

ملکی تعمیر و ترقی اور فلاحی کاموں کے تناظر میں جمعیت علماء اسلام کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جمعیت علماء اسلام ٹیپیکل پروگریسو پارٹی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جمعیت بنی ہی ملکی تعمیر و ترقی کے لیے ہے۔ چشمہ رائٹ بینک کینال، گومل یونیورسٹی اور پیہور کینال جیسے کامیاب منصوبوں کو تو رکھیے ایک جانب اور ڈاکٹر احمد حسین کمال کا یہ پیرا یہ پڑھیے :

صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخواہ) کے خود مختار ترقیاتی ادارے نے جو حال ہی میں قائم کیا گیا ہے اپنا کام شروع کر دیا ہے،یہ ادارہ عوام کی بنیادی ضروریات کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ صنعتی اور زرعی ترقیاتی سکیمیں بھی شروع کرے گا، اس ترقیاتی ادارے نے خزانہ شوگر ملز کے لیے زمین حاصل کر لی ہے، یہ کارخانہ بیلجیئم کی مدد سے قائم کیا جا رہا ہے، اس منصوبے پر سات کروڑ روپیہ خرچ کرنے کا تخمینہ تھا۔ سیمنٹ کارخانہ کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ یہ کوہاٹ میں قائم ہوگا۔ اس منصوبہ پر آٹھ کروڑ روپیہ سے زیادہ لاگت کا اندازہ تھا۔ سوتی کپڑے کے کارخانے کے بارے میں فیصلہ ہوا کہ ایک سوات میں اور ایک دیر میں قائم ہو گا۔ اور ہر کارخانہ پر لاگت کا تخمینہ چار چار کروڑ روپے کا تھا۔ جو دو سال میں مکمل ہونے والے تھے۔ کیمیاوی کھاد کے کارخانہ کے قیام کے لیے چار پانچ سال کی مدت رکھی گئی جس پر آٹھ کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس کو موزوں مقام پر قائم کرنے کا منصوبہ تھا۔ ورسک سٹیل پلانٹ کے نام سے فولاد کا کارخانہ کا منصوبہ زیر تجویز تھا۔ اس پر سترہ کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی بھاپ سے پیدا ہونے والی بجلی کے سٹیشن کے قیام کا منصوبہ بھی زیر غور تھا۔ اور ان تمام منصوبوں پر اخراجات میں زرمبادلہ بھی شامل تھا۔ کاغان، سوات، چترال ، دیر اور کوہستان کے علاقے پن بجلی پیدا کرنے کے لیے موزوں مقامات ہیں اور وہاں اس کے پیدا کرنے کے وسائل بھی ہیں۔ صوبہ سرحد کے ترقیاتی ادارے کا وہاں چھوٹے چھوٹے پاور ہاوس قائم کرنے کا پروگرام تھا، جس سے ایک ہزار پانچ سو دیہاتوں تک بجلی پہنچانے کا انتظام ہو سکتا تھا۔ ایسے ہی کان کنی کے شعبے کو فعال بنانے کے لیے ضروری اقدامات کا فیصلہ ہوا۔ اسی طرح آبنوشی اور آبپاشی کے منصوبے بھی اس ترقیاتی ادارے کے زیر غور تھے۔ آبنوشی کی سکیموں کے لیے حکومت نے دو سال کا عرصہ مقرر کیا۔ جبکہ چشمہ رائٹ بینک کینال کا منصوبہ بھی زیر غور تھا( یہ منصوبہ سالوں بعد حضرت مفتی صاحب ہی کی کوششوں سے منظور ہوا اور آج ہزاروں ایکڑ زمین کو سیراب کر رہا ہے) شروع میں تربیلہ ڈیم سے صوبہ سرحد کے لیے آبپاشی کاکوئی پروگرام نہیں تھا، مفتی صاحب کی حکومت نے وہاں سے پیہور کینال منظور کروائی۔ جس کے لیے وہاں سے ٹنل کا انتظام کیا گیا جس کا نام ’مفتی ٹنل‘ رکھا گیاجو اب بھی موجود ہے۔ کوٹ ادو سے ڈیرہ اسماعیل خان کو بجلی پہنچانے کا بندوبست اور اس کے علاوہ زراعت اور دیہی ترقی کے بے شمار منصوبے بنائے گئے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر احمد حسین کمال مفتی محمود رح کی وزارت کے زمانے کا ذکر کر رہے ہیں۔ آئیے ایم ایم اے دور میں جمعیت کے وزیر اعلی اکرم خان درانی کی کارکردگی پربھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ایم ایم اے کا دور 2003 سے 2008 تک کا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز کے ساتھ ایک نشست میں ہم نے پوچھا کہ آپ نے ایم ایم اے کے دور کو کیسا پایا؟ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے حکومت چونکہ رائٹ ونگ کی حکومت تھی اس لیے اقلیتوں کے ہاں سخت تشویش پائی جا رہی تھی کہ خدا جانے یہ لوگ کس قسم کی قانون سازی کریں گے اور اقلیتوں کے ساتھ ان کا رویہ پتہ نہیں کیسا ہو گا، لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اقلیتوں کے تمام تحفظات اور شکوک و شبہات دور کر دیے، پشاور یونیورسٹی میں ایک تاریخی چرچ موجود ہے، ٹین کی چادر سے بنا یہ چرچ خستہ حال تھا، سردیوں میں ٹھنڈا یخ اور گرمیوں میں جیسے آگ برسائے، ہم نے سوچا کہ اس چرچ کی از سر نو تعمیر کی جائے تاکہ اقلیتوں کو مثبت پیغام ملے چنانچہ ہم نے اکرم درانی حکومت سے درخواست کی اور حیرت انگیز طورپر ناصرف ہماری درخواست فورا قبول کی گئی بلکہ انتہائی کم مدت میں چرچ کی تعمیر نو کر کے ایک شاندار عمارت کھڑی کر دی گئی۔

اسی دور میں اقلیتوں کے لیے کوٹہ کے علاوہ بھی نوکریوں کے حصول کے راستے کھولے گئے جس سے خیبر پختونخواہ کی اقلیتوں میں مسرت و اطمینان کی لہر دوڑ گئی تھی اور بین الاقوامی برادری نے بھی اس اقدام کو حد درجہ سراہا۔ سابق وزیر اعلی اکرم خان درانی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ "ہم نے جیل اصلاحات کیں، ان تمام سزا یافتہ مجرموں کے لیے جن کی مدت قید پانچ سے پچیس سال کے درمیان ہے الگ کوارٹرز بنوائے جہاں وہ تین دن اپنی بیگمات کے ساتھ گزار سکیں، اس سے پہلے پاکستان تو کیا دنیا بھر میں کہیں بھی یہ نظام موجود نہیں تھا۔ کوہاٹ، ہنگو اور کرک میں آئل اور گیس کے ذخائر کی دریافت ہمارے دور میں ہوئی جس سے آج خیبر پختونخواہ کو سینتیس ارب روپے ریوینیو حاصل ہوتا ہے۔ مالاکنڈ تھری کا افتتاح ہمارے دورمیں ہوا جس سے سالانہ تین ارب روپے ملکی خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔ ہم سے پہلے صوبے میں ڈگری کالجز کی تعداد نوے تھی لیکن ہمارے دور کے آخر میں ان کی تعداد بڑھ کر ایک سو چورانوے تک پہنچ گئی ۔ کو ایجوکیشن سے غیر مطمئن عوام کے لیے ویمن میڈیکل یونیورسٹی اور حیات آباد میں ویمن کالج بنایا۔ ہم نے سب سے پہلے تعلیم کے شعبے میں انقلابی اصلاحات متعارف کروائیں ، میٹرک اور ایف اے تک کے طلبہ کو مفت کتابیں فراہم کیں، پڑھا لکھا پنجاب پراجیکٹ بھی اس کے ایک سال بعد شروع ہواتھا”۔

مذہبی پس منظر رکھنے والی جماعتوں پر مشتمل ایم ایم اے حکومت کے بارے میں یہ تحفظات بھی تھے کہ کہیں آثار قدیمہ کو برباد کر دے گی لیکن اکر م درانی نے اپنے دور حکومت میں پشاور میوزیم کی اپ گریڈیشن سمیت پانچ عدد نئے میوزیم بناکر تاریخی و ثقافتی سرگرمیوں کی سرپرستی کی۔ پولیس اصلاحات میں شہید پیکج متعارف کرایا گیا جس کے نتیجے میں جو پولیس اہلکار آن ڈیوٹی شہید ہو جائے اس کی بیوہ کو ساٹھ سال تک پوری تنخواہ ملتی ہے نہ کہ فقط پنشن۔

جمعیت علماء اسلام روز اول سے آج تک کبھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑی نہیں ہوئی اور یہ وہ فیصلہ کن کردار ہے جس نے جمعیت کی عوام میں موجود جڑیں مزید مضبوط کی ہیں۔ کیونکہ جمعیت کی قیادت سمجھتی ہے کہ جمعیت کی کامیابی اسی نکتے میں پوشیدہ ہے کہ جمعیت کا عوام کے ساتھ ربط اور ضبط مضبوط رہے کیونکہ جدید دنیا میں حکمرانی اور آئین و قانون سازی کا اختیار سوائے عوامی طاقت کے اور کسی سہارے سے نہیں مل سکتا اور اگر کسی پارٹی کو یہ اختیارکسی وقتی حادثے کی وجہ سے مل بھی جائے تو وہ پائیدار نہیں ہوگا جیسا کہ عرب بہار جسے بجا طور پر عرب فساد کہنا چاہیے کے نتیجے میں بعض عرب ممالک میں مذہبی جماعتوں کو اقتدار تو ملا لیکن چونکہ اس کے پیچھے عوام کی طاقت نہیں تھی اس لیے ناکامی ان کا مقدر ٹھہری۔۔۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.