جمعیت علمائے اسلام ۔۔۔ ایک عوامی سیاسی جماعت (1)

ہماری تحقیق کے مطابق وہ عوامل مندرجہ ذیل ہیں
1۔ پیٹریاٹزم
جمعیت علماء ہند کے ساتھ فکری روابط کا دعوی کرنے والی جے یو آئی کو وطن پرست جماعت کہنا شاید بہت سے اذہان پر بھاری پڑے کیونکہ جمعیت علماء ہند نے علیحدہ مملکت یعنی قیام پاکستان کی تحریک کی مخالفت کی تھی لیکن اس کے باوجود جے یو آئی وطن پرست جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، کیونکہ جمعیت علماء اسلام اگرچہ اپنا فکری قبلہ و کعبہ شیخ الہند کو مانتی ہے لیکن پاکستان بننے کے بعد جمعیت نے پاکستان ہی کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھا ہے۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ماضی سے کئی مثالیں ہمارے دعوی کو درست ثابت کرتی ہیں جیسا کہ سقوط ڈھاکہ کے دور میں جمعیت علماء اسلام ان سیاسی جماعتوں میں سے ایک تھی جنہوں نے شیخ مجیب اور ذوالفقار علی بھٹو کے تنازع میں ادھرہم اور ادھر تم کا نعرہ لگانے اور عوامی جذبات کے سہارے وقتی فوائد سمیٹنے کے بجائے دو طرفہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ فوجی آپریشن سے پہلے شیخ مجیب اور مغربی پاکستان کے سیاستدانوں کے مابین ٹیبل ٹاک کے جوبھی قابل ذکر دور چلے سب یا تو براہ راست جے یو آئی کی ڈیمانڈ پر ہوئے یا پھر جے یو آئی کی پس پردہ کوششوں کی وجہ سے منعقد ہوئے۔ مفتی محمود اور مولانا غلام غوث ہزاروی نے اس مقصد کے لیے براستہ کولمبو ڈھاکہ کا سفر بھی کیا اور شیخ مجیب کو قائل کرنے کی کوششیں کیں کہ وہ اپنے چھ نکاتی ایجنڈے سے دستبردار ہو جائیں یا اس میں ترمیم پر راضی ہو جائیں۔ قصہ مختصر آخر وقت تک جمعیت کی قیادت اس کوشش میں لگی رہی تھی کہ ملک کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکے۔
سقوط ڈھاکہ اور قیام بنگلہ دیش ہی سے جڑا ایک اور بڑا مسئلہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا تھا۔ سن اکہتر میں پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا تھا۔ ہزاروں فوجی بھارتی جیلوں میں، ملک کا مشرقی حصہ جدا، مغربی بارڈر پر افغانستان کا خطرہ جو اس وقت اینٹی پاکستان پالیسی پر عمل پیرا تھا، مشرقی بارڈر پر بھارت۔ الغرض پاکستان چہار جانب سے خطروں میں گھرا ہوا اور عالمی برادری کی نظر میں بے گناہ بنگالیوں کے خلاف مسلح آپریشن کرنے کی وجہ سے قصور وار بھی ڈیکلیئر کیا جاچکا تھا۔ ایسے میں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا وہ کڑوا نوالہ تھا جسے نگلنا مشکل تھا تو اگلنا ناممکن۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی پاکستان کی قیادت نے ناصرف یہ کہ بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ ان ممالک کے سفیروں تک کو ملک بدر کر دیا تھا جنہوں نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا تھا۔ یوں پاکستان انتہائی خطرناک سفارتی تنہائی کی جانب چل پڑا تھا لیکن جمعیت کی قیادت نے اس کڑے وقت میں بھی ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس غیر اخلاقی اور سراسر جذباتی فیصلے کے خلاف مزاحمت کی اور حکمرانوں پر زور دیا کہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے والے ملکوں کے سفیروں کو فوری طور پر واپس بلایا جائے کیونکہ ہم بنگلہ دیش کو تسلیم کیے بنا بھی ان ممالک کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھ سکتے ہیں جو اسے تسلیم کر لیں۔ مولانا غلام غوث ہزاروی نے اس موقع پر دلیل دی تھی کہ جیسے ہم ایران کے ساتھ برادرانہ مراسم قائم رکھے ہوئے ہیں باوجود اس کے کہ اس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے جبکہ ہم اسرائیل کے وجود کے خلاف ہیں بالکل اسی طرح ہمیں ان ممالک کے ساتھ بھی سفارتی و تجارتی تعلقات بحال رکھنے چاہئیں جو بنگلہ دیش کے بارے میں ہمارے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔
جمعیت علماء اسلام کی وطن پرستی اور نظریاتی اقدار کے مابین تصادم کی ایک صورت اس وقت پیدا ہوئی تھی جب ریاستی اداروں نے افغانستان میں سیکیورٹی ڈیپتھ کے نام پر پراکسی وار شروع کی۔ یہ ایسا موقع تھا جہاں جمعیت کو ملکی مفاد کے مقابلے میں اپنے فلسفہ عدم تشدد کی قربانی دینی پڑی اور ملک کے وسیع تر مفاد میں جمعیت نے افغان طالبان کی حمایت کی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے پالیسی ساز اداروں کی نا اہلی کی وجہ سے اس پالیسی کا انجام مفید انداز میں نہ ہو سکا اور آج ہم اس کے تباہ کن نتائج کا سامنا کر رہے ہیں۔ کچھ اسی طرح کی سچویشن اس وقت بھی پیدا ہو گئی تھی جب وطن عزیز کے خلاف چند گمراہ کن لوگوں نے مسلح تحریک شروع کی اور اپنی ظالمانہ تحریک کے لیے مذہب کا سہارا بھی لیا۔ جمعیت اگر اس وقت مذہبی گروہوں کے پریشر تلے آ جاتی تو آج دہشت گردی کا ناسور اپنی موجودہ کمیت سے کہیں بڑا ہوتا لیکن جمعیت علماء اسلام کی قیادت نے ملکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان تحریکوں کی کھلے عام مخالفت کی جس کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن پر خود کش حملے تک ہوئے لیکن مولانا نے حب الوطنی کو اپنی ذات سے مقدم رکھا اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔
(جاری ہے)


Comments are closed.