ایک دن، سب ہمیشہ سے ہی اس (نسل کشی) کے خلاف رہے ہوں گے!
عمر ال اقاد ایک مصری نژاد کینیڈین ادیب اور رپورٹر ہے جو اب امریکہ میں رہتا ہے۔ اس مضمون کا عنوان اُس کی غزہ میں جاری نسل کشی اور مغربی حکومتوں کی بے حسی پر لکھی کتاب کے ٹائیٹل کا ایک جزو ہے۔ اس کتاب کا مکمل عنوان ہے ؛ ’ون ڈے، وہن اٹس سیف، وہن دئیر از نو پرسنل ڈاؤن سائیڈ ٹو کالنگ آ تھنگ وٹ اٹ از، وہن اٹس ٹو لیٹ ٹو ہولڈ اینی ون اکاؤنٹیبل، ایوری ون ول ہیو آلویز بین اگینسٹ دس‘ ۔ (ایک دن، جب کوئی خطرہ نہیں ہو گا، جب کسی چیز کو اُس کی اصل سے شناخت کرنے کی کوئی ذاتی قیمت نہیں چکانی پڑے گی، جب کسی کو اُس کا ذمہ دار قرار دینے میں بہت دیر ہو چکی ہو گی، سب ہمیشہ سے ہی اُس کے خلاف رہے ہوں گے ) ۔
یہ عنوان عام طور پر کسی کتاب کے ٹائیٹل سے بہت لمبا ہے لیکن فلسطین میں تقریباً 100 سال پہلے شروع ہوئے استعماری پراجیکٹ، اُسکے نتیجہ میں فلسطینیوں کی زمین پر اسرائیل کے قبضے، نسلی عصبیت کی پالیسیوں اور اب مقامی لوگوں کی نسل کشی کے مراحل کا اچھا نمائندہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ اس تسلط کے خلاف اسرائیلی ٹینکوں پر پھینکے گئے پتھروں، اختلاف میں فلسطین کے اندر اور باہر سے اٹھائی گئی آوازوں اور ایسی کسی بھی مزاحمت کی بہت سوں کی طرف سے چکائی گئی ذاتی قیمت کا بھی عکس ہے۔ لیکن عمر کے مطابق یہ کتاب اس سب کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں بھی ہے۔
عمر لکھتا ہے کہ مغربی لبرل ازم کا مفروضہ استعمار کے نشانے پر آئے لوگوں کی طرف سے اُس وقت میں صرف ایک ٹوکن اختلاف کی توقع کا ہے۔ جب ایک خوفناک تسلط چل رہا ہو، دوسروں کی زمین چرائی جا رہی ہو اور مقامی لوگوں کا قتل جاری ہو تو کوئی بھی مزاحمت دہشت گردی ہے جس کا تہذیب کو بچانے کی خاطر کچلنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن جب دہائیاں یا صدیاں گزر چکی ہوں، کافی زمین چُرائی اور مقامی مارے جا چکے ہوں، تو اُسی مزاحمت کو مغربی لبرل ازم تعظیم دے دینے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا۔
8 اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں حماس کا آپریشن، ایک ایسی تنظیم کی طرف سے حملہ تھا جو صرف مستقبل سے مایوس جگہ میں ہی پرورش پا سکتی ہے۔ اُسکے جواب میں اسرائیل کی مغربی لبرل جمہوریتوں میں سے کثیر کی مدد سے شروع کی گئی نسل کشی کی کمپیئن میں غزہ کے تمام 2 ملین سے اوپر لوگ بے گھر ہو چکے اور تقریباً تمام سکول، ہسپتال اور یونیورسٹیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ جان بوجھ کر تباہ کیا گیا انفراسٹرکچر اور روکی گئی غذائی امداد کی وجہ سے قحط کی صورتحال ہے اور بیماریوں سے اموات ہو رہی ہیں۔ لوگوں کو اُن کے رہائشی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقلی پر مجبور کرنے کے بعد انہیں پھر وہیں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عمر مزید کہتا ہے کہ جب بھی یہ سب دوبارہ ہو گا جو کہ لازم لگتا ہے کیونکہ لوگ تسلط کا شکار ہیں اور اپنے دفنائے بچوں کے انتقام اور اُسکے نتائج کی طاقتیں مختلف صورتیں لیتی رہیں گی تو واقعات کی پہلی فریمنگ ہی دوبارہ کام آ جائے گی۔ یعنی وحشی اکساتے ہیں اور تہذیب یافتہ مجبوراً جواب دیتے ہیں۔ ایسے واقعات کا تاریخی آغاز ہمیشہ ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے جس میں ایک ہی سائیڈ ہمیشہ پہلے اکساتی ہے اور دوسری اپنے جواب میں ہمیشہ حق بجانب ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ غزہ میں چل رہی جنگ کی نسل کشی جیسے الفاظ سے شناخت جو آج مغربی حکومتوں اور میڈیا کے لئے بہت ناخوشگوار ہے، گزرتے وقت کے ساتھ متنازعہ نہیں رہے گی۔ جب وقت کے ساتھ سب اس نسل کشی سے ایک محفوظ فاصلہ پر پہنچ چکے ہوں گے تو ہر ایک حیران ہو گا کہ یہ سب کیسے ہو لینے دیا گیا۔ لیکن اس وقت میں اُس سے منہ پھیرے رکھنا کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ بس وقتاً فوقتاً اس چیز کو، جس کی اصل کے بارے میں کبھی شک نہیں تھا، چیک کرتے رہنا کافی ہے کہ اب تک یہ مہذب معاشرہ کے لئے کہیں زیادہ پریشانی کا باعث تو نہیں بن چکی۔
عمر کے خیال میں مغربی لبرل ازم کی تعریف اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ یہ اپنی اصل میں منفعت کا لین دین ہے۔ اپنی روشن خیالی اور عظمت کے تصور میں کھویا ایسا بے آہنگ نظریہ جو سمجھتا ہے کہ استعمار سے پسے ہوئے دُور لوگوں سے ہمدردی اور اُسی استعمار سے فائدہ اٹھاتے رہنے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جیسے امریکی وائٹ ہاؤس میں اُس وقت کے مقیم (ڈیموکریٹک صدر) کو غزہ میں ہلاک ہوئے بچوں کی تصاویر دکھانے سے کسی اچھے کی امید رکھنا؛ لیکن شاید اُس وقت میں مرے ہوئے بچوں سے کوئی منافع بخش لین دین ممکن نہیں تھا۔
یہ کتاب عمر کے اپنے الفاظ میں غزہ میں جاری نسل کشی کا اکاؤنٹ نہیں ہے۔ یہ ایک بالکل روکی جا سکنے والی اُس چیز کا ذکر ہے جس نے ایک پوری نسل، چاہے ناصرف وہ عرب یا مسلم یا براؤن ہو بلکہ ساری دنیا میں کہیں بھی رہنے والے کیسے ہی لوگ ہوں، کا (دنیا کے بارے میں ) تصور یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ یہ چیز وہ فریکچر ہے جس نے اس نسل کو مغربی لبرل ازم پر یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا وہ کبھی بھی کسی اخلاقی، قانونی یا انسانی حقوق کے نظریہ پر قائم تھی؟
وہ لکھتا ہے کہ دنیا کے ایک قانونی نظام کے تحت کام کرنے پر اعتبار، روز مرہ کی مایوسیوں کو نظر انداز کیے جانے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس اعتبار کے لئے کسی آئینی تشریح پر انحصار کافی نہیں ہوتا بلکہ سیاسی مفاد پرستی اور کرپشن کی مایوسیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس چیز پر یقین کرنا پڑتا ہے کہ اس نظام کی جڑ میں کچھ مضبوط موجود ہے۔ لیکن پھر بھی ہر نسل کے لئے ایک موقع ایسا آ جاتا ہے جب یہ آشکار ہوتا ہے کہ اس نظام کی جڑ حقیقتاً بالکل کھوکھلی ہے اور بس طاقت اور وسائل کے حصول اور اس کی حفاظت پر مرکوز ہے ؛ تاریخ ایسے مواقع اور لمحات سے بھری ہے۔
وہ لمحات جو مصر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں انگریز اور فرانسیسی استعماری افواج کے ساتھ آئے، ساؤتھ امریکہ کے کئی ملکوں، ایران، ویتنام اور کمبوڈیا میں حکومتوں کے گرائے جانے کی شکل میں پیدا ہوئے یا مقامی لوگوں کے (طاقت اور وسائل کے حصول کی دوڑ میں ) مٹا دیے جانے کی شکل میں سامنے آئے۔ چاہے ایسے سب مواقع پر قتل ہوئے لوگوں کی تعداد مختلف تھی مگر ایک قدر مشترک بھی تھی اور وہ یہ کہ کسی بڑے فائدے کی غرض سے اُن مقامی لوگوں کو صرف اُس لمحہ کے لئے انسان نا سمجھنا۔
ایک نئی نسل کے لئے وہی لمحہ پھر آن پہنچا ہے۔ مغرب کی جمہوریتوں کا غزہ میں جاری نسل کشی کی اس مہم کی حمایت اور اسے فنڈ کرنا صرف ایک گزرتا ہوا مایوس کن یا اشتعال انگیز موقع ہی نہیں بلکہ ایک فریکچر یا اختتام ہے۔ جو غزہ میں ہُوا ہے وہ بطور اُس لمحہ کے یاد رکھا جائے گا جس میں لوگ مغرب کی طرف ایک قانونی اور اخلاقی نظام کے اطلاق کی امید میں دیکھ رہے تھے لیکن لبرل ازم کا لبادہ اوڑھے ہُوا مغرب دوسری طرف دیکھ رہا تھا۔
تو عمر ال اقاد کے اپنے الفاظ میں اُس کی یہ کتاب اس اختتام کی کہانی بھی ہے۔


