اپنے ہی گھر میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گواہیاں


بچوں اور خاص طور پر بچیوں کے ساتھ اپنے ہی گھر میں اپنے سگے رشتہ داروں کے ہاتھوں جنسی تشدد اور جنسی زیادتی پر ایک مضمون ’ پاکستان میں Incest کا مسئلہ اور جج صاحب کا بیان‘ دو دن قبل ’ہم سب‘ پر شائع ہوا تو ایک دن میں ہی بہت گواہیاں اکٹھی ہوگئیں۔ سوچا ان میں کچھ اہم اور مفید معلومات کو کمنٹس کے اندر سے چن کر ایک آرٹیکل کی صورت میں محفوظ کر دیا جائے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ صرف ایک کمنٹ مخالفت میں آیا ہے جس میں اس آرٹیکل کو ’فارن ایجنڈا‘کہا گیا ہے۔

(جہاں انگریزی میں لکھا تھا وہاں اردو ترجمہ کیا گیا ہے۔ البتہ زبان کی درستگی نہیں کی جیسا کمنٹ تھا ویسا ہی لکھ دیا ہے۔ رازداری کی خاطر کچھ جگہوں پر صرف لوگوں اور جگہوں کے ناموں کو بدل دیا ہے)

***   ***

Malik Omaid
میں ذاتی طور پر خود ایسے ایک کیس کا گواہ ہوں، باپ بڑی بیٹی سے زیادتی بھی کرتا تھا اور شادی بھی نہیں ہونے دیتا تھا، لڑکی نے نہ صرف گھر سے نکل کر شادی کی بلکہ تمام عزیز، رشتے دار دوست سب کو چھوڑ دیا کہ کہیں یہ بات اس کے شوہر تک نہ پہنچ جائے۔
Adeel Saeed · University of Karachi
میری نظر سے بھی ایسا ایک واقعہ گزرا ہے
Muhammad Ali ·
Information systems technician at Maple Leaf Cement Factory Limited
شاید محترم حنیف صاحب اب تک خاموش رہنے والے قلم کو طعنہ دے دے رہے ہیں۔یہ مسئلہ ایک پوشیدہ جگہ سے پیپ رستا ہوا معاشرتی ناسور ہے ۔اب ضرورت ہے کہ قلم کی نوک کے دباﺅ سے اس پھوڑے سے گندگی کا اخراج کرنے کی فرسٹ ایڈ کی جائے۔
Agha Muhammad Ayaz
بھائی کا قتل اور لڑکی کا ٹی بی سے مر جانا , یہ عظمیٰ ایوب کی کہانی لگتی ہے , نہایت افسوسناک۔ ایسی کئی کہانیاں ہمارے اردگرد موجود ہیں لیکن آپ بہادر نکلے کہ آواز اٹھا دی۔ سب کچھ جاننے کے باوجود یہ موضوع ایسا ہے کہ کوئی بھی اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔
WB
at Sir asa case aik hmaray district me bi hoa aur registered bi hoa likn logo ne bdnami ka khof dila kr case ki nature change krwai aur phr case hi khtm krwa dia.
ایسا ایک کیس ہمارے ضلع میں بھی ہوا تھا، رجسٹر بھی ہوا تھا۔ لیکن لوگوں نے بدنامی کے خوف سے کیس کی نوعیت بدل دی اور بعد میں کیس ختم ہی کروا دیا۔
Raja Mehtab Ali · University of the Punjab
ایسے مسائل کا حل بھی تجویز کریں، یہ معاملات پڑھے لکھے اور ان پڑھ ہر قسم کے طبقات میں پائے جاتے ہیں وہ امیر ہوں یا غریب، حل کیا ہے،، چائلڈ ابیوز کا شکار اپنی حفاظت کے لیے کسے آواز دے، کسے مدد کے لیے پکارے،، کیا معاملہ معاشرتی رویوں سے جڑا نہیں۔
AAjaib ·
Faculty Member at University of Arid Agriculture, Rawalpindi
بہت اہم موضوع ہے۔ میں نے بحیثیت سائیکالوجسٹ ایسے کئی کیسز دیکھے ہیں۔ ایک کیس میں سات بہنوں کا باپ اپنی بیوی پر تشدد کرنے کے لئے اسے کہتا تھا بتا آج تیری کس بیٹی کے ساتھ سوؤں۔ اور پھر کسی بھی ایک بیٹی کو گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے جاتا تھا اور باقی تمام بیٹیاں اور ماں سہم کر یہ ظلم برداشت کرتی تھیں۔ اور یہ واقعہ پنڈی کا ہے۔ لیکن آپ کے آرٹیکل کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس گھناؤنے جرم پر سب آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں۔ سب سے پہلے اس جرم کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
Agha Muhammad Ayaz
اگر آپ فیس بک پر ڈاکٹر شازیہ نواز کو سرچ کریں تو انکے پیج پر ایسی کئی کہانیاں ملیں گی اور یہ ضروری نہیں کہ اس طرح کے واقعات کا شکار صرف خواتین ہوتی ہیں بلکہ آپ کو متبادل واقعات سے بھی آگاہی ہوگی۔ بہت کچھ پڑھنے کے بعد مجھے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ خاموش رہنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ اگر ہے تو صرف یہ کہ سوتے میں بھی آنکھیں کھول کر سوئیں۔
Shazia Akhtar · University College Dublin
میں نے ایسے بیشمار کیس اپنے کلینیکل کام میں دیکھے ہیں اور اس ایشو پر تو ایسے ایسے والدین ملے جو مل جل کر اپنے بچوں کا جنسی اسحتصال کرتے ہیں ، بیٹے اور بیٹیوں کا۔ مولانا اصحاب سے گزارش ہے کے اس مسئلے سے نظریں چرانے کی بجائے اس کو اپنے جمعہ کی خطبات کا موضوع بنائیں تاکہ معاشرے کو سدھارنے کی ذرا سے کوشش ہو سکے۔
Hafeez Kumbhar · Assistant professor at Govt.Muslim Science Degree College
سندھ میں بھی ایسے کیسز اخبارات میں رپورٹ ہو چکے ہیں، مگر جہاں اور جنسی ٹیبوز ہیں وہاں یہ بھی ٹیبوہے اور اس حقیقت کے ہوتے ہوئے اس پر بات نہ کی جائے
SN · Works at Public Sector Government Organization
Hum kafi kuchh janty hain mere smait but iss forum main nahi bta sakty kuchh zati tajarbat b
ہم کافی کچھ جانتے ہیں میرے سمیت لیکن اس فورم میں نہیں بتا سکتے، کچھ ذاتی تجربات بھی
MS · Goverment post Graduate College for women
meray samny kye iesay casesehain jin main kahen saga bap,kahen soteka bap our saga bahye ki waja se ladkiyaan pregnent ho gye our unki maaen bhi janti hain lekin izat kay khof se is bat ko khamoshi se seh bhi gyeen,kuch cases esay bhi hain jin main saas our daamd kay dermyan taluqat ki bina pr brtiyon kp berdasht kerna prdta hay our woh kisi ko keh bhi nhi sakti kh unki sagi maan kis qabeg=h fail ki murtkib ho rahi hay.
میرے سامنے بھی کئی ایسے کیسز آئے ہیں جن میں کہیں سگا باپ، کہیں سوتیلا باپ، یا سگے بھائی کی وجہ سے لڑکیاں حاملہ ہو گئیں۔ ان کی مائیں بھی جانتی ہیں لیکن عزت کے خوف سے بات کو خاموشی سے سہہ گئیں۔ کچھ کیسز ایسے بھی ہیں جن میں ساس اور داماد کے درمیاں تعلقات کی بنا پر بیٹیوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں کہ ان کی سگی ماں قبیح فعل کی مرتکب ہو رہی ہے۔
Ubaid Ullah Chaudhry
یہ مسلئہ اس سے کہیں زیادہ ہے جس کا اس مضمون میں ذکر کیا گیا ہے۔ میں 2004 ءمیں ایسی ہی ایک بڑی سٹسڈی کا حصہ رہا ہوں جو جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی سٹڈی تھی۔ پاکستان کے کئی مخصوص علاقوں میں تقریبا ہر 50 میں سے 3 گھرانے اس کا شکار نظر آ رہے تھے۔ اس کے علاوہ سوتیلی ماں سے زبردستی کے تعلقات، خاص کر کے سوتیلی بہنوں سے جنسی زیادتی کے واقعات زیادہ عام ہیں۔ لاہور میں ایک کرسچن وکیل دوست نے بھی کئی مسلم گھرانوں کے کیسز کے بارے میں بتایا۔ میں حیران تھا کہ اگر کوئی بیٹی ہمت کر لیتی ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف کھڑی ہو گی تو پھر ایک کرسچن وکیل ہی کیوں ؟ جناب جیسے ہم اس مسئلے پر بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں اسی طرح مسلمان وکیل اور جج بھی اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ہمیں یہ کہہ کر رپورٹ شائع کرنے سے روک دیا گیا کہ اس سے پاکستان کا روشن پہلو مجروح ہو جائے گا۔ یعنی کہ ہمارا قومی وقار اب بچیوں سے ہونے والے ظلم پر پردہ داری سے ہی جڑا ہوا ہے۔ جب تسلیم ہی نہیں کرنا کہ مسئلہ ہے تو اس کے حل کا سوچنا درکنار ہے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik