ڈالر کی بادشاہت: دیکھئے کون کس پر غالب آتا ہے


یورپ کے اہم ملکوں کو دوسری جنگ عظیم میں شدید نقصان پہنچا جس کے سبب وہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نوآبادیوں پر اپنا قبضہ برقرار نہ رکھ سکے اور قومی آزادی کی تحریکوں کے سامنے پسپا ہونے لگے۔ اگرچہ دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین نے اتحادی طاقتوں کے ساتھ مل کر محوری طاقتوں کی شکست میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن یہ دوستانہ تعاون دیرپا ثابت نہیں ہو سکا کیونکہ سوویت یونین نے آزادی کی تحریکوں کی زبردست حمایت شروع کر دی جس سے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔ اس وقت سویت یونین، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کا ہم پلہ نہیں تھا اور فوجی اعتبار سے مغرب کے لئے بڑا خطرہ نہیں بنا تھا۔ اس لیے سرد جنگ میں بھی زیادہ شدت پیدا نہیں ہوئی۔

تاہم، سوویت یونین نے 5 اکتوبر 1957 کو اچانک دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ سپوتنک۔ 1 زمین کے مدار میں بھیج کر امریکہ اور یورپ کو شدید حیرت اور خوف میں مبتلا کر دیا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سوویت یونین کی اس غیر معمولی کامیابی کے بعد امریکہ نے عالمی سطح پر پہلی بار اسے اپنے لئے فوجی، سیاسی اور معاشی طور پر ایک حقیقی خطرہ سمجھنا شروع کر دیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان خلائی دوڑ کا آغاز ہوا۔ جنون کی حد تک پہنچے والے مقابلے کے باعث سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ترقی کا عمل کافی تیز ہو گیا جس نے بعد ازاں، ٹیکنالوجی کے اس حیرت انگیز انقلاب کو جنم دیا جو 21 ویں صدی کے آغاز سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس انقلاب نے عالمی جنوب کے غریب ملکوں میں معاشی ترقی کے حیرت انگیز معجزے رونما کر دیے اور دنیا میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی۔

معاشی طور پر ابھرتے ہوئے یہ ملک سرد جنگ دور کی دو قطبی دنیا کے تلخ تجربے سے گزر چکے ہیں لہٰذا وہ موجودہ دور کی دو عظیم معاشی اور فوجی طاقتوں، امریکہ اور چین میں سے کسی طاقت کا مہرہ نہیں بننا چاہتے۔ انہیں علم ہے کہ اب وہ خود ترقی یافتہ ممالک کی ضرورت بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور روس برکس کے اہم اور بانی رکن ہیں لیکن اس تنظیم میں ان کو ویٹو کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ یہ دونوں طاقت ور ملک جانتے ہیں کہ سرد جنگ کے بعد اس عالمی سیاسی اور معاشی نظام کی گرفت کمزور ہو رہی ہے جس پر امریکہ کی بالا دستی تھی اور توانائی کے لیے جس کا انحصار تیل اور گیس جیسے مہنگے قدرتی ایندھن پر تھا۔ اب انتہائی سستی ماحول دوست متبادل انرجی تیزی سے اس کی جگہ لے رہی ہے۔ اسی باعث، برکس میں شامل ملک سولر انرجی کی پیداوار اور استعمال میں برق رفتار اضافہ کر رہے ہیں۔ چین نے 1 ٹیرا واٹ (TT) شمسی توانائی پیدا کر کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بھارت 119 گیگا واٹ (GW) پیدا کر کے عالمی درجہ بندی میں چوتھے درجے پر آ گیا ہے۔ قابل تجدید صاف توانائی کے اہم ذرائع میں سولر، ونڈ، ہائیڈرو، جیو تھرمل اور بائیو ماس شامل ہیں۔ یورپی یونین کے بعد برکس کے ملک دنیا میں سب سے زیادہ قابل تجدید توانائی پیدا کرتے ہیں۔ برازیل اپنی توانائی کی کل ضرورت کا 80 اور ایتھوپیا 100 فیصد مذکورہ ذرائع سے پوری کرتا ہے۔ یہ ملک اب برکس کی شکل میں، مغرب کی جانب سے دنیا پر 80 سال سے نافذ غیر منصفانہ عالمی معاشی نظام کی جگہ ایسا متبادل نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں جس پر نہ کسی ایک ملک کی بالادستی ہو اور نہ ہی جسے تجارتی اور اقتصادی پا بندیوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

مذکورہ بالا حقائق کے تناظر میں برازیل کے دارالحکومت ریوڈی جینرو میں منعقد ہونے والا برکس کا 17 واں سربراہی اجلاس انتہائی غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ بیسویں صدی کے ازکار رفتہ ہوتے عالمی معاشی، تجارتی اور سیاسی نظام کے بطن سے جو نیا عالمی نظام جنم لے رہا ہے اس کی تشکیل میں برکس ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس بین الاقوامی تنظیم کے دس مکمل ارکان میں برازیل، روس، انڈیا، چین، جنوبی افریقہ، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران، ایتھوپیا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ تنظیم کے دس پارٹنر ملکوں میں کیوبا، بیلاروس، ملائشیا، قازقستان، نائجیریا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، ویت نام اور ازبکستان شامل ہیں جب کہ الجیریا اور ترکی کو مبصر پارٹنر ملک کا درجہ دیا گیا ہے۔

عالمی جی ڈی پی میں دنیا کے ترقی یافتہ ترین سات ملکوں (جی۔ 7 ) کے 30 فیصد کے مقابلے میں برکس ممالک کا حصہ 44 فیصد ہے۔ یہ تنظیم دنیا کی 56 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ جی سیون ملکوں میں دنیا کی صرف 10 فیصد آبادی رہتی ہے۔

برکس کے سربراہی اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن ذاتی طور پر شریک نہیں ہوئے۔ وہ یوکرین میں فوجی کارروائی کے باعث انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو مطلوب ہیں۔ برازیل Rome Statute کا دستخط کنندہ اور کورٹ کے جاری کردہ وارنٹ پر عمل کا پابند ہے۔ لہٰذا صدر پیوٹن نے برازیل کے سفر سے گریز کیا۔ صدر پیوٹن نے برکس سربراہی اجلاس سے وڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا کہ 2024 میں روس اور برکس ممالک کے درمیان تجارت کی 90 فیصد ادائیگی قومی کرنسیوں میں کی گئی ہے۔ صدر پیوٹن عالمی تجارتی نظام پر ڈالر کی بالادستی کے سخت خلاف ہیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ کی نمائندگی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے کی۔ سربراہی اجلاس کے افتتاحی خطاب میں برازیل کے صدر لوئس لولا نے بڑا جارحانہ انداز اختیار کیا۔ انہوں نے امریکی صدر کا نام لیے بغیر کہا ’برکس ممالک کسی ”بادشاہ“ کے تحت زندگی نہیں گزارنا چاہتے‘ ۔ دو روزہ اجلاس کے اختتام پر انہوں نے کہا ”ہم خود مختار قومیں ہیں اور کسی“ شہنشاہ ”کو نہیں مانتے“ ۔ اس سربراہی اجلاس میں رکن ممالک نے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر امریکہ کی تجارتی پالیسی پر سخت تنقید کی اور اسے غیر قانونی کہہ کر دنیا کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے چند گھنٹوں کے اندر اس کا جواب دے دیا اور اعلان کیا کہ جو بھی ملک امریکہ مخالف پالیسیوں کی حمایت کرے گا اس پر 10 فیصد اضافی ٹیکس لگا دیا جائے گا۔ انہوں نے برازیل کے صدر کی تنقید کا حساب چکاتے ہوئے ان پر ملک کے سابق صدر جیر بولسو نارو سے خوفناک سلوک کرنے کا الزام لگا دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ’میں ڈالر کا تحفظ کروں گا‘ انہوں نے مزید کہا ”جو ملک ڈالر کی عالمی ریزرو کرنسی ہونے کے خلاف ہیں انہیں ٹیرف اور سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈالر کی موجودہ حیثیت کا ختم ہونا، ہمارے لیے کسی معمولی نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی جنگ میں شکست کے مترادف ہو گی۔ اگر ایسا ہو گیا تو ہم وہ ملک نہیں رہیں گے جو آج ہیں۔ ہم ایسا بالکل نہیں ہونے دیں گے۔ ڈالر بادشاہ ہے اور بادشاہ رہے گا۔“

برکس کے 17 ویں سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ ان معاشی اور سیاسی تبدیلیوں کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے جو عالمی منظر نامے میں رونما ہونے والی ہیں۔ اعلامیے میں مغرب اور امریکہ کی بالادستی والے عالمی معاشی و سیاسی نظام، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ڈبلیو ٹی او سمیت دیگر اداروں بشمول اقوام متحدہ میں اصلاحات کے ذریعے منصفانہ توازن پیدا کرنے اور عالمی جنوب و مشرق کے ملکوں کو نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ڈالر کو سیاسی استعمال اور پابندیوں کے اطلاق سے روکنے کے لئے برکس ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت میں ادائیگیاں قومی کرنسیوں میں کرنے اور مقصد کے لیے ڈیجیٹل نظام کو مزید موثر اور تیز رفتار بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں امریکہ اور مغرب کے حوالے سے سخت الفاظ کے استعمال اور کسی ملک کا نام لینے سے گریز کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کی مذمت اور اس میں ملوث دہشت گرد تنظیموں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ پہلگام دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ ایران پر حملوں کو بین اقوامی قوانین کی خلاف ورزی کہا گیا ہے تاہم، اسرائیل اور امریکہ کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ یوکرین پر روسی فوجی کارروائی پر خاموشی اختیار کی گی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کو مستقبل کے فلسطین کا حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔

برکس کا اعلامیہ 31 صفحات پر مشتمل ہے، اعلامیے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی غرض سے کئی مہینوں تک دو سو اجلاس منعقد کیے گئے۔ اس دوران باہمی تعاون کے لیے دو سو طریق کار بھی تیار کر لیے گئے۔ اس سنجیدہ مشق سے ظاہر ہوتا ہے کہ برکس ممالک ایک متبادل کثیر الجہتی منصفانہ عالمی معاشی اور سیاسی نظام کے قیام کو کس قدر اہمیت دے رہے ہیں۔ برکس سربراہی کے اختتام پر دنیا کے سامنے فریقین کا جو موقف سامنے آیا ہے اس کا خلاصہ کچھ یوں ہو گا۔

ایک کا دعویٰ ہے ’ڈالر بادشاہ ہے، بادشاہ رہے گا‘ مدمقابل کا اعلان ہے ’ہم کسی بادشاہ کو نہیں مانتے‘ ۔ تاریخ کے ارتقائی عمل کے اپنے اسرار و رموز ہیں۔ دیکھئے کون کس پر غالب آتا ہے۔

Facebook Comments HS

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

nadeem-akhtar-sindh has 19 posts and counting.See all posts by nadeem-akhtar-sindh