افواہوں کے بازار میں سچائی کی تلاش


مجھے آج بھی اپنی دادا کی وہ نرم اور گہری آواز یاد ہے، جب وہ کہا کرتے تھے کہ ”سنی سنائی بات پر کبھی یقین مت کرنا۔ پہلے پتا کر لینا کہ بات کی تہہ میں کیا ہے۔“ تب میں بچہ تھا، سمجھ نہیں آتا تھا کہ دادا کیوں بار بار یہی نصیحت کرتے ہیں۔ مگر آج، جب سوشل میڈیا کی دنیا ہر لمحے ہمارے ہاتھوں میں سانس لیتی ہے، تب جا کر دادا کی بات کا مطلب دل پر نقش ہو گیا ہے۔

ہم برصغیر کے لوگ صدیوں سے کہانیوں، قصوں، روایتوں اور چٹپٹی خبروں کے شوقین رہے ہیں۔ ہمارے مزاج میں ایک عجیب سا ”چسکا“ پایا جاتا ہے۔ بات چاہے سیاسی ہو یا مذہبی، فلمی ہو یا ذاتی زندگی کی، ہمیں ہر خبر میں سنسنی اور مصالحہ چاہیے۔ یہ عادت نئی نہیں۔ تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھ لیں، ہندوستان کے راجے مہاراجے بھی افواہوں کے جال میں پھنسا کرتے تھے۔ دربار میں سازشیں ہوتیں، غلط خبریں پھیلائی جاتیں، اور کئی بار فیصلے محض سنی سنائی باتوں پر کر دیے جاتے۔ بعض اوقات پورا راج پاٹ ایک افواہ کے طوفان میں ڈوب جاتا۔ بس فرق اتنا ہے کہ تب خبریں کہنے والے منہ سے کہتے تھے، اب انگلیوں سے موبائل پر لکھ دیتے ہیں۔

ہماری زمین پر قصے، کہانیاں اور روایات ایک طرح کا کلچرل ورثہ ہیں۔ دادی کی زبانی سنی کہانیاں آج تک دل کو بہلاتی ہیں، مگر ان قصوں اور افواہوں میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ قصے انسان کو سکھاتے ہیں، افواہیں بس بھڑکاتی ہیں۔ قصے دل کو وسیع کرتے ہیں، افواہیں دل میں خوف، نفرت یا بے چینی ڈالتی ہیں۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے افواہوں کو ایک نئی طاقت دی ہے۔ پہلے افواہ گاؤں کے چوک تک محدود رہتی تھی۔ اب وہ دنیا بھر میں پلک جھپکتے پھیل جاتی ہے۔ آج ہر شخص صحافی ہے، ہر موبائل فون نیوز ایجنسی ہے اور ہر سوشل میڈیا پوسٹ ”بریکنگ نیوز“ بن جاتی ہے۔

آئے روز ہم ایسی خبریں پڑھتے ہیں جو بعد میں جھوٹی نکلتی ہیں۔ کبھی کسی مشہور شخصیت کی موت کی خبر، کبھی کسی نئے سیاسی طوفان کا اعلان، کبھی کسی بیماری یا ویکسین سے متعلق خوف پھیلایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو جان بوجھ کر افواہیں پھیلاتے ہیں تاکہ لوگ انہیں ”انفارمڈ“ سمجھیں۔ کچھ بے خبری میں غلط بات آگے پہنچا دیتے ہیں۔

سچ پوچھیے تو پاکستان سمیت پورے برصغیر میں یہ رجحان خاصا مضبوط ہے۔ ہمیں حقیقت کم اور چسکے زیادہ بھاتے ہیں۔ ہماری محفلیں اسی وقت رنگ پکڑتی ہیں جب کوئی ”اندر کی خبر“ سنانے والا محفل میں بیٹھا ہو۔ افسوس یہ ہے کہ اکثر ایسی خبریں کسی تحقیق یا ثبوت پر مبنی نہیں ہوتیں، بلکہ محض کسی کے سنے سنائے جملے ہوتے ہیں۔

میڈیا کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسانی نفسیات میں تجسس اور خوف دو بڑی طاقتیں ہیں۔ افواہیں انہی کو استعمال کرتی ہیں۔ جیسے ہی کوئی کہے ”یہ بات بس تمہیں بتا رہا ہوں، آگے مت بتانا۔“ سننے والا فوراً چونک جاتا ہے اور دل ہی دل میں طے کر لیتا ہے کہ یہ بات سب کو بتانی ہے اور یوں افواہ کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف، ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جدید دور میں مصنوعی ذہانت جیسے ٹولز آ گئے ہیں، جو خبریں جانچنے، مواد کی سچائی پرکھنے اور حقائق کی تحقیق میں مدد کر سکتے ہیں۔ اب خبریں محض سنی سنائی نہیں رہ جاتیں۔ ان پر سوال اٹھانا اور تحقیق کرنا پہلے سے آسان ہے۔

کئی ترقی یافتہ ممالک میں ادارے بنائے گئے ہیں جو خبروں کی حقیقت پرکھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کچھ ادارے کام کر رہے ہیں، لیکن عوام کی اکثریت اب بھی سنی سنائی بات پر فوراً یقین کر لیتی ہے۔ وجہ شاید یہ ہے کہ ہماری تربیت میں تحقیق اور تصدیق کا عنصر کمزور رہا ہے۔

بات وہی سچی ہوتی ہے جو کئی زبانوں سے گزر کر بھی ایک جیسی رہے۔ یعنی سچ کو جتنی بار پرکھو، وہ سچ رہتا ہے۔ لیکن اگر جھوٹ یا افواہ پرکھی جائے تو کہیں نہ کہیں اس میں دراڑ نظر آنے لگتی ہے۔

اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سنی سنائی بات پر اندھا دھند یقین نہ کریں۔ چاہے خبر کتنی ہی سنسنی خیز کیوں نہ لگے، اسے پہلے پرکھیں، تحقیق کریں، معتبر ذرائع دیکھیں، کوئی بھی بات فوراً آگے نہ بڑھائیں۔ کیونکہ ہو سکتا پے کہ ہم انجانے میں کسی کی زندگی، یا عزت سے کھیلیں۔ یا معاشرے میں خوف کی لہر کا سبب بن جائیں۔

آخر میں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ قصے کہانیاں ضرور سنیں۔ لیکن افواہوں اور کہانیوں میں فرق کرنا سیکھیں۔ ”قصے دل بہلاتے ہیں، افواہیں دل جلا دیتی ہیں۔ قصے ہمیں جوڑتے ہیں، افواہیں ہمیں توڑتی ہیں۔ سچائی کی تلاش زندگی کو محفوظ، پرسکون اور خوبصورت بناتی ہے۔“

اگر ہر شخص سچ کی تلاش کو اپنی عادت بنا لے، تو معاشرہ کتنا خوبصورت ہو جائے۔

Facebook Comments HS