خوددار لوگ


میں روز شام کے وقت اسے دیکھتا تو اکثر سوچ میں پڑ جاتا کہ نہ جانے اسے کیا مسئلہ ہے۔ یہ کیوں ایسے چلتا ہے حالانکہ سواری بھی اس کے پاس ہے مگر کبھی اتفاق نہ ہوا کہ دو گھڑی رک کر اس سے پوچھ سکوں کہ بابا! ایسے کیوں چلتے ہو؟ کیا وجہ ہے؟ وقت ہی نہیں ملتا تھا میں گاڑی میں ہوتا اور وہ سائیکل کی گدی پر اپنا پیٹ لگائے آہستہ آہستہ چلتا جاتا۔ اکثر ساتھ کوئی دوست یا اہل کار ہوتا تو اسے بھی کہتا کہ وہ دیکھو یہ بابا! کیسے سائیکل چلا رہا ہے۔ دفتر سے چھٹی کر کے جلد از جلد گھر پہنچنے کی فکر میں رہتا اور پھر شام کے وقت ٹریفک کا رش بھی بہت ہوتا ہے سڑک کنارے یوں گاڑی روک کر کسی سے بات کرنا بھی مناسب نہیں لگتا۔ بہرحال میں نے دل ہی دل میں ٹھان لی کہ کسی نہ کسی دن موقع پا کر اس بزرگ سے بات کروں گا اور اس کی حالت کے بارے میں ضرور استفسار کروں گا۔

 اسی دوران میرے دماغ کے نہاں خانے میں کئی خیالات جنم لینے لگتے لیکن پھر ان کو اپنے دماغ کی اختراع سمجھ کر رد کر دیا کرتا کہ نہیں ایسا نہیں ہوا ہو گا۔ یقیناً کوئی ایسی بات ہو گی جس کی وجہ سے یہ بوڑھا شخص اس طرح سائیکل کی گدی پر اپنا پیٹ رکھ کر اسے گھسیٹا گھسیٹتا اپنی منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہے۔ جس دن اسے نہ دیکھتا تو یہ سمجھتا کہ شاید وہ بیمار ہے لیکن میرا اندازہ یکسر غلط ثابت ہوتا اور دوسرے ہی دن وہ پھر اسی رفتار سے اپنی سواری کو کھینچتے ہوئے چل رہا ہوتا۔ پہلے پہل تو میں اتنا غور نہیں کرتا تھا مگر ایک دن خاتون خانہ کے ساتھ اسے دیکھا تو اس نے بھی فوراً اس بزرگ کی اس حالت کا نوٹس لیا اور میرے اور اس کے سوالات اور خدشات تقریباً یکساں تھے۔

پرانی سائیکل، سفید ٹوپی، کندھے پر رومال، پاؤں میں گھسی پھٹی ہوئی پرانی پشاوری چپل، سائیکل کے ہینڈل پر ادویات سے بھرا شاپنگ بیگ اور کچھ کھانے پینے کی اشیا رکھی ہوتیں۔ اگر کسی دن اسے سائیکل چلاتے ہوئے نہ دیکھ سکتا تو ایک مارٹ کے سامنے بیٹھے ہوئے نظر آتا اور قریب ہی سائیکل بھی کھڑی ہوئی ہوتی۔ ایک شام میں نے اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی اور گاڑی روک کر اس کے پاس چلا گیا۔ سلام دعا کی تو پتہ چلا کہ پٹھان ہے اب مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ بات کو آگے بڑھایا کیسے جائے۔ کیونکہ زبان یار من پشتو و من پشتو نمی دانم۔ خیر ٹوٹی پھوٹی پشتو میں بات کرنے کا سوچا اور گھر کا پوچھا کہ کہاں ہے اور کیا کام کرتے ہو؟ یوں روزانہ شام کو سائیکل اس طرح کیوں چلاتے ہو۔ ذریعہ معاش کیا ہے۔ جواب دیا گھر بھی ہے اور الحمد للہ بر سر روزگار بھی ہوں۔ اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہوں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ کارخانے میں کام کرتا ہوں اور پیسے بھی اچھے ملتے ہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وقت گزر رہا ہے۔ بس ذرا عمر کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہوں اور سائیکل چلانے کی ہمت نہیں بصارت بھی کچھ کم ہے اسی لیے اس طرح سفر کرتا ہوں۔

جو سمجھ میں آیا تو سن کر دل خوش بھی ہوا اور غمگین بھی۔ خوش اس لیے ہوا کہ آج بھی ایسے خوددار لوگ موجود ہیں جو اپنے ہاتھوں سے رزق حلال کما کر کھاتے ہیں اور محنت سے جی نہیں چراتے۔ کیونکہ اسی معاشرے میں کئی ایسے افراد بھی موجود ہیں جو ہٹے کٹے ہونے کے باوجود بس سٹاپ اور کسی اشارے پر کھڑے ہوئے آنے جانے والی گاڑیوں کو روک کر بھیک مانگتے ہیں۔ بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر عمر کے افراد اسی پیشے سے منسلک ہیں اور اکثر و بیشتر مجبور کیا جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے۔ غم زدہ اس لیے ہوں کہ اگر یہ صاحب اولاد ہے تو اولاد اس عمر میں بوڑھے والدین سے یہ محنت مشقت کیوں کرواتی ہے؟ اسے تو اس عمر میں آرام کی ضرورت ہو گی، وقت پر کھانے پینے کی احتیاج ہو گی۔ ممکن ہے کہ کوئی ایسی مجبوری ہو جس کی وجہ سے وہ یہ سختی برداشت کر رہا ہو۔

ملک خداداد میں ایسے خوددار اور مفلس لوگ موجود ہیں جو اپنی خودداری اور عزت نفس کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ایسے افراد کے لیے ایسے ادارے اور انتظامات ہونے چاہئیں جو ان کی روزمرہ ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اسلام بھائی چارے، اخوت اور مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مالی اور جسمانی تعاون کی بھی تاکید کرتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ جب اپنے مسلمان بھائی کو تکلیف میں دیکھے تو اس کی مدد کرے۔ یہ حکم صرف مذہب تک محدود نہیں بلکہ ہر ضرورت مند انسان اس زمرے میں آتا ہے چاہے کسی بھی مذہب، تہذیب اور ثقافت سے اس کا تعلق کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں اعلیٰ اقدار اور روایات کو فروغ دیں تاکہ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کر کے ملک و ملت کا نام روشن کریں۔

Facebook Comments HS