بلاول بھٹو اس وقت ملکی اور عالمی سیاست میں کہاں کھڑے ہیں


پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اگر اس وقت دنیا کے چند نوجوان دانشور سیاسی رہنماؤں میں گنا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ بلاول بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد غیر معمولی حالات میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ ناتجربہ کار اور کم عمر ہونے کی وجہ سے وہ چیئرمین ہونے کے باوجود پارٹی معاملات سے دور دور رہے۔ اس دوران ان کی سیاسی تربیت جو پہلے ان کی عظیم والدہ کرتی رہیں، ان کے والد نے کی۔ سیاسی رموز و اسرار سے ان کی شناسائی کروائی، انہیں سیاسی داؤ پیچ سکھائے۔ چیئرمین بلاول کے خون میں چونکہ سیاست رچی بسی تھی اس لیے بہت ہی کم عرصے میں وہ پارٹی کے سیاسی امور کو نہ صرف سمجھنے لگے بلکہ ان کی گرفت بھی پارٹی معاملات پہ مضبوط ہوتی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے 2016 میں پارٹی کی تمام علاقائی تنظیموں کو تحلیل کر کے اپنی سیاسی بلوغت کی پہلی جھلک دکھائی۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنا پارلیمانی کیریئر 2018 کے انتخابات سے شروع کیا۔ عمران خان وزیراعظم کے عہدے پہ براجمان ہوئے تو اپنے پہلے پارلیمانی خطاب میں تیس سالہ نوجوان بلاول نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی فی البدیہہ تقریر میں اپنے روشن اور شاندار سیاسی مستقبل کی نوید سنا دی۔ بلاول بھٹو نے ہی اس تقریر میں عمران خان کے لیے سلیکٹڈ کی اصطلاح متعارف کروائی۔ اور اس کے بعد خان صاحب سلیکٹڈ کے لقب سے جانے جاتے رہے۔

بلاول بھٹو زرداری پی ڈی ایم حکومت کے دوران ملک کے وزیر خارجہ بنے۔ اپنے شہید نانا کی طرح وزارت خارجہ کی مختصر مدت میں انہوں نے عالمی سیاست پہ اپنی قابلیت، لیاقت اور دانشمندی کی بڑی گہری چھاپ چھوڑی۔ انہوں نے دنیا کے بڑے بڑے ملکوں جن میں بھارت بھی شامل ہے کا نہ صرف دو رہ کیا بلکہ پاکستانی عوام سمیت دنیا کو احساس دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹا اپنے شہید لواحقین کی وراثت کو سنبھالنے کے لیے عالمی اور ملکی سیاسی میدان میں اتر چکا ہے مکمل تیاری اور عزم و حوصلے کے ساتھ۔

بلاول بھٹو نے پچھلے چند سالوں میں اپنی جارحانہ مگر انتہائی مدبرانہ قیادت سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں خاصی پذیرائی حاصل کی ہے۔ وہ ایک سنجیدہ، باصلاحیت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان قائد ہیں جنہیں پوری طرح سے ملکی اور عالمی سیاست کے اصولوں اور طور طریقوں سے آگاہی حاصل ہے۔ حال ہی میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد وزیراعظم پاکستان کی جانب سے پاکستان کے سفارتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے جس بھرپور اور مدلل انداز میں کامیابی کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ اقوام عالم کے سامنے پیش کیا اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کمال مہارت کے ساتھ اقوام عالم میں پاکستان کا مقدمہ پیش کیا۔ انہوں نے بھارتی جھوٹ منافقت اور دراندازی کو بے نقاب کرتے ہوئے، پاکستان کو خطے میں ہونے والی دہشتگردی کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ثابت کیا۔ پلوامہ سے لے کر پہلگام واقعے میں بھارت نے بنا ثبوت کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا جبکہ پاکستان نے ہمیشہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیش کش کرتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ بلاول نے دنیا کو باور کرایا کہ پہلگام واقعے کے بعد بنا کسی ثبوت کے بھارت نے پاکستان پہ جنگ مسلط کی جس کا اسے منہ توڑ جواب دیا کیونکہ پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت پہ میلی آنکھ برداشت نہیں کی جا سکتی۔

بلاول بھٹو زرداری نے ہندوستان کی جانب سے یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو پاکستان کے خلاف آبی جنگ کے مترادف قرار دیتے ہوئے انتہائی سخت ترین موقف اختیار کیا اور ہندوستان کو دو ٹوک الفاظ میں متنبہ کیا کہ اگر پاکستان کا پانی روکا تو ہندوستان کو کسی دریا کا پانی لینے نہیں دیں گے کیونکہ پانی پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی زندگیوں کا مسئلہ ہے، اس پہ کمپرومائز نہیں کریں گے، بلاتاخیر اور سخت کارروائی کریں گے۔

بلاول بھٹو اقوام متحدہ سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتوں اور یورپی یونین کے ممالک کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوئے کہ پاکستان اگر بھارت پہ اپنے ملک میں ہونے والی دہشتگردی میں بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی سہولت کاری کا الزام لگاتا ہے تو اس کے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں، را ایجنٹ کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا تھا۔ جب کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں خوارجیوں کو بھارتی مدد و سہولت کاری کے بھی پاکستان کے پاس ان گنت اور ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں جو ہر عالمی فورم پہ دکھائے جا سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے سفارتی مشن کے دوران دنیا کے بڑے بڑے صحافیوں، اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پہ جو انٹرویوز دیے وہ ان کی صلاحیتوں، ان کی وراثت میں ملی ذہانت اور فطانت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

کچھ دن پہلے بلاول بھٹو زرداری نے اچانک ایک فیصلہ کیا کہ بھارت کے ایک سنکی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیا جائے۔ کرن تھاپر نے انٹرویو کے اختتام پر اس انٹرویو کو ”فسادی انٹرویو“ کا نام دیا۔ کئی ہمدردوں اور ناقدین نے بلاول کے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ اور جذباتی فیصلہ قرار دیا۔ مگر انٹرویو کے بعد محض ایک دو روز میں بلاول بھٹو زرداری آج ملکی اور عالمی سیاست میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جس جرات، برداشت، تحمل اور سیاسی فہم و فراست سے انڈین صحافی کو انٹرویو دیا اس نے پاکستان و بھارت سمیت دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا ہے اور دنیا یہ تسلیم کرنے لگی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری بلاشبہ اس وقت دنیا کے چند گنے چنے روشن خیال، ترقی پسند، امن پسند اور جمہوری نظریات رکھنے والے نوجوان قائد ہیں۔ بلاول نہ صرف پاکستان کی روشن صبح کا سورج ہیں بلکہ وہ دنیا کے امن کے لیے بھی ایک بہترین ثالث اور مدبر رہنما ثابت ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کرن تھاپر کو اور اس سے پہلے اپنے بھارتی سفارتی حریف پچاس کتابوں کے مصنف اور کہنہ مشق سینئر ترین پارلیمنٹیرین ششی تھرور کو عملاً سیاسی سفارتی اور صحافتی میدانوں میں چاروں شانے چت کر کے نہ صرف اپنے ملک کو سرخرو کیا بلکہ اپنی خداداد سفارتی صلاحیتوں کا ثبوت بھی فراہم کیا۔

پاک و ہند اور دیگر مغربی ممالک میں عالمی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے سیاسی تجزیہ کاروں، کارکنوں اور عام جنتا میں بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ سیاسی اور سفارتی سرگرمیاں ان کی عوامی پذیرائی اور مقبولیت میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ پیپلز پارٹی کے ناقدین بھی یہ کہنے پہ مجبور ہو گئے ہیں کہ حالیہ چند برسوں میں سیاست کے ملکی اور عالمی افق پہ بلاول بھٹو زرداری روشنی کے مینار کی طرح نظر آنے لگے ہیں جن سے یہ امید لگائی جا سکتی ہے کہ عالمی سیاسی حرارت اور دنیا پہ منڈلاتے عالمی جنگ کے خطرات کو کم کرنے اور عالمی سیاسی درجہ حرارت کو معمول پر لانے کے لیے بلاول بھٹو زرداری اہم اور کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں جو نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بلکہ پاکستان اور پوری قوم کے لیے باعث فخر و افتخار ہے۔

Facebook Comments HS