خود سے ایک نامہ


دن کی روشنی دفتر کے شیشوں سے چھن کر علی کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اجالا کہیں کھو چکا تھا۔ چائے کا کپ اس کے ہاتھوں میں تھرتھرا رہا تھا، جیسے کسی طوفانی رات میں درخت آخری بار لرز رہا ہو۔ کلائیوں میں ایک ایسی کسک تھی جو نہ زخم دکھاتی تھی، نہ دوا مانگتی، بس ہر رات خوابوں کی دہلیز پر بیٹھ کر اس کی نیند کو زہر کرتی رہتی۔

دفتر کے خاموش، شفاف کمرے میں وہ اپنی کرسی پر بیٹھا اپنے ہی عکس کو تکتا رہا۔ وہ عکس جو فقط چہرہ نہ تھا، بلکہ ایک ٹوٹی ہوئی ذات کا مکمل مظہر تھا۔ اس کے لبوں سے ایک لفظ پھسلا، ”کمزور“ ، اور اس نے خود سے پوچھا: کیا واقعی میں اتنا ناتواں ہو چکا ہوں کہ چائے کا کپ بھی نہ تھام سکوں؟

اسی لمحے پیٹ میں ایک تیز لہر اٹھی، جیسے خنجر اندر ہی اندر پھر سے چل گیا ہو۔ سانس رک سی گئی۔ یہ درد نیا نہ تھا، تین ماہ سے اس کے ساتھ کسی سائے کی مانند لپٹا ہوا تھا۔ اسپتال کی دیواریں، نرسوں کے چہرے، رپورٹس کے سفید کاغذ، سب اب اجنبی نہ رہے تھے۔ ہر مرتبہ یہی کہا جاتا، سب کچھ معمول پر ہے، مگر اس کا دل جانتا تھا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے، کوئی ایسا راز جو بدن کی خامشی میں چیخ رہا ہے۔

اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھا جیسے کسی خاموش احتجاج کی تھپتھپاہٹ سننے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کے دل میں ایک گہرا شکوہ ابھرا: کیا میں خود اپنے جسم کا مجرم بن چکا ہوں؟

درد نے ایک بار پھر حملہ کیا، اور وہ میز پر جھک گیا۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے وہ اس اندرونی گونج کو سننے لگا جو لفظوں سے زیادہ گہری اور کرب ناک تھی۔

اگلے دن جب وہ پارک کی ایک سنسان روش پر آہستہ قدموں سے چل رہا تھا، تو ایک چمکتی ہوئی دھوپ میں امی جان، محلے کی بزرگ خاتون اس کے قریب آ بیٹھیں۔ ان کے بالوں کی چاندنی اور آنکھوں کی روشنی میں ایسا سکون تھا جیسے وقت ان کے قدموں میں رک گیا ہو۔

انہوں نے نرمی سے پوچھا،
”بیٹا، یہ چہرہ اتنا بجھا بجھا کیوں ہے؟ کیا دل میں کوئی تکلیف ہے؟“

علی نے سر جھکایا اور دھیرے دھیرے اپنی حالت بیان کی۔ وہ درد جو تین ماہ سے کسی گہرے کنویں میں اسے گراتا رہا، وہ بے بسی جو لفظوں میں نہ سماتی تھی۔

امی جان نے مسکرا کر کہا،

”بیٹا، تمہارا جسم تمہاری ہر بات سنتا ہے۔ ہر عضو میں ایک حس ہے، ایک ردعمل، ایک جذب۔ تم جو لفظ خود کے لیے کہتے ہو، وہ تمہارے لہو میں اترتے ہیں۔ اگر تم خود کو ملامت کرتے ہو، تو تمہارا جسم بوجھ محسوس کرتا ہے۔ لیکن اگر تم خود سے محبت کرو، شکر ادا کرو، معذرت کرو، تو یہی بدن تمہیں سکون کا رستہ دکھاتا ہے۔“

علی کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ کیا واقعی وہ خود اپنے جسم کا دشمن بن چکا تھا؟ کیا اس نے اپنی ہی زبان سے اپنے وجود پر زخم لگائے؟

اس رات وہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ عکس میں جھانکتے ہوئے اس نے پہلی بار خود سے بات کرنے کی کوشش کی۔ الفاظ گلے میں اٹک گئے، مگر پھر ایک گہری سانس لے کر، اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا اور آہستگی سے کہنا شروع کیا۔ وہ الفاظ جو برسوں سے دبے ہوئے تھے، اب ایک خط کی صورت میں باہر نکلنے لگے۔

میرے جسم!

آج پہلی بار میں تم سے مخاطب ہوں، جیسے برسوں بعد کسی ایسے دوست سے بات کر رہا ہوں جسے ہمیشہ نظر انداز کرتا رہا۔ تم ہر روز میرے ساتھ تھے، میرے ہر لمحے میں، مگر میں نے تمہیں کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی۔ تم نے میرا بوجھ اٹھایا، میری تھکن سہی، میری خامشی کو اپنے اندر سمیٹ لیا، مگر میں نے تمہیں کمزور کہا، تھکا ہوا، ناقابلِ اعتبار۔

مجھے آج احساس ہوا ہے کہ میں نے دوسروں سے ہی نہیں، خود تم سے بھی نا انصافی کی۔ میں نے تم پر الزام لگایا جب تم نے درد سے اشارہ کیا، میں نے تمہیں سزا دی جب تم نے تھوڑی سی توجہ مانگی۔ میں نے تمہیں بے کار کہہ کر تمہاری ساری کوششوں کو رد کر دیا، گویا تم میرے وجود کا بے مصرف حصہ ہو۔

لیکن سچ یہ ہے کہ تم نے ہمیشہ وفاداری سے میرا ساتھ دیا۔ تم نے کبھی شکوہ نہ کیا، بس خامشی سے میری تکلیفوں کو سمیٹا، میری لاپروائیوں کا بوجھ اٹھایا۔ آج جب میں تمہارے اندر کی گونج سننے کے قابل ہوا ہوں، تو دل بھر آیا ہے۔ یہ احساس عجیب ہے کہ تم سنتے رہے، سہتے رہے، اور میں تمہیں سمجھنے میں ناکام رہا۔

میں تم سے معذرت خواہ ہوں۔ اس لاپرواہی کے لیے، اس بے مروتی کے لیے جس کا تم ہر روز سامنا کرتے رہے۔ آج جب میں نے تمہیں سنا، جانا، چھوا تو پہلی بار لگا کہ میں خود کو پا رہا ہوں۔

اور ہاں، شکریہ اس لیے نہیں کہ تم نے میرا ساتھ دیا، بلکہ اس لیے بھی کہ تم نے مجھے موقع دیا کہ میں خود کو دوبارہ دریافت کر سکوں۔ تم نے مجھے کبھی تنہا نہ چھوڑا، اور اب میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔

اب جب تم تھکو گے تو میں تمہیں آرام دوں گا۔ جب تم بے چین ہو گے تو میں تمہیں سنوں گا۔ میں اپنی ہر بات، ہر جذبہ تمہارے ساتھ بانٹوں گا۔ ہم دونوں اب الگ الگ نہیں، ایک ہی کہانی کے دو باب ہیں۔

یہ خط معذرت یا شکریہ نہیں، یہ ایک نیا آغاز ہے۔ ایک نیا رشتہ جس میں خود سے دشمنی نہیں، خود فہمی ہے۔ تم میرے نہیں، میں تمہارا مقروض ہوں۔

تمہارا،
علی۔

اسی رات وہ پرسکون نیند سویا، ماں کی آغوش یا کسی قبولیت کی دعا جیسی نیند۔
وقت گزرتا گیا۔ علی نے خود سے گفتگو کرنا سیکھ لیا۔
جب دفتر کا بوجھ بڑھتا، وہ کہتا: رک جا، ہم مل کر سب سنبھال لیں گے۔
جب صبح کا سورج ابھرتا، وہ کہتا: آج کا دن خوبصورت ہے۔
اور جب تھکن چھا جاتی، وہ اپنے جسم کو تھپکی دیتا: تم نے بہت محنت کی، اب آرام کرو۔
ایک مہینے بعد ، وہ پھر امی جان کے پاس گیا۔
اس کے چہرے پر روشنی تھی، بدن میں سکون۔
اس نے مسکرا کر کہا، ”درد اب ختم ہو چکا ہے۔“
امی جان نے اس کے چہرے کو محبت سے دیکھا اور کہا، ”یہ تو شروعات ہے، اصل تبدیلی ابھی باقی ہے۔“
اور واقعی، کچھ بدل چکا تھا۔
جسم اب اس کا دشمن نہیں رہا تھا۔
وہ اس کا ہمراز بن چکا تھا، اس کا ساتھی، اس کی مکمل ذات۔
دفتر میں لوگ حیرت سے پوچھتے کہ وہ اتنا بدل کیسے گیا؟
وہ بس مسکرا دیتا، جیسے کوئی راز سینے میں چھپا رکھا ہو۔
اور یوں، امی جان کی وہ بات ایک روشن چراغ کی طرح سچ ثابت ہوئی:
جب انسان خود سے محبت سے بات کرتا ہے، تو اس کا جسم اسے کائنات کی سب سے قیمتی شے دے دیتا ہے، خود اس کی مکمل، شفاف اور شفا یافتہ ذات۔

Facebook Comments HS