پگڈنڈی
گاؤں سے مرکزی سڑک تک جانے کے دو راستے تھے، ایک بیرونِ گاؤں کی سڑک سے تھا؛ جہاں ذرائع نقل و حمل استعمال ہوتے تھے۔ مسافت کے لحاظ سے یہ راستہ طویل تھا؛ دوسرا راستہ اندرونِ گاؤں کی گلیوں سے تھا جہاں سے ایک پگڈنڈی گزرتی تھی جو مرکزی سڑک تک پہنچاتی تھی۔ اس راستے سے گزرتے ہوئے بادلِ نخواستہ سبز کھیتوں پر نظر جا اَٹکتی۔ کھیتوں کے خوبصورت مناظر روح پروری کا سامان مہیا کرتے تھے۔ اس راستے کی خوبی یہ بھی تھی کہ مختصر تھا؛ پیدل مارچ کرنے والوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا، ایک تو وقت بچانے کا سبب تھا دوسرا انسانی صحت کو برقرار رکھنے کا ذریعہ۔
عمیر بی اے میں کامیاب ہوا آج یونیورسٹی جانے کا پہلا دن تھا۔ یوں ہوا کہ سستی کے سبب دیر تک سویا رہا آنکھ کھلی تو جلدی تازہ دم ہو کر یونیفارم پہن کر جامعہ کی طرف عازمِ سفر ہوا، پگڈنڈی والا راستہ اختیار کیا، گزرنے لگا تو ایک کتا اَدھ کھلی آنکھ کے ساتھ خوش آمدید کہنے کے لیے پگڈنڈی کے سرے پر بیٹھا استقبال کر رہا تھا، اسے دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا، واپس ہو گیا، پھر جی میں آیا کہ ”کتوں سے ڈر رہا ہوں، انسان ہو کر“ مگر ساتھ ساتھ دوسرے خیالات بھی ذہن پر چھانے لگے اگر چلا گیا تو کیا ہو گا؟ زخم، خون، گوشت کی بوٹیاں، چیر پھاڑ۔ ایسے ہیولے ذہن میں بننے شروع ہو گئے پھر ایک دوست کی بات یاد آئی کہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا مگر پتھر اٹھا کر کتے کو ڈرا دھمکا کر گزر گیا، یہ یادداشت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ثابت ہوئی۔ دوبارہ اسی راستے سے گزرنے لگا پتھر اٹھانے کی نیت کی تو کہیں دکھائی نہ دیا کیونکہ جب ضرورت ہوتی ہے تو عام شے بھی مفقود ہو جاتی ہے، ایک روڑا خود رَو پودے کے سائے میں پڑا تھا۔ جھٹ سے اٹھا لیا، پگڈنڈی کے پاس پہنچا تو کتا موجود نہ تھا، ابھی دو قدم ہی چلا کے پگڈنڈی کے دائیں جانب کے کھیتوں سے کسی شے کے سرکنے کی آواز کی طرف متوجہ ہوا کہ سامنے کتا بیٹھا ہوا نظر آیا مگر اب خود سے زیادہ بٹّے پر بھروسا تھا، دو قدم اور آگے بڑھا سگ نے اپنی فطری عادت کو برقرار رکھتے ہوئے بھونکنا شروع کر دیا اس منحوس آواز کا سننا تھا کہ اس خاندان کے دوسرے افراد بھی آ گئے اور اس کے ساتھ بھونکنا شروع کر دیا، اس کا غیر مرئی کتوں سے تو اکثر واسطہ پڑتا تھا مگر مرئی کتوں سے پہلی مرتبہ پالا پڑا؛ سات آٹھ کتے تھے کتوں کا حلقہ تھا، درمیان میں وہ جیسے دائرے میں مرکز ثقل کا نقطہ؛ ایسے میں کیا کر سکتا تھا؟ جس پر بھروسا کیا تھا وہ پارۂ خشت بھی غیر محسوس انداز سے ہاتھ سے سرک گیا، اب سوائے چیخ کے کوئی چارہ نہ تھا چیخ کا سہارا لیا مگر جب بندہ بھیانک پن کا شکار ہو، ارد گرد پھن پھیلائے اژدھے ہوں تو چیخ کی آواز خود بخود مہیب ہو جاتی ہے ؛ ایسا ہی ہوا، ایک کتا بھونکنے کے ساتھ ساتھ دائیں قدم کو آگے بڑھاتے ہوئے کاٹنے کے لیے بڑھا؛ بلّی جب مغلوب ہو جائے تو کتے پر حملہ کر دیتی ہے، ایسے ہی دایاں ہاتھ کتے کے منہ پر ضربِ کاری لگانے میں مفید ثابت ہوا، ضرب سخت لگی، کتا حواس باختہ ہو گیا؛ تھوڑے لمحے کی خاموشی کے بعد پھر بھونکنا شروع کر دیا، البتہ خاندانی افراد ساتھ ایسا نبھاتے رہے کہ اس کی خاموشی کے وقت بھی اس عمل کو برقرار رکھا تاکہ اسے سہارا میسّر رہے، کتوں کے مسلسل بھونکنے کی آوازیں سن کر ایک عورت جو پگڈنڈی کے دائیں جانب چارہ کاٹ رہی تھی؛ درانتی ہاتھ میں لیے کھڑی ہوئی یہ منظر دیکھا تو دوڑی، ساتھ کسی اور زن کو بھی آواز دی، جھٹ سے ایک عورت نمودار ہوئی، دونوں درانتی لیے ہوئے دوڑتی آئیں، درانتی سے کتوں کو ڈرایا دھمکایا ساتھ ساتھ اپنی خاص بولی بھی بولتی رہیں۔ اس کتے کے قبیلے کے تمام افراد بھاگ گئے، وہ کتا اکیلا رہ گیا، اب کیا کر سکتا تھا؟ بوکھلایا کھڑا تھا، ہانپ رہا تھا، مہیب آنکھوں سے دیکھ رہا تھا؛ نہیں، بلکہ گھور رہا تھا اور عمیر اس کے سامنے پگڈنڈی سے گزر رہا تھا۔


