پگڈنڈی

  گاؤں سے مرکزی سڑک تک جانے کے دو راستے تھے، ایک بیرونِ گاؤں کی سڑک سے تھا؛ جہاں ذرائع نقل و حمل استعمال ہوتے تھے۔ مسافت کے لحاظ سے یہ راستہ طویل تھا؛ دوسرا راستہ اندرونِ گاؤں کی گلیوں سے تھا جہاں سے ایک پگڈنڈی گزرتی تھی جو مرکزی سڑک تک پہنچاتی تھی۔ اس راستے سے گزرتے ہوئے بادلِ نخواستہ سبز کھیتوں پر نظر جا اَٹکتی۔ کھیتوں کے خوبصورت مناظر روح پروری کا سامان مہیا کرتے تھے۔ اس راستے

Read more

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

ادارے عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ان کا نام افرادی قوت سے ہوتا ہے ؛ یہ وہی قوت ہے جو گمنام جگہوں کو ارفع مقام تک پہنچا دیتی ہے ؛ افرادی قوت کی تیاری کے لیے اعلیٰ ادب، عظیم اقدار اور معیاری نظامِ تعلیم ضروری ہوتا ہے۔ علم و ادب کے سکے کو کون نہیں جانتا ہے؟ اور یہ کہاں نہیں چلتا ہے؟ مشہور عربی مقولہ ہے : ”الادب یرفع الخامل“ ترجمہ: ”ادب (علم) گم نام کو بلند مقام پر

Read more

پَن گَھٹ

موسمِ سرما کا عُروج ہے۔ افراد ٹوپیوں، جیکٹوں اور چادروں کے ذریعے سے سردی کے تابڑ توڑ حملوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سورج نے نورانی شعاعوں کو کِرنوں کی صورت میں بکھیرنا شروع کر دیا۔ شفق کی روشنی ایک خوبصورت باغیچہ پر پڑی؛ وہ باغیچہ جہاں خوبصورت پودے، یاسمن و گلِ لالۂ و گلاب و نسترن کے پھولوں کے ساتھ قصیر، متوسط اور طویل اَشجار کا خطِ اُستوا سیّاحوں کو راحتِ قلب پہنچانے کا سبب ہے۔ باغیچہ

Read more

شیر دریا :ایک تجزیاتی مطالعہ

”سفرنامہ“ ہر ادب کی مقبول صنف رہی ہے، ابن بطوطہ جیسے افراد نے تو اپنی زندگیاں سفر میں ہی گزار دیں ؛ نت نئے تجربات سے اپنی تخلیقات کو چمکایا اور قارئین کے لیے نئی دنیا کے در وا کیے، زمین کی سیر کے متعلق تو قرآن پاک بھی لب کشا ہوتا دکھائی دیتا ہے : ”آپ فرما دیجئے کہ زمیں کی سیر کرو اور غور و فکر کرو۔“ اردو ادب نے بھی اس صنف کو اپنے دامن میں سمویا۔

Read more

آخری رات کا صوفی

چمپئی عارض، کشادہ پیشانی چاہِ زنخداں مگر بھدا نہیں، سُتواں ناک، غلافی آنکھیں، گندمی رنگ، مسّیں ابھی پھوٹ رہی تھیں، سبزۂ خط میں لبِ لعل کی چمک اور عارض پر خال رکھنے والے شخص سے میری پہلی ملاقات ادارہ معین السلام بیر بل شریف میں داخلے کے پہلے روز ہوئی؛ یہ حضرت ندیم اشرف تھے۔ تعلیمی مہاجر کے لیے دوسرا شہر اوّل اوّل تو شہرِ خموشاں ہی ہوتا ہے ؛ شدہ شدہ ماحول میں رچ بس جاتا ہے، پہلا دن

Read more