علی گڑھ یونیورسٹی، پیر صاحب پگارا اور خالو سید صبیح الحسن مرحوم

رشو باجی کے دادا سید صفی الحسن زیدی مرحوم یو پی میں تحصیل دار اور مجسٹریٹ کے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ملازمت کے دوران مختلف اضلاع میں تبادلے معمول کا حصہ تھے۔ جس سے بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی تھی۔ بچوں کی تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ہوم ٹیوٹرز کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ جو پانچ سے چھے گھنٹے بچوں کو گھر پر پڑھاتے تھے۔ بچوں کو تعلیم تو ہوم ٹیوٹر سے اچھی حاصل ہو جاتی تھی۔ لیکن بعض دفعہ بچے بوریت بھی محسوس کرتے تھے۔ چوں کہ تعلیمی ماحول سکول سے یکسر مختلف ہوتا تھا۔ بچوں کی بوریت دور کرنے کی غرض سے گھوڑا پالا گیا۔ تاکہ بچے گھڑ سواری سیکھیں، اور تیراکی بھی بچپن میں سکھائی گئی۔
چند سال بعد وہ وقت آ گیا کہ بچوں کو تعلیم کے لیے سکول میں داخل کروانا، ضروری خیال کیا گیا۔ سو، دونوں بھائی سید صبیح الحسن زیدی مرحوم اور سید وجیہہ الحسن زیدی مرحوم کو والدہ مرحومہ کے ہم راہ علی گڑھ بھیجا گیا۔ علی گڑھ میں ایک مکان ’اعجاز منزل‘ کرائے پر لیا گیا۔ جو علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سر ضیاء الدین کی رہائش گاہ کے کمپاؤنڈ میں واقع تھا۔ کمپاؤنڈ میں سات گھر تھے۔ چھے گھر سر ضیاء الدین کی بیٹیوں کے نام سے موسوم تھے، اور ایک گھر بیٹے کے نام سے موسوم تھا۔ ’اعجاز منزل‘ ڈاکٹر اعجاز تجمل ( والد ڈاکٹر عاصم حسین ) کے نام سے موسوم تھا۔
کچھ عرصے بعد کمپاؤنڈ کے ایک مکان میں دو بھاری بھرکم نوجوان سکندر شاہ اور نادر شاہ مع گارڈز بطور کرائے دار رہنے آئے۔ نوجوانوں کے والد کے قتل کی ذمہ دار برطانوی حکومت تھی، اور والد کے قتل کے بعد برطانوی حکومت نے دونوں نوجوانوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لے لی تھی۔ خالو سید صبیح الحسن زیدی مرحوم نے ایک واقعہ سنایا کہ چند دنوں بعد کمپاؤنڈ میں شور شرابا سنائی دیا۔ باہر نکل کر دیکھا تو ہوسٹل کا باورچی چلا رہا تھا: بچاؤ بچاؤ!
باورچی کے ہاتھوں میں ایک ٹرے تھی۔ جس میں گوشت تھا۔ جو وہ ہوسٹل میں مقیم طلبا کے لیے پکانے لے جا رہا تھا۔ سکندر شاہ اور نادر شاہ ٹرے میں سے گوشت اٹھا اٹھا کر ہوا میں اچھال رہے تھے، اور چیل کوے مزے اڑا رہے تھے۔ گارڈز آئے، اور انہوں نے باورچی کی جان دونوں نوجوانوں سے چھڑوائی۔ سکندر شاہ خالو مرحوم کا ہم جماعت تھا۔ یوں، خالو مرحوم اور سکندر شاہ کی دوستی کا آغاز ہوا۔ سکندر شاہ کو ڈرافٹ، اور دیگر ان ڈور اور آؤٹ ڈور گیمز کھیلنا خالو نے سکھائے۔ چوں کہ اندرون سندھ یہ کھیل نہیں کھیلے جاتے تھے۔
تقسیم کے بعد انگریز سکندر شاہ اور نادر شاہ کو برطانیہ اپنے ساتھ لے گئے، اور خالو مرحوم نے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی۔ خالو مرحوم بتاتے ہیں :
ایک دن میں گھر سے باہر نکلا تو دیکھا۔ سکندر شاہ گھر کے باہر موجود ہیں۔ دونوں دوست مل کر بہت خوش ہوئے۔ خالو مرحوم نے پوچھا آپ نے گھر کیسے تلاش کیا۔ تو جواب ملا کہ مشترکہ دوستوں کی عنایت سے یہ ممکن ہوا۔
ایک اور ملاقات میں سکندر شاہ نے فکر مند انداز میں بتایا کہ حروں کے مطالبے پر ان کو گدی نشین بنایا جا رہا ہے۔ چوں کہ ان کے والد بھی حروں کے پیر تھے۔ سکندر شاہ پیر بننے پر پریشان تھے کہ اب اندرون سندھ زیادہ وقت بتانا پڑے گا۔ خالو مرحوم کی پیر صاحب پگارا سے ملاقاتیں گدی نشین ہونے کے بعد بھی جاری رہیں۔ پیر صاحب پگارا نے اپنے اسٹاف کو ہدایت دی ہوئی تھی کہ جب بھی ان کے دوست آئیں تو کسی پروٹوکول کے بغیر ان کی ملاقات کروائی جائے۔
پاکستان منتقل ہونے کے بعد خالو مرحوم نے ڈی جے سائنس کالج سے بی ایس سی ( آنرز ) کیا۔ اس سے قبل علی گڑھ یونیورسٹی سے بی ایس ( بائیولوجی ) کی ڈگری حاصل کر چکے تھے۔ آنرز کے بعد ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے درخواست دی۔ کالج کی داخلہ فہرست میں دوسرا نام خالو مرحوم کا تھا۔ ایم بی بی ایس کے ساتھ خالو مرحوم نے فشریز ڈپارٹمنٹ میں جز وقتی ملازمت کا آغاز کیا۔ ایم بی بی ایس کے دو سال مکمل ہوچکے تھے کہ فشریز ڈپارٹمنٹ سے خالو کو امریکہ میں ’Fulbright Scholarship‘ کی پیشکش ہوئی۔ کالج انتظامیہ کو پیشکش سے آگاہ کیا تو کہا گیا:
آپ پیشکش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور سکالرشپ کی تکمیل کے بعد ایم بی بی ایس کا سلسلہ جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ وہاں سے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
امریکہ سے واپس آنے کے بعد کالج انتظامیہ سے رابطہ کیا تو کالج انتظامیہ نے تعلیمی سلسلہ جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ وہاں سے بحال کرنے کی درخواست رد کر دی، اور کہا اب کالج کے قوانین تبدیل ہو چکے ہیں۔ آپ ایم بی بی ایس کے خواہاں ہیں تو نئے سرے سے تعلیم کا آغاز کرنا پڑے گا۔ خالو مرحوم نے ملازمت کو فوقیت دی، اور فشریز ڈپارٹمنٹ میں مستقلاً ملازمت اختیار کر لی۔
1974 میں ڈاؤ میڈیکل کالج کی طرف سے خالو مرحوم کو پیشکش ہوئی کہ کالج قوانین پھر سے تبدیل ہوئے ہیں، اور آپ اپنا تعلیمی سلسلہ وہیں سے شروع کر سکتے ہیں۔ جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ کالج انتظامیہ نے تعلیم کے ساتھ ملازمت کی اجازت بھی دے دی۔ عزیز و اقربا اور دوست و احباب جس نے بھی سنا۔ حیرت زدہ رہ گیا کہ خالو مرحوم عمر کے اس حصے میں ایم بی بی ایس کریں گے۔
1980 میں خالو مرحوم نے کمال ہمت و استقامت کے ساتھ ایم بی بی ایس مکمل کیا، اور ہاؤس جاب کا آغاز کیا۔ امی نے خالو مرحوم سے کہا: اشتیاق بہت دبلا پتلا ہے، اور کچھ کھاتا پیتا بھی نہیں ہے۔ اس کا میڈیکل چیک اپ کریں کہ کیا مسئلہ ہے۔
خالو مرحوم نے دوسرے دن ہی سول ہاسپٹل بلا لیا۔ ہاسپٹل پہنچا تو خالو مرحوم اسی اپنائیت اور محبت و شفقت سے ملے، جیسے ہمیشہ ملتے تھے۔ بہت سے ٹیسٹ کروائے۔ خود اور دیگر ماہر طبی ڈاکٹرز سے بھی طبی معائنہ کروایا، اور دو چار دن بعد امی کو آگاہ کیا کہ اشتیاق میاں بالکل ٹھیک ہیں۔ بس کھانے ان کی پسند کے پکائیں اور کھلائیں۔ انشاء اللہ صحت مزید بہتر ہو جائے گی۔ آج بھی وہ دور یاد آتا ہے تو خالو مرحوم کا خوب صورت ہنستا مسکراتا چہرہ نظروں کے سامنے آ جاتا ہے۔
خالو مرحوم امریکہ منتقل ہو گئے تھے، اور 16 اپریل 2000 کو پاکستان روانگی تھی۔ لیکن پاکستان روانہ ہونے سے چند دن قبل 10 اپریل 2000 کو روچسٹر، نیویارک، امریکہ میں انتقال کر گئے۔ خدا خالو مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
ا
نوٹ: مضمون میں شامل اقتباساتOld Familiar Faces ’سے لیے گئے ہیں۔





