تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر17
کمرے میں پھیلی مدھم سی زرد روشنی میں اس نے دادی ماں کو دیکھا، وہ چوک پر بچھی نرم چٹائی پر دراز سکون کی نیند سوتی دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ چہرے پر بے چینی سی تھی۔ اس نے دوسری نظر دادو پر ڈالی، وہ کروٹ بدلے لیٹے تھے۔ لالٹین کو اس نے پھونک ماری اور اس کے بجھتے ہی کمرے میں گھپ اندھیرا پھیل گیا۔ اندر اندھیرے کا طوفان تھا اور باہر باد و باراں کا۔ آہستہ آہستہ چلتا ہوا وہ اپنی چوک تک آیا۔ ابھی لیٹا بھی نہ تھا کہ ایک مہیب آواز نے لرزا دیا۔ دادی ماں فوراً ہی لاحول پڑھتے اٹھ بیٹھیں، دادو نے بھی استغفر اللہ پڑھا۔ اس نے قیاس کیا کہ باشا کے سامنے کا درخت ٹوٹ کر گرا ہے۔ دادی ماں نے قرآنی آیات کا ورد شروع کر دیا تھا۔ پچھلے دس بارہ دن سے متواتر بارشیں ہو رہی تھیں۔ دریا لوگوں کے گھر اور کھیت کاٹ لئے جا رہا تھا۔
وہ یوں تو لیٹ گیا پر یہ سوچ اس کی آنکھوں میں نیند نہ لا سکی کہ ان کا یہ ٹیلا جس پر ان کے سمیت سات آٹھ گھر آباد ہیں، کب تک انہیں اس طوفان سے پناہ دے گا، جو پانی کے چاروں طرف پھیلنے سے جزیرہ بن چکا ہے۔
”یہ رات بھاری نظر آتی ہے۔ مچان کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔“
اس نے دادی ماں کی قدرے خوف زدہ آواز کو سنا اور سوچا یہ ٹھیک کہتی ہیں، باشا کی ایکر اور گاب کی دیواریں لاکھ مضبوط سہی، پر پانی کے تیز بہاؤ کے سامنے تو یہ مٹی کے ڈھیر سے زیادہ نہیں۔ پھر بھی وہ ان کو دلاسا دینے کے لئے بولا۔
” آپ سو جائیے کچھ نہیں ہو گا۔ ہمارا ٹیلا کافی اونچا ہے۔“
یوں اپنی اس بات کا اسے ذرا بھی یقین نہ تھا کیونکہ اس سرزمین کے مقدر میں قدرت نے طوفان اور بارشیں لکھ ڈالی تھیں۔ یہاں کسے خبر تھی کہ پانی کے ریلے میں کب ایک ہنستا مسکراتا خاندان بہہ جائے گا۔ ہر سال ہی ایسا ہوتا، اس بار کچھ نئی بات تو تھی نہیں۔
اور جب وہ غنودگی میں تھا۔ اس نے دادی کی آواز سنی۔
” چھت میں سوراخ ہو گئے ہیں۔ اجتبیٰ الرحمٰن اٹھ جاؤ۔“
اور وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔ پانی بوچھاڑ کی شکل میں اندر آ رہا تھا۔ اندھیری رات میں جب بارش برچھی کی طرح ان کے جسموں سے ٹکرا رہی تھی، انہوں نے بہت تکلیف سے مچان باندھا۔ اپنے چہرے کو ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے کئی بار اس نے سوچا کہ وہ اتنا کاہل بھلا کاہے کو ہو گیا ہے۔ عبد اللہ اور تمیج کے ساتھ ہی اگر وہ رات کو اس کا بندوبست کر لیتا تو دادو کو اس وقت تکلیف تو نہ کرنی پڑتی۔
اور اس مچان پر وہ چار دن رہے۔ پانی ان کے ٹیلے پر بھی دندناتا آ گیا۔ باشا کی چھن کی چھت ڈھے گئی، دیواریں بیٹھ گئیں۔ ان دنوں میں ان دونوں پر بھی بہت نقاہت اور کمزوری غالب رہی جن کے بال ایسے ہی طوفانوں سے لڑتے لڑتے سفید ہو گئے تھے۔ کھانے کے لئے کٹھل کے سوا کسی بھی دوسری چیز کے ملنے کا سوال نہ تھا۔ سینکڑوں لوگ ڈوب گئے۔ بہت نقصان ہوا۔ صندوق میں رکھی دادو کی کتابیں جوان کے جیون کا اثاثہ تھیں اب گلنا شروع ہو گئی تھیں اور دادو کو سب سے زیادہ ان ہی کا غم تھا۔ اس نے ان سے کہا بھی کہ آپ کیوں چنتا کرتے ہیں؟ یہ سوکھ کر سب ٹھیک ہوجائیں گی۔ پر وہ غم زادہ آواز میں بولے تھے
”بچہ! سورج نکلے گا تب سوکھیں گی نا اور اس کے نکلنے کی آس کہاں ہے۔“
گھر بہنے کا غم، قیمتی کتابوں کے ضائع ہونے کا صدمہ، آسمان کی ہر دم ٹپکتی چھت تلے بھوکے پیٹ اور بے سکونی کی حالت، ان کی قوت ارادی کتنے دن انہیں مضبوط رکھتی۔ وہ بیمار پڑ گئے تھے اور وہ جو ان کی نصف بہتر تھیں، انہیں بھی بخار نے آ دبوچا تھا۔ ساتھ کی باشاؤں کے بہت سے لوگ بھی بیماری کا شکار ہو رہے تھے۔ حیدر علی کا چھوٹا بچہ رات میں مر گیا تھا۔ ایسے میں اس پندرہ سالہ لڑکے نے اپنی مجبوریوں پر بہت غم کھایا۔ یہ میرے دادو اور دادی میرے ہوتے ہوئے بھی اتنے لاچار ہوجائیں، کیسے ممکن ہے، تمیز کی ایک نوکا جانے کیسے بچ گئی تھی۔ اسی میں وہ شہر کے لئے چل دیا۔ ایک افراتفری مچی تھی وہاں، بہت دوڑ دھوپ کی تب کہیں جا کر ایک امدادی کیمپ سے اس نے چاول اور دوائی پائی۔
اس کی ہر کوشش بے کار گئی۔ دادو کا بخار نہ اتر سکا۔ اس کے سامنے اور بھی بہت سے سنگین مسائل اب آن کھڑے ہوئے تھے۔ وہ جو یوں ننگے سر بارہ دن سے بیٹھے تھے اسے ڈھانپنا بھی تھا۔ اپنے حوصلے کو بھی برقرار رکھنا تھا۔ کڑے وقت میں ہمت بندھانے والا تو اس وقت آنکھیں بند کیے اس کے رحم وکرم پر پڑا تھا۔ اس دن عبد اللہ کی بہن جھرنا کو ان کے پاس بٹھا کر وہ خود شہر کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ امدادی دفتروں کے چکر لگائے پر وہ سیر بھر چاول بھی نہ حاصل کر سکا۔ اپنے بیمار دادو کے لئے اسے گندم کے آٹے کی ضرورت تھی۔
باریسال شہر کی سڑکوں پر پھرتے پھرتے اس کے پاؤں دُکھنے لگے تھے پر امید کی ایک کرن نہ جھلملائی۔ یوں خالی ہاتھ وہ گھر بھی نہ جا رہا تھا۔ وقت گزر رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا دل بھی ڈوب رہا تھا۔
”وہ اب کیا کرے؟“
(جاری ہے )


