ورلڈ یوتھ سکلز ڈے، نوجوانوں کا ہنر ہی ان کا مستقبل ہے
دنیا ہر لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی برق رفتاری، معیشت کی بدلتی شکلیں، اور روزگار کے نت نئے تقاضے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمارا نوجوان نہ صرف تعلیم یافتہ ہو بلکہ مہارتوں سے بھی آراستہ ہو۔ انہی ضروریات کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 15 جولائی کو ”ورلڈ یوتھ سکلز ڈے“ منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک یاد دہانی نہیں، بلکہ ایک عالمی پیغام ہے۔ ”اگر تمہارا نوجوان ہنر مند ہے، تو تمہارا کل محفوظ ہے۔“
2014 میں اقوامِ متحدہ نے اس دن کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تاکہ دنیا بھر میں نوجوانوں کی فنی و تکنیکی تربیت کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔ آج بھی کروڑوں نوجوان صرف اس لیے بے روزگار ہیں کہ ان کے پاس عملی ہنر نہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صرف ڈگریاں کافی نہیں، ہمیں مہارت بھی چاہیے۔
پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو کسی نعمت سے کم نہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام ہنر اور روزگار سے نابلد ہے۔ نتیجتاً لاکھوں نوجوان ڈگری یافتہ تو ہیں لیکن باصلاحیت اور خود کفیل نہیں۔ یہ وہی نوجوان ہیں جو اگر درست رہنمائی اور تربیت حاصل کر لیں تو نہ صرف خود روزگار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی روزگار دے سکتے ہیں۔ چاہے وہ فری لانسنگ ہو، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، زراعت، سولر انرجی، ای کامرس یا سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ ہر شعبہ ان کے لیے دروازے کھول سکتا ہے، بس شرط ہے کہ انہیں وہ دروازے دکھائے جائیں۔
ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہاں ڈیجیٹل مہارتیں صرف اختیار نہیں بلکہ بقا کی ضمانت ہیں۔ ایک لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ کنیکشن اور چند درست مہارتیں، آج کے نوجوان کو عالمی منڈی سے جوڑ سکتی ہیں۔ Fiverr، Upwork، YouTube، Shopify اور Amazon جیسے پلیٹ فارمز پر لاکھوں پاکستانی نوجوان پہلے ہی موجود ہیں مگر یہ تعداد ناکافی ہے۔ سوال یہ ہے کیا ہم اپنے نوجوانوں کو اس انقلاب میں شریک ہونے کے قابل بنا رہے ہیں؟
ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنا آج کی سب سے موثر سرمایہ کاری ہے۔ گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، اور کونٹینٹ رائٹنگ جیسے شعبے بغیر بڑے سرمائے کے سیکھے جا سکتے ہیں اور ان سے دنیا بھر میں کمائی ممکن ہے۔ اسی طرح زراعت، پولٹری، فش فارمنگ، اور شہد کی پیداوار جیسے روایتی شعبے بھی جدید طریقوں سے اپنائے جائیں تو دیہی نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
چھوٹے کاروبار کا آغاز کسی بڑے قرض یا دفتر سے نہیں، بلکہ ایک بڑے ارادے سے ہوتا ہے۔ گھر سے شروع ہونے والے کئی آن لائن اسٹورز، فوڈ برانڈز، اور سروسز نے خود کو قومی برانڈز میں تبدیل کر لیا ہے۔ سیکھنے، تحقیق کرنے، اور صبر سے کام لینے والا نوجوان چند ہی سال میں مالی طور پر خودمختار ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست ان نوجوانوں کی مدد کرے، رہنمائی دے اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے مواقع فراہم کرے۔
ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ مہارت کو بھی لازمی بنانا ہو گا۔ اسکولوں اور کالجوں میں سکل بیسڈ پروگرامز کا آغاز، ووکیشنل اداروں کی اپ گریڈیشن، دیہی علاقوں میں تربیتی مراکز، اور کامیاب نوجوانوں کو میڈیا پر بطور رول ماڈل پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سرکاری سطح پر آسان قرضوں، شفاف انٹرن شپ پروگرامز، اور کاروباری رہنمائی کا منظم نظام نوجوانوں کو ہنر مند اور خود کفیل بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
ورلڈ یوتھ سکلز ڈے صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک سوچ ہے۔ اگر ہم نے آج کے نوجوان کو صرف رٹّا یاد کروایا تو وہ کل ہاتھ پھیلائے گا اور اگر اسے ہنر سکھایا تو وہ کل ہاتھ بڑھائے گا۔ ”دینے کے لیے مانگنے کے لیے نہیں“ آئیے اس دن پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی نسلِ نو کو صرف علم نہیں ہنر بھی دیں گے۔ کیونکہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جہاں نوجوان صرف خواب نہیں دیکھتے بلکہ اُن خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے قابل بھی ہوتے ہیں۔


