ناصر عباس نیر کی کہانیاں …. نئی دکان بطرزِ حالی


ناصر عباس نیر نے، جو بہ طور نقاد مشہور ہیں، اب ایک نئے کوچے میں قدم رکھا ہے یعنی انھوں نے فکشن بھی لکھنا شروع کر دیا ہے۔ معلوم نہیں اس خبر سے کون کم محظوظ ہوگا، فکشن نگار یا نقاد؟ کسی طرح کی تشویش تو دونوں کو لاحق ہو سکتی ہے۔
ناصر عباس نیر ”خاک کی مہک“ کے عنوان سے افسانوں کا جو مجموعہ ہمارے سامنے لائے ہیں اس کے پہلے ہی افسانے ”کہانی کا کوہِ ندا“ میں خاص بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ یہ بالکل بدیہی ہے کہ فکشن کا سچ سچ اور جھوٹ جھوٹ نہیں ہوتا۔ یہ اتنی سامنے کی بات ہے کہ اکثر اوقات اس پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جسے ہم حقیقت سمجھتے ہیں وہ بھی بڑی حد تک خود ساختہ حقیقت ہوتی ہے اور، بزعم خود، اپنی سچائی اور دوسروں کے جھوٹ، یا اس کے بالعکس، کو گڈ مڈ کرنے کے خاصے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں اور اس التباس کی وجہ سے آدمی پھانسی بھی چڑھے ہیں اور قتل بھی ہوے ہیں۔ خود تاریخ میں بھی بہت کچھ ایسا ہے جو فکشن ہے اور متعدد لوگ اسے فکشن سمجھ کر ہی پڑھتے ہیں اور اس کے باوجود مصر رہتے ہیں کہ حقائق سے آگاہی حاصل ہو رہی ہے۔ صحیح راستہ تلاش کرنا پہلے بھی آسان نہ تھا لیکن نئے مخمصوں میں الجھ کر اب زیادہ مشکل ہو چلا ہے۔
”کہانی کا کوہِ ندا“ کلاس روم سے باہر نہیں نکلتا۔ اس میں استاد طالب علموں کو یہ بتانے کی کوشش کررہا ہے کہ کہانی کو زندگی کا مثیل سمجھ لینے سے کیا کیا قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ بعض واقعات کو کہانی کی شکل دے کر سنانے والے یا تو دوسروں کی توجہ یا ہم دردی حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اپنی گھڑی ہوئی کہانی کو حدیثِ دیگراں کی شکل دے کر بالواسطہ لذت لینے کے خواہاں ہیں۔ انھیں یہ خیال نہیں آتا کہ ان کا سامع افسانے اور حقیقت کے اس تانے بانے میں الجھ کر زندگی کی نئی تعبیر کرتے کرتے، جو بذات خود ایک نوع کا فریب ہوتی ہے، جان داﺅ پر لگا سکتا ہے۔ کلاس روم کی فضا اس افسانے کی اثر انگیزی کو تھوڑا محدود کر دیتی ہے لیکن اگر اسے کتاب کی تمہید یا پیش گفتار قرار دے کر پڑھا جائے تو باموقع معلوم ہوتی ہے اور باقی افسانوں سے ربطِ خفی قائم کرنے میں کام یاب ہے۔
”کفارہ“ میں مرکزی کردار کو یہ دبدھا درپیش ہے کہ خواب کی مملکت اور بیداری کی دنیا میں فرق کیسے کرے اور اگر یہ متداخل ہیں تو زندگی موت میں اور موت زندگی میں پیوست ہونی چاہیے۔ اور یہی خیال آخر میں اسے ایک ایسا سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے جس کی کوئی تک نہیں کیوں کہ اس کا جواب کسی حقیقی دنیا میں نہیں دیا جا سکتا۔ اسی قسم کا سوال ایک اور افسانے میں ایک دکھی ماں، اپنے فوت شدہ بچوں کی عاقبت کے خیال سے، گا ﺅں کے مولوی سے کرتی ہے اور ظاہر ہے مولوی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
”ولدیت کا خانہ“ میں ایک باپ اس شک میں مبتلا ہے کہ اس کا بیٹا کسی اور کے نطفے سے ہے۔ حرامی بچے کا باپ ہونے کا تصور اذیت ناک ہے اور اگر یہ اعصاب پر سوار ہو جائے تو پھر صورت حال تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی۔ افسانے کا اختتام ناممکنات سے تو نہیں لیکن اس طرح کی معقولیت اور موم دلی کی گنجائش موجودہ پاکستانی معاشرے میں کہاں ہے۔ ”خاک کی مہک“ ایک ایسے فرد کے اپنے وسوسوں سے دوبدو ہونے کی روداد ہے جس نے گاؤں کی مسجد کی امامت چھوڑ کر افسانہ نگار بننے کو ترجیح دی ہے۔ یہ دلیرانہ فیصلہ ہے گو اس کی قیمت جلد یا بدیر ادا کرنی پڑے گی۔ ڈگر سے ہٹ کر سوچنا آزادی کو اختیار کرنے کے مترادف ہے۔
”ہاں، یہ بھی روشنی ہے“ میں ایک مرد کو، جو اپنی بیوی اور ہونے والی بچی کو چھوڑ کر نروان کی تلاش میں نکل پڑا تھا، آخر میں بیوی بتاتی ہے کہ وہ کیا کچھ سہہ چکی ہے۔ اس افسانے میں سارے معاملے کو بیوی کے نقطہ¿ نظر سے دیکھا گیا ہے جو مثبت انداز ہے۔ نروان کی تلاش بجا لیکن انسانی رشتے کسی بھی اعتبار سے کم نہیں۔ یہاں بیوی حق پر اور شوہر خطا کار نظر آنے لگتا ہے۔
”جھوٹ کا فیسٹیول“ بھی دل چسپ ہے اور دیکھا جائے تو کتاب میں شامل افسانے، لگتا ہے، اسی فیسٹیول سے نکل کر کتاب کے صفحوں پر براجمان ہو گئے ہیں۔ آخر میں چند ”حکایاتِ جدید و مابعد جدید“ ہیں جن میں قابل ذکر ”بشن سنگھ ابھی مرا نہیں تھا“ ہے۔ بے شک، بشن سنگھ مرا کہاں ہے۔ وہ اور ہم سب زخم خوردہ چلے آ رہے ہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ اذیت کا یہ دور کب ختم ہوگا۔
یہ کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ابھی نقاد نے افسانہ نگار کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ قارئین کو انگلی پکڑ کر ساتھ لیے لیے پھرنے کی عادت سے اچانک چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا۔ افسانے اور افسانہ نگار کو جتنی خود مختاری درکار ہے وہ ابھی نہیں ملی۔ لطف اس میں ہے کہ کچھ بتانا نہ پڑے، بیانیے سے مسئلے کے تمام پہلو روشن ہوتے چلے جائیں۔ بطور نقاد، ناصر عباس نیر کسی قسم کی عبارت آرائی، رنگین بیانی اور جذباتیت کو پاس نہیں پھٹکنے دیتے۔ منطقی اور قدرے روکھے انداز میں نفسِ مضمون کو بیان کو ادا کرتے جاتے ہیں۔ جس انداز کی تنقید کو انھوں نے اپنایا ہے اس کا تقاضا بھی یہی ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑا سا روکھا پن ان کے افسانوں میں بھی سرایت کر گیا ہے۔ شاید آگے چل کر یہ عنصر ان کی افسانوی دنیا سے خارج ہو جائے۔ شگفتگی پر اصرار تو مناسب نہ ہوگا لیکن نثر میں تھوڑا سالوچ ہو تو کیا مضائقہ ہے۔ مروج اردو افسانوں میں ناصر عباس نیر کی یہ کاوش الگ ذائقہ رکھتی ہے اور خوش آئند ہے۔
خاک کی مہک از ناصر عباس نیر
ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور
صفحات، 160؛ 700روپیے

Facebook Comments HS