مصباح الحق عمران خان سے بڑے کپتان نہیں۔۔۔


مصباح الحق کو عمران خان سے بڑا کپتان ثابت کرنے والوں کی نیت پر شک نہ بھی کیا جائے تو یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کرکٹ پران کی نظر سرسری ہے اور وہ اعداد و شمار کا سہارا لے کر سیاست دان عمران خان پر چڑھا غصہ کرکٹر عمران خان پر اتارنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کو پاکستان کا بہترین کپتان قرار دینے سے یہ مراد تھوڑی ہے کہ مصباح الحق کی بطور کپتان کامیابیوں کو گہنایا جائے۔ مصباح الحق بلاشبہ پاکستان کے ممتاز کپتان ہیں۔ ان کے جیسے نامساعد حالات میں کسی اور نے بارِکپتانی نہیں اٹھایا۔ مصباح الحق کپتان بنے تو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہیں ہو رہی تھی (خیر سے اب بھی صورت حال جوں کی توں ہے) سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے ٹیم کا حوصلہ پست کردیا تھا۔ تتر بتر ٹیم کو مصباح الحق نے ون یونٹ بنایا اور بینظیر فتوحات حاصل کیں۔ کپتان اورکھلاڑی کے طور پر ان کی کارکردگی اور بھی اہمیت کی حامل اس واسطے ہے کہ جب وہ کپتان بنے ان کا کیرئیر تقریباً ختم ہوگیا تھا۔ سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے نہ آتا تو کپتان بننا درکنار ٹیم میں ان کی جگہ ہی نہ بنتی۔ مصباح الحق کپتان مقرر ہوئے تو ان کے حامی بہت کم تھے، میڈیا کی بیجا تنقید کا انھیں سامنا تھا ، لیکن وہ اس سے بے نیاز ٹیم کی تعمیرمیں لگے رہے اورپھر وہ وقت آیا کہ پاکستان ٹیسٹ میں دنیا کی نمبر ون ٹیم بن گئی۔ بلاشبہ یہ عظیم کارنامہ ہے لیکن اس کے باوجود انھیں عمران خان سے بڑا کپتان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان کیوں ہیں؟ آئیے اس کی وجوہات جانیں۔

80 ء کی دہائی میں ویسٹ انڈیزکی ٹیم کالی آندھی کہلاتی تھی۔ مخالف ٹیمیں اس کے غیظ سے پناہ مانگتیں۔ بڑی بڑی ٹیموں کا چراغ اس نے گُل کیا۔ یہ ٹیم تاریخ کرکٹ کی مضبوط ترین ٹیم قرار دی جاتی ہے۔ پاکستان 80 ء کے عشرے میں وہ واحد ٹیم تھی، جس نے ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری۔ اس عرصے میں ویسٹ انڈیزکی سرزمین پر ٹیسٹ بھی صرف پاکستان جیت پایا۔ اس میچ میں عمران خان گیارہ وکٹیں حاصل کرکے مین آف دی میچ ٹھہرے۔ عمران خان کی کپتانی میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری سیریز 1990ء میں کھیلی۔ لاہور میں ہونے والے آخری ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم چوتھی اننگز میں مشکل میں پھنس گئی، عمران خان نے58 رنزناٹ آؤٹ کی مزاحمتی اننگز کھیلی تو پاکستان میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوا اور سیریز ایک ایک سے برابر ہوگئی۔

عمران خان کی کپتانی میں 1986ء میں پاکستان نے فیصل آباد ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 53 رنز پرآؤٹ کر کے خفت سے دو چار کیا۔ عبدالقادر نے سولہ رنز دے کر چھ بیٹسمینوں کو پویلین بھیجا۔ میڈیا کی زبان کا سہارا لیا جائے توکہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کا غرور خاک میں ملا دیا۔

کرکٹ پر موقوف نہیں زندگی کا کوئی میدان ہو،اس میں عظمت کا تعین حریف کی قوت کے اعتبار سے ہوتا ہے ، لولی لنگڑی ٹیم سے سیریز تین صفر سے جیتنے اوراپنے وقت کی مضبوط ترین ٹیم سے ایک ایک سے سیریز ڈرا کرنے پر لال بجھکڑ تو اسے ہی بڑا کپتان قرار دیں گے جس نے تین صفر سے حریف کو چت کیا لیکن کرکٹ کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے نزدیک تگڑے حریف سے سیریزڈرا کرنے کی اہمیت زیادہ ہوگی۔عمران خان نے بطور کپتان اوربھی بہتیری کامیابیاں حاصل کیں مگر ویسٹ انڈیزسے سیریز نہ ہارنے کو وہ اپنے دورِکپتانی کا اہم ترین کارنامہ گردانتے ہیں۔ نامور کرکٹ لکھاری راب سمتھ کا خیال ہے کہ, 1987-88 ,1986-87 1990-91میں ڈرا ہونے والی مسلسل تین سیریز وہ کرکٹ کلاسکس ہیں کہ ان پر الگ سے کتاب ، ڈاکومنٹری یا منی سیریز ہونی چاہیے۔ عمران خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ویسٹ انڈیز سے 1993ء میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان ہار گیا جبکہ وہ ٹیم عمران خان کی ٹیم سے زیادہ مضبوط تھی۔

عمران خان کی کپتانی میں پاکستان ٹیم نے انگلینڈ میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 1954 میں اپنے پہلے دورہ انگلنیڈ میں پاکستان نے اوول ٹیسٹ جیت کر دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان پانچ دفعہ انگلینڈ گیا لیکن ٹیسٹ جیتے بغیر واپس لوٹا۔ اس سرزمین پر دوسرا ٹیسٹ جیتنے کی نوبت 1982 میں اس وقت آئی جب عمران کپتان بنے اور پاکستان نے لارڈزمیں دس وکٹوں سے جیت اپنے نام کی۔ انگلنیڈ کو انگلینڈ میں سیریز ہرانے کا کارنامہ بھی 1987 میں عمران کی کپتانی میں انجام پایا۔ سیریز کے واحد نتیجہ خیز لیڈزٹیسٹ میں عمران خان دس وکٹیں لے کرمین آف دی میچ قرار پائے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ ان کے کپتانی سنبھالنے سے قبل ہم نفسیاتی طور پر گوروں سے اس قدرمرعوب اور دبے ہوئے تھے کہ بعضے جیتا ہوا میچ ہار گئے لیکن انھوں نے کپتان بن کراس ذہنی غلامی سے ٹیم کو نجات دلائی ، اسے اعتماد دیا، جس سے انگلنیڈ میں وہ جیتے۔

برطانیہ ہمارا سابق آقا ہے تو ہندوستان روایتی حریف، جس کی سرزمین پرٹیسٹ سیریز جیتنے کا سنگ میل بھی پاکستان نے عمران خان کی کپتانی میں عبور کیا۔ 1992ء کے ورلڈ کپ میں فتح سے پہلے جس کامیابی نے پاکستانیوں کو سب سے بڑھ کر سرشارکیا ، وہ ہندوستان کو ہندوستان میں ہرانا تھا۔ بنگلورٹیسٹ میں پہلی اننگزمیں 116رنز پر پاکستان ٹیم کے آؤٹ ہونے اور سخت تناؤ کے ماحول کے باوجود میچ جیتنا عمران خان کی بہترین حکمت عملی اور مضبوط اعصاب کا غماز تھا۔ ماحول کی گرمی کا اندازہ عمران کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے :

جاوید میانداد بیٹسمین کے قریب فیلڈنگ کر رہے تھے۔ اپیل ہوتی تھی اور امپائر ناٹ آؤٹ دے دیتا تھا۔ آہستہ آہستہ جاوید میانداد کو غصہ چڑھنے لگ گیا۔ مجھے جاوید کی شکل سے خوف آنے لگ گیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میچ جیتیں گے تو کل اخباروں میں ہماری جیت کی بات ہوگی لیکن جب جاوید کی شکل دیکھی تو مجھے شک ہوا کہ کہیں کل اخباروں میں یہ نہ ہو کہ جاوید نے امپائر کو قتل کردیا۔۔۔ جب بھی اپیل ہوتی اور جاوید غصے میں امپائر کی جانب بڑھتے تو میں ان کے اور امپائر کے بیچ میں آجاتا۔ ‘‘

عمران خان کی ذاتی کارکردگی اور ان کی کپتانی کے جوہر، حریف جتنا قوی ہوتا اتنے زیادہ کھلتے۔ ان کو جس چیز نے بڑا کپتان بنایا وہ ویسٹ انڈیز، انگلینڈ اور ہندوستان میں ٹیم کا بہترین کھیل تھا۔ ان کی قیادت میں 1988 میں پاکستان نے بہترین ٹیسٹ ٹیم کی پوزیشن حاصل کی۔

عمران خان ریکارڈ بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتے تو 1990 میں وہ نیوزی لینڈ کو بی ٹیم قرار دے کر اس کے خلاف کھیلنے سے انکار نہ کرتے۔ اس سیریز میں ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں وائٹ واش کر کے میانداد نے اپنی کپتانی کاریکارڈ بہتر بنایا۔ عمران خان کا کپتانی میں رتبہ بڑھانے میں ٹیسٹ کے ساتھ ون ڈے میں ٹیم کی عمدہ کارکردگی نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1992 میں ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان تھے۔ انھی کی کپتانی میں پاکستان نے 1986 میں آسٹریلشیا کپ جیت کر پہلی دفعہ کسی ون ڈے ٹورنامنٹ میں فتح حاصل کی۔ نہرو کپ جیتا۔ عظیم ویوین رچرڈز کو دو دفعہ پاکستان سے ون ڈے میں شکست نے بہت مایوس کیا۔ ایک دفعہ جب ویسٹ انڈ 87 کے ورلڈکپ میں میچ ہار کرٹورنامنٹ سے باہر ہوا، دوسری بار نہرو کپ کے فائنل میں جب اسے شکست ہوئی۔ دونوں موقعوں پر عمران خان کپتان تھے۔

کپتان کی اہم ذمہ داری نئے ٹیلنٹ کی کھوج ہے۔ یہ کام عمران خان سے بہتر کسی اور کپتان نے نہیں کیا۔ اس کا اندازہ لگانے کے لیے وقار یونس کی مثال دی جاسکتی ہے، عمران نے ان کی بولنگ ٹی وی پر دیکھ کر ٹیلنٹ کا اندازہ لگایا اورقومی ٹیم کا حصہ بنالیا۔ انضمام الحق کو ٹیم میں لانے والے بھی وہی تھے۔ عمران نے کرکٹ کو خیرباد کہا تو اپنے پیچھے اس سے کہیں مضبوط ٹیم چھوڑ کرگئے جو انھیں 1982 میں ملی تھی۔ عمران خان کے بقول، یہ ٹیم آیندہ آنے والے دو ورلڈ مقابلوں میں جیت کے لیے فیورٹ تھی۔ سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر مدثر نذر کے بقول، عمران خان کے بعد کی پاکستانی ٹیم، نوے کے عشرے میں آسٹریلیا سے بڑی ٹیم تھی۔ کپتان کے طور پرعمران خان نے نئے تجربات کئے، ون ڈے میں لیگ اسپنر کو کھلانے کا تصور نہ تھا لیکن انھوں نے عبدالقادراور مشتاق احمد کو بڑی عمدگی سے استعمال کیا۔ بولروں پر رنز روکنے کے بجائے وکٹ حاصل کرنے پر زور دیا اور اس تدبیر سے مثبت نتائج حاصل کئے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی سب سے بڑی کنٹری بیوشن نیوٹرل امپائرز کے لیے آواز بلند کرنا تھی، نیوٹرل امپائرنگ کے باعث کرکٹ میں بکھیڑوں میں جو کمی آئی ہے اس کا کریڈٹ بڑی حد تک عمران خان کو جاتا ہے۔

اب کچھ بات مصباح الحق کی کپتانی پر ہوجائے۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے کسی ٹیم کو اس کی سرزمین پر شکست نہیں دی۔ انگلینڈکے خلاف سیریز برابرکرنا بڑی بات ہے لیکن یہ کوئی ایسا بڑا کارنامہ اس لیے نہیں کہ پاکستان عمران ، میانداد اور وسیم اکرم کی کپتانی میں انگلینڈ میں سیریز جیت چکا ہے اور سیریز برابر کرنے میں وہ وقار یونس کی کپتانی میں بھی کامیاب ہوگیا تھا۔عالمی درجہ بندی میں نمبر ون انگلینڈکی ٹیم کو متحدہ عرب امارات میں تین صفر سے ہرانا مصباح الحق کا بطور کپتان سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ 2014 میں شارجہ میں سری لنکا کے خلاف سیریزکے تیسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرنا بھی اہم کامیابی تھی۔ آخری اننگز میں پاکستان کو جیت کے لیے 59 اوورز میں 302 اسکور چاہیے تھا۔ چوتھی اننگزمیں بیٹنگ تو یوں بھی مشکل ہوتی ہے، پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کا حال تو اور بھی پتلا ہوتا ہے لیکن پاکستان نے اس اننگز میں جب اسے 5.25 کی اوسط سے رنز کرنے تھے، معرکہ مار لیا اور یہ کرکٹ کی تاریخ میں تین سو سے زیادہ رنز کا سب سے تیزتعاقب ٹھہرا۔ یہ جیت مصباح کی کپتانی میں مثبت اور جارحانہ طرز کرکٹ کی بہترین مثال تھی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مسلسل پانچوں ٹیسٹ میچوں میں شکست سے بطور کپتان مصباح کا گراف نیچے آیا۔

ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں طرز کی کرکٹ میں کامیابیوں نے عمران خان کے مرتبے کو بڑھایا، مصباح الحق نے ٹیسٹ کپتان کے طورکامیاب رہے لیکن ون ڈے میں کوئی ایسا کارنامہ ان کے پلے نہیں جس کی بنا پر وہ یاد رکھے جائیں۔ جنوبی افریقہ اور انڈیا میں ون ڈے سیریزمیں جیت کوہی بطور کپتان ان کی بڑی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ عمران اور مصباح الحق کی ون ڈے میں کپتانی کا فرق اس بات سے واضح ہوجاتا ہے کہ عمران خان نے ٹیم کو ورلڈ چیمئین بنوا کرکپتانی چھوڑی۔ مصباح الحق کپتانی سے الگ ہوئے تو عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا آٹھواں نمبر تھا۔

Facebook Comments HS