مصباح الحق عمران خان سے بڑے کپتان نہیں۔۔۔


عمران خان کی کپتانی میں 1986ء میں پاکستان نے فیصل آباد ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 53 رنز پرآؤٹ کر کے خفت سے دو چار کیا۔ عبدالقادر نے سولہ رنز دے کر چھ بیٹسمینوں کو پویلین بھیجا۔ میڈیا کی زبان کا سہارا لیا جائے توکہا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کا غرور خاک میں ملا دیا۔
کرکٹ پر موقوف نہیں زندگی کا کوئی میدان ہو،اس میں عظمت کا تعین حریف کی قوت کے اعتبار سے ہوتا ہے ، لولی لنگڑی ٹیم سے سیریز تین صفر سے جیتنے اوراپنے وقت کی مضبوط ترین ٹیم سے ایک ایک سے سیریز ڈرا کرنے پر لال بجھکڑ تو اسے ہی بڑا کپتان قرار دیں گے جس نے تین صفر سے حریف کو چت کیا لیکن کرکٹ کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے نزدیک تگڑے حریف سے سیریزڈرا کرنے کی اہمیت زیادہ ہوگی۔عمران خان نے بطور کپتان اوربھی بہتیری کامیابیاں حاصل کیں مگر ویسٹ انڈیزسے سیریز نہ ہارنے کو وہ اپنے دورِکپتانی کا اہم ترین کارنامہ گردانتے ہیں۔ نامور کرکٹ لکھاری راب سمتھ کا خیال ہے کہ, 1987-88 ,1986-87 1990-91میں ڈرا ہونے والی مسلسل تین سیریز وہ کرکٹ کلاسکس ہیں کہ ان پر الگ سے کتاب ، ڈاکومنٹری یا منی سیریز ہونی چاہیے۔ عمران خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ویسٹ انڈیز سے 1993ء میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان ہار گیا جبکہ وہ ٹیم عمران خان کی ٹیم سے زیادہ مضبوط تھی۔

برطانیہ ہمارا سابق آقا ہے تو ہندوستان روایتی حریف، جس کی سرزمین پرٹیسٹ سیریز جیتنے کا سنگ میل بھی پاکستان نے عمران خان کی کپتانی میں عبور کیا۔ 1992ء کے ورلڈ کپ میں فتح سے پہلے جس کامیابی نے پاکستانیوں کو سب سے بڑھ کر سرشارکیا ، وہ ہندوستان کو ہندوستان میں ہرانا تھا۔ بنگلورٹیسٹ میں پہلی اننگزمیں 116رنز پر پاکستان ٹیم کے آؤٹ ہونے اور سخت تناؤ کے ماحول کے باوجود میچ جیتنا عمران خان کی بہترین حکمت عملی اور مضبوط اعصاب کا غماز تھا۔ ماحول کی گرمی کا اندازہ عمران کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے :
جاوید میانداد بیٹسمین کے قریب فیلڈنگ کر رہے تھے۔ اپیل ہوتی تھی اور امپائر ناٹ آؤٹ دے دیتا تھا۔ آہستہ آہستہ جاوید میانداد کو غصہ چڑھنے لگ گیا۔ مجھے جاوید کی شکل سے خوف آنے لگ گیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میچ جیتیں گے تو کل اخباروں میں ہماری جیت کی بات ہوگی لیکن جب جاوید کی شکل دیکھی تو مجھے شک ہوا کہ کہیں کل اخباروں میں یہ نہ ہو کہ جاوید نے امپائر کو قتل کردیا۔۔۔ جب بھی اپیل ہوتی اور جاوید غصے میں امپائر کی جانب بڑھتے تو میں ان کے اور امپائر کے بیچ میں آجاتا۔ ‘‘
عمران خان کی ذاتی کارکردگی اور ان کی کپتانی کے جوہر، حریف جتنا قوی ہوتا اتنے زیادہ کھلتے۔ ان کو جس چیز نے بڑا کپتان بنایا وہ ویسٹ انڈیز، انگلینڈ اور ہندوستان میں ٹیم کا بہترین کھیل تھا۔ ان کی قیادت میں 1988 میں پاکستان نے بہترین ٹیسٹ ٹیم کی پوزیشن حاصل کی۔
عمران خان ریکارڈ بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتے تو 1990 میں وہ نیوزی لینڈ کو بی ٹیم قرار دے کر اس کے خلاف کھیلنے سے انکار نہ کرتے۔ اس سیریز میں ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں وائٹ واش کر کے میانداد نے اپنی کپتانی کاریکارڈ بہتر بنایا۔ عمران خان کا کپتانی میں رتبہ بڑھانے میں ٹیسٹ کے ساتھ ون ڈے میں ٹیم کی عمدہ کارکردگی نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1992 میں ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان تھے۔ انھی کی کپتانی میں پاکستان نے 1986 میں آسٹریلشیا کپ جیت کر پہلی دفعہ کسی ون ڈے ٹورنامنٹ میں فتح حاصل کی۔ نہرو کپ جیتا۔ عظیم ویوین رچرڈز کو دو دفعہ پاکستان سے ون ڈے میں شکست نے بہت مایوس کیا۔ ایک دفعہ جب ویسٹ انڈ 87 کے ورلڈکپ میں میچ ہار کرٹورنامنٹ سے باہر ہوا، دوسری بار نہرو کپ کے فائنل میں جب اسے شکست ہوئی۔ دونوں موقعوں پر عمران خان کپتان تھے۔
کپتان کی اہم ذمہ داری نئے ٹیلنٹ کی کھوج ہے۔ یہ کام عمران خان سے بہتر کسی اور کپتان نے نہیں کیا۔ اس کا اندازہ لگانے کے لیے وقار یونس کی مثال دی جاسکتی ہے، عمران نے ان کی بولنگ ٹی وی پر دیکھ کر ٹیلنٹ کا اندازہ لگایا اورقومی ٹیم کا حصہ بنالیا۔ انضمام الحق کو ٹیم میں لانے والے بھی وہی تھے۔ عمران نے کرکٹ کو خیرباد کہا تو اپنے پیچھے اس سے کہیں مضبوط ٹیم چھوڑ کرگئے جو انھیں 1982 میں ملی تھی۔ عمران خان کے بقول، یہ ٹیم آیندہ آنے والے دو ورلڈ مقابلوں میں جیت کے لیے فیورٹ تھی۔ سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر مدثر نذر کے بقول، عمران خان کے بعد کی پاکستانی ٹیم، نوے کے عشرے میں آسٹریلیا سے بڑی ٹیم تھی۔ کپتان کے طور پرعمران خان نے نئے تجربات کئے، ون ڈے میں لیگ اسپنر کو کھلانے کا تصور نہ تھا لیکن انھوں نے عبدالقادراور مشتاق احمد کو بڑی عمدگی سے استعمال کیا۔ بولروں پر رنز روکنے کے بجائے وکٹ حاصل کرنے پر زور دیا اور اس تدبیر سے مثبت نتائج حاصل کئے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی سب سے بڑی کنٹری بیوشن نیوٹرل امپائرز کے لیے آواز بلند کرنا تھی، نیوٹرل امپائرنگ کے باعث کرکٹ میں بکھیڑوں میں جو کمی آئی ہے اس کا کریڈٹ بڑی حد تک عمران خان کو جاتا ہے۔
اب کچھ بات مصباح الحق کی کپتانی پر ہوجائے۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے کسی ٹیم کو اس کی سرزمین پر شکست نہیں دی۔ انگلینڈکے خلاف سیریز برابرکرنا بڑی بات ہے لیکن یہ کوئی ایسا بڑا کارنامہ اس لیے نہیں کہ پاکستان عمران ، میانداد اور وسیم اکرم کی کپتانی میں انگلینڈ میں سیریز جیت چکا ہے اور سیریز برابر کرنے میں وہ وقار یونس کی کپتانی میں بھی کامیاب ہوگیا تھا۔عالمی درجہ بندی میں نمبر ون انگلینڈکی ٹیم کو متحدہ عرب امارات میں تین صفر سے ہرانا مصباح الحق کا بطور کپتان سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ 2014 میں شارجہ میں سری لنکا کے خلاف سیریزکے تیسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرنا بھی اہم کامیابی تھی۔ آخری اننگز میں پاکستان کو جیت کے لیے 59 اوورز میں 302 اسکور چاہیے تھا۔ چوتھی اننگزمیں بیٹنگ تو یوں بھی مشکل ہوتی ہے، پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کا حال تو اور بھی پتلا ہوتا ہے لیکن پاکستان نے اس اننگز میں جب اسے 5.25 کی اوسط سے رنز کرنے تھے، معرکہ مار لیا اور یہ کرکٹ کی تاریخ میں تین سو سے زیادہ رنز کا سب سے تیزتعاقب ٹھہرا۔ یہ جیت مصباح کی کپتانی میں مثبت اور جارحانہ طرز کرکٹ کی بہترین مثال تھی۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مسلسل پانچوں ٹیسٹ میچوں میں شکست سے بطور کپتان مصباح کا گراف نیچے آیا۔
ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں طرز کی کرکٹ میں کامیابیوں نے عمران خان کے مرتبے کو بڑھایا، مصباح الحق نے ٹیسٹ کپتان کے طورکامیاب رہے لیکن ون ڈے میں کوئی ایسا کارنامہ ان کے پلے نہیں جس کی بنا پر وہ یاد رکھے جائیں۔ جنوبی افریقہ اور انڈیا میں ون ڈے سیریزمیں جیت کوہی بطور کپتان ان کی بڑی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ عمران اور مصباح الحق کی ون ڈے میں کپتانی کا فرق اس بات سے واضح ہوجاتا ہے کہ عمران خان نے ٹیم کو ورلڈ چیمئین بنوا کرکپتانی چھوڑی۔ مصباح الحق کپتانی سے الگ ہوئے تو عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا آٹھواں نمبر تھا۔

