کرکٹ اور دولے شاہ کے چوہے

پاکستان نے کل شب ویسٹ انڈیز کو ہرا کر تین میچز کی سیریز 2-1 سے جیت لی۔ مبارک! لیکن آج بات کرکٹ کی 
اگر ہم کرکٹ فیلڈ سے باہر آئیں تو یہاں بھی کافی ورائٹی ہے۔ لجلجے ہاتھ یا انگلیوں سے مصافحہ کرتا، آپ کو بغیر کسی بے تکلفی کے ’تم‘ یا ’تو‘ کہہ کر مخاطب کرنے والا یا پھر سرپرستانہ انداز میں’اور بھئی ٹھیک ہو۔ بال بچے ٹھیک ہیں؟‘ پوچھتا ہوا کوئی خود عدم تحفظ کا شکار۔ یہ تو کافی واضح مثالیں ہیں۔ ان میں ڈھکے چھپے حربے زیادہ دلچسپ ہیں۔ آپ کے کئی کولیگ، جو آپ کے مینیجر بھی نہیں، آپ کو آج شاباشی دیں گے، تا کہ کل آپ کی کلاس لے سکیں۔ یا ایک ایسا مینیجر جو اپنی ٹیم کے کسی فرد کو’اپنا بچہ‘ کے لقب سے نوازے۔ بے شک اس غریب ’بچے‘ کے 
شاید یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ہم میں سے جو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، وہ ان افراد کی نقالی کرتے ہیں جنہیں وہ آئیڈیل خیال کرتے ہیں۔ کرشماتی ٹائپ کی چکا چوند قیادت۔ یا پھر اپنی شخصیت میں کسی کمی کو شور غل سے مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو، یہ حق بہرحال نہیں دلاتی کسی بھلے چنگے انسان کو دولے شاہ کا چوہا بنا یا جائے۔ انسان آزاد پیدا ہوا، اسے آزاد رہنا چاہئے۔ کوئی اس کو اپنے بس میں کیوں کرے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا، ہم دھوکہ کرتے نہیں ہیں، لیکن اس کی سب شکلوں سے واقف ہیں۔ ہم عامیوں کے لیے دھوکے کی سب اشکال سے واقفیت آسان تو نہیں، لیکن کوشش تو کی جا سکتی ہے۔

