مشال خاں سوال پوچھتا ہے

وہ جو رخصت ہوا موسم بھی اشکبار نہ تھا
تپتی دھوپیں تھیں اور جہل کا اک لشکر تھا
خدا کے نام پر وہ ظلم تھا اللہ اللہ
پتھروں اینٹوں سے ڈنڈوں سے اسے مارا ہے
اس پر بھی رک نہ سکے گولیاں اتاری ہیں
تب بھی جب غیض و غضب کم نہ ہوا
مرنے والے کے سبھی ستر تلک کھول دئیے
اس کی آنکھوں میں رہا ایک ہی بس ایک سوال
تم میں سے کوئی بھی انساں نہ رہا
تم میں سے ایک نے بھی نہ سوچا
مرا جوان یہ لاشہ جو گھر کو جائے گا
کیا مرا باپ اسے آتا دیکھ پائے گا
کیا مری ماں مجھے ادھڑا ہوا دفنائے گی
کیا وہ کندھا جو مرے باپ نے چاہا ہو گا
اس کندھے کو وہ کندھا کبھی دے پائے گا
یہ جو تم ویڈیو بناتے ہو
کبھی یہ ہاتھ فقط ایک بار بھی لرزا؟
نہیں لرزا مجھے یہ صاف نظر آتا ہے
تم میں سے کون ہے جو ماں کو یہ دکھلائے گا؟
مری ماں کو تو بس اب صدیوں تلک رونا ہے
اپنی ماں کو فقط اک بار یہ دکھا دینا
سینہ پھلا کے اسے فخریہ بتا دینا
ماں تیرے لعل کا یہ آج کارنامہ تھا
ماں وہ مرتا تھا اور میں ویڈیو بناتا تھا
ماں مجھے خوں کا رنگ ہی بھاتا ہے
ماں میں اگلا شکار کون کروں
ماں تو خوش تو ہے نا میں آج سرخرو ہوا؟
مرے مقتل سے تو بس ایک صدا آتی ہے
"میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں”
ان اللہ وانا الیہ راجعون!

