پاکستان۔دست برداری کی طرف گامزن ریاست

میرے ایک دوست جو پولیس کے ضلعی آفیسر ہیں وہ بتا رہے تھے کہ انتہا پسندوں کے خوف کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ خاص طور پر ایسے مقدمات کے اندراج سے اجتناب کریں جن میں ملزمان کا تعلق کسی مذہبی یا مسلکی جماعت کے ساتھ ہو۔اول تو مدعی پارٹی کو صلح پر راضی کرنے کی کوشش کی جائے اور اس قسم کے تنازعات میں اعلیٰ عہدیدار پولیس اہلکار سے زیادہ صلح کار کا کردار ادا کریں کیوں کہ تنازعہ کسی وقت بھی مذہبی یا مسلکی رخ اختیار کرسکتا ہے اور اس صورت میں مذکورہ ذمہ دار پولیس آفیسر ہی حالات کی خرابی کا ذمہ دار تصور ہوگا۔مذکورہ دوست نے ایک اور مثال سے بات بالکل واضح کردی ۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے راولپنڈی میں ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری،جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا،اس پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا۔مذکورہ ملزم کو پولیس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ابھی اسے جیل میں آئے چند روز ہی گزرے تھے کہ اس کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار نے اس کو قتل کرنے کی کوشش کی۔موقع پر موجود دیگر پولیس اہلکاروں نے بروقت مداخلت کرکے اس کو بچالیا۔اس حملے میں توہین کا ملزم زخمی ہوگیا اور اس کو علاج کے لیے پنڈی جیل سے لاہور منتقل کردیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ چوں کہ ملزم برطانوی شہری تھا اس لیے حکومت پر برطانیہ کی طرف سے بہت زیادہ دباو تھا۔پولیس کے صوبائی سربراہ نے پولیس لائن کے انچارج کو طلب کیا کہ زخمی ملزم کی دوران علاج حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ پولیس لائن کے انچارج کے لیے یہ ایک ایسی ذمہ داری تھی جس میں کوتاہی اس کی ملازمت ختم کروا سکتی تھی لہذا مذکورہ انچارج نے پورے لاہور کی پولیس سے سات ایسے ملازمین کو تلاش کیا جو غیر مسلم تھے۔کیوں کہ مذکورہ انچارج یہ جانتا تھا کہ کوئی بھی مسلمان پولیس ملازم اس خصوصی ملزم کو قتل کرسکتا ہے۔
اگرچہ توہین کے الزامات کے تحت مارے جانے والے افراد میں ہر طرح کی سماجی حیثیت کے لوگ شامل ہیں لیکن پھر بھی بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو کسی گروہ سے منسلک نہیں تھے،تنہا اور نہتے تھے جنہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ مارا گیا۔اِن میں سے اکثر کی شناخت کسی معتوب فرقے سے جڑی ہوئی تھی یا وہ تن تنہا کسی ایسے مذہبی و مسلکی تصور سے وابستہ تھے جس کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔اِنہیں تعاقب کا سامنا کرنا پڑا اور پھر کسی دن کھدیڑ کر مار دیا گیا۔سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں ہونے والی بعض نازک بحثوں کے بعدجب دوسروں سے مختلف نقطہ ہائے نظر کے حامل لوگ خود بخود تنہا ہوجاتے ہیں تو اُنہیں منصوبہ بندی کے ساتھ مار دینا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔
لیکن اس سارے منظر نامے میں ایک دوسرے پہلو کو بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے اور وہ پہلو ہے مذہبی گروہوں اور ٹھیکیداروں میں موجود ایسے سینکڑوں کردار جن کا تمام تر کاروبار دوسروں کے عقائد کی بیخ کنی اور توہین پر چلتا ہے۔ایسے مبلغین کی طرف سے روا رکھی جانے والی توہین کو اس کے اپنے گروہ کی طاقت بھرپور تحفظ فراہم کرتی ہے اور یوں اس قسم کی توہین ”تبلیغی یا دعوتی“ لبادے میں لپیٹ کر پیش کی جاتی ہے اور کہیں کوئی آواز نہیں اُٹھتی۔پاکستان کے تقریباً تمام مذہبی مکاتب فکر کے سرگرم علما اور مبلغین نے ایک دوسرے کے خلاف توہین کے مقدمات درج کروا رکھے ہیں اور قانون کے مطابق کی جن کی سزا بھی موت سے کم نہیں لیکن چوں کہ یہاں پر ملزمان کو کھدیڑ کر مار دینا آسان نہیں اس لیے ایسے لاتعداد مقدمات کو کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا۔یہاں ایسی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ کس طرح کسی مذہبی گروہوں نے اپنے مخالفین کے خلاف توہین کے مقدمات دورج کروائے مثال کے طور پر معروف دیوبندی مماتی عالم دین علامہ احمد سعید ملتانی کی متنازعہ تحقیق”قرآن مقدس بخاری محدث“ پر توہین کے کئی مقدمات درج کروائے گئے ،کتاب پر پابندی لگوائی گئی لیکن مذکورہ علامہ صاحب پچھلے دنوں طبعی موت مرے کوئی اِن کو جلانے یا کاٹنے نہ آیا۔کتاب بھی بازار میں موجود ہے اور علامہ صاحب کے ورثا اور پیروکار بھی پوری قوت سے موجود ہیں ،لیکن ہیں طاقت ور ،بس یہ فرق ہے۔خاکسار کی نظر سے آج تک کوئی مناظرہ ایسا نہیں گزرا جس میں ہر قسم کی توہین کا پورا سامان موجود نہ ہو، نہ کوئی مناظر نذر آتش ہوا نہ ہی کسی مبلغ کو کوئی آنچ آئی۔تقریباً یہی حال چھوٹے بڑے مذہبی اجتماعات کا ہے جہاں پُرجوش مبلغین مخالف مکتبہ فکر کے مسلمانوں کے عقائد اور اُن کے اکابرین کے بخیے اُدھیڑ دیتے ہیں، پولیس بھی خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اور کوئی کسی کو کاٹنے کو نہیں دوڑتا۔میں انتہائی وثوق کے ساتھ یہ دعوی کرسکتا ہوں کہ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں جس قسم کے خیالات، تصورات اور اعتقادات کو عمومی طور پر توہین کے زمرے میں لایا جاتا ہے، اگر انہیں جمع کرنے کی کوشش کی جائے تو سب سے زیادہ مواد ہمارے مستند مذہبی علما اور مبلغین کی اپنی تحریروں اور تقریروں میں سے برآمد ہوگا اورسینکڑوں کتب کی صورت میں اس کو مرتب کیا جاسکتا ہے لیکن نہ انہیں کوئی سزا دے سکتا ہے اور نہ ہی اِنہیں توہین کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ اُن کے پاس طاقت ہے،گروہ ہے اور ماننے والوں کی اپنی اپنی کثیر تعداد ہے۔بنیادی معاملہ ریاست کی وہ دست برداری ہے جو اُس نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے سلسلے میں روا رکھی ہے، جہاں بڑے گروہ اپنی حفاظت خود کرسکتے ہیں اور بوقت ضرورت دوسروں پر حملہ کرسکتے ہیں وہاں ریاست کے لاچار پن کا اندازہ لگانا اتنا مشکل کام نہیں۔جتھہ بند گروہ آگے بڑھ کر ریاست کا کام خود کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے اِنہیں کئی اطراف سے خاموش مدد اور حمایت بھی حاصل ہے جب کہ میڈیا اس کام کو مزید آسان بنانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔یہ ایک ایسا منظر نامہ ہے جس کے تمام خدوخال حوصلہ شکن ہیں اور ریاست کی نمایاں ہوتی ہوئی ناکامی کا ثبوت بھی۔

