اپنے بیان کی جنہیں پہچان تک نہیں

میں سوچ رہا تھا کہ کینیڈا میں بھی ملازم اور بندے ہیں مگر وہ کسی تفریق میں نہیں جاتے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ مجھے امریکہ جانا تھا۔ میرے ٹریول ایجنٹ نے کہا آپ پولیس سے اپنے فنگرپرنٹس کی رپورٹ احتیاط کے طور پر بنوالیں۔ میں پولیس اسٹیشن گیا ان کو کہا کہ فنگر پرنٹس کی رپورٹ چاہئے۔ وہ بولے کیوں لینی ہے، بتایا ا مریکہ جانا ہے۔ وہ مسکرایا ، پھر کہنے لگا جب تم ویزا کی درخواست دو گے تو وہ سارا کام خود ہی کرلیں گے۔اپنے پیسے ضائع نہ کرو۔ میں ذرا حیران ہوا ، خیر ویزا تو مل گیا مگر فنگر پرنٹس انہوں نے ائیر پورٹ پر لئے۔ عام حالات میں پولیس والا آپ کا مددگار ہی ہوتا ہے اور ہرجگہ وہ آپ کو نظر نہیں آتا جبکہ ہمارے ہاں معاملہ بالکل مختلف ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر اسلام آباد ائیر پورٹ پر جو سلوک ناروے کے مسافروں کے ساتھ کیا گیا اس پر جو ردعمل سامنے آیا مانا کہ اس میں مسافروں کی غلطی بھی ہوسکتی ہے، مگر تشدد اور مارپیٹ کے جو مناظر سوشل میڈیا پر نظر آرہے ہیں وہ تو ریاست کی حیثیت کو مشکوک بنارہے ہیںوزیر داخلہ نے کارروائی تو ڈال دی ہے مگر نتیجہ نظر نہیں آتا۔ پھر ملک کی اعلیٰ عدالت نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے کیا ملازمین کے لئے سزا ہی کافی ہوگی یا ریاست کے نظام اور ترتیب میں تبدیلی ہو گی۔ابھی چند دن پہلے جو کچھ مردان کی ایک سرکاری جامعہ میں تشدد اور قتل کا واقعہ ہوا ہے بظاہرشاخسانہ مقامی سیاست کا جو نظر آتا ہے، مگر جس طریقہ سے ایک بدمست ہجوم نے قتل کیا ہے جبکہ پولیس کو قتل کی اطلاع مل چکی تھی اور مناسب کارروائی سے یہ معاملہ کنٹرول کیا جاسکتا تھا مگر ہٹ دھرمی، بدمستی جو اب ہماری سیاست کا حصہ ہے۔ خیبر پختونخوامیں جتنی بھی سیاسی اشرافیہ ہے وہ کپتان کی جماعت کی حکمرانی ماننے کو تیار نہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک بڑا سیاسی اور دینی اجتماع ہوا جس میں تمام دیگر جماعتوں کے لوگ مدعو تھے۔ صرف تحریک انصاف کے لوگوں کو نظر انداز کیا گیا۔ اس کے باوجود تحریک انصاف نے سرکاری طور پر ان کو مکمل تحفظ مہیا کیا۔ صوبے خیبر پختونخوا کی ا شرافیہ ملک کے دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہے۔وہاں ایک عرصہ تک ترقی پسند سیاسی جماعت اور طالبان کے حمایتی لوگوں کی حکومت رہی۔ عمران خان کی جماعت نے صوبے کو بدلنے کی کوشش کی ہے مگر مرکز کی طرف سے ان کے لئے مسلسل رکاوٹ کا سامنا ہے۔ اب صوبے کے سرکاری لوگ چین کے ساتھ ترقی کے لئے منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔ اس معاملہ میں پہلے امریکی کافی دخل انداز رہے، مگر ان کو شکایت رہی کہ ترقی کے کاموں میں نوکرشاہی امدادی رقوم میں خوردبرد کرتی ہے اور اب بھی اخباروں میں امریکی امدادی ادارے کے اشتہارات چھپ رہے ہیں کہ اگر کسی جگہ مالی بدانتظامی ہو رہی ہو اور آپ اطلاع کریں تو آپ کو تحفظ کے علاوہ آپ کی خدمت بھی کی جائے گی۔ اب امریکہ اپنی جگہ چین کے لئے خالی کرتا نظر آتا ہے جبکہ چین افغانستان کے مسئلہ پر امریکی پالیسی سے متفق نظر آتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں افغانستان کے اندر بھارتی کردار چین اور پاکستان کے لئے تشویشناک ہے اور اب امریکہ کو اندازہ ہے اور اس لئے امریکی قومی سلامتی کے مشیر پاکستان اور بھارت سے بات چیت کرتے نظر آرہے ہیں۔بات پاکستان کی نوکر شاہی اور پولیس کی ہورہی تھی اصل میں ہماری ریاست کی سیاست میں نوکر شاہی کا کردار معاملات خراب کررہا ہے۔ یہ حکمرانوں کو قانون قاعدے سے مبرا رکھتے ہیں۔ ان کی خواہشات کو کسی بھی تناظر میں انکار نہیں ہونے دیتے۔ ہماری قومی اسمبلی کے لوگ کسی ایسے معاملہ پر جو ملکی مفاد کا ہو، فقط قرارداد منوا کر اپنے خول میں بند رہتے ہیں بقول محسن؎
عجب لوگ بستے ہیں تیرے شہر میں محسن
مرمت کانچ کی کرتے ہیں، پتھر کے اوزاروں سے
اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہم کتنے بالغ ہیں۔

