کانچ کی نیلی سبز گیند

ہم میں سے کون ہے جو اپنے گھر میں موجود کسی ننھے منے بالک کو باآسانی سمارٹ فون استعمال کرتا دیکھ کر خوش نہیں ہوتا۔ ماں صدقے! لیکن غور کیجئے، شاید ان نونہالوں سے زیادہ جینئس وہ ڈویلپر ہے جو ایسی سادہ و قابل فہم ایپلی کیشن بناتا ہے جنہیں اوسط سمجھ بوجھ کے بچے بھی سمجھ سکیں۔ کچھ ایسی ہی الٹی گنگا ہم دیگر معاملات میں بھی بہاتے ہیں۔ ہمارے ولایت پلٹ دوست ہمیں اطلاع دیتے ہیں کہ ان ترقی یافتہ ممالک میں لوڈ شیڈنگ بالکل نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہ لوگ بجلی ضائع نہیں کرتے۔ آٹھ بجے شاپنگ مال بند۔ شاید یہاں بھی اصل قصہ یوں ہے کہ پہلے وہاں بجلی کی بچت کی جاتی ہے، اس کے نتیجے میں وہ توانائی کی کمی کا شکار نہیں اور محض بجلی ہی کیا پینے کا پانی، قدرتی گیس اور ایندھن بھی۔ اجتماعی دانش اگر محاوروں سے بھی جھلکتی ہے تو ان اقوام کا محاورہ ہے کہ ایک پیسہ بچایا مطلب ایک پیسہ کمایا۔ ظاہر ہے پیسہ سے مراد کسی بھی چیز میں بچت کی چھوٹی سی اکائی ہے، صرف روپیہ پیسہ نہیں۔

گاڈ فادر کے ڈان سے بھی زیادہ مشہور ایک اور ڈان ہے، ڈان کیخوٹے! اونچے آدرشوں کا معصوم رکھوالا۔ اس بے مثل کردار کے خالق سروانتے کی تاریخ وفات 23 اپریل ہے۔ کچھ روایات کے مطابق شیکسپیئر کی تاریخ وفات بھی یہی ہے۔ ان مشاہیر کی تعظیم میں 23 اپریل کو کتاب کا دن منایا جاتا ہے۔ اب ہماری کتاب فراموشی کا کوئی نیا نوحہ کیا ہوسکتا ہے۔ گئے برس اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں پہلی بار جانا ہوا۔ خوشگوار حیرت ہوئی کہ ریسیپشن کے قریب ایک چھوٹی سی الماری تھی جس میں کچھ ناول اور کتابیں رکھی تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ جو کوئی کتاب پڑھ چکے ہیں اس میں رکھ دیں اور اپنی پسند کی کوئی نئی اٹھا لیں۔ اس سال دوبارہ چکر لگا تو وہ الماری نہیں تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ غیر ملکی ہی اس لین دین کو نبھاتے تھے۔ لیکن زیادہ مہمان لوکل ہیں (پاکستانی نہیں لکھ رہا، معذرت!)۔ وہ کتابیں لے تو جاتے ہیں لیکن آنے والوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑتے۔
واقعی یہ سوال ہے کہ ہم بعد میں آنے والوں کے لیے کیا چھوڑتے ہیں؟ کبھی خدانخواستہ پبلک ٹوئلٹ استعمال کرنے کے کرب سے گزریں تو دیکھیں، ہم اپنے بعد آنے والے کے لیے اسے کس حال میں چھوڑتے ہیں؟ ٹرین پکڑیں تو دیکھیں اترنے والے نئے آنے والوں کے لیے کیا تحائف ورثہ کر گئے ہیں۔ کچھ یہی حال ہم کہیں سبز نیلی زمین کا بھی نہ کر جائیں۔ہمارے بچوں کے لیے یہ سب سے خوبصورت کانچ کی گولی ہے!

