میر سلطان خان، شطرنج کا فراموش کردہ عظیم کھلاڑٰی


کیپابلانکا ایک اور عالمی چیمپئن بوبی فشر ("Bobby” Fischer) کے پسندیدہ ترین کھلاڑی تھے۔ بوبی کو، جنہیں بعض تجزیہ نگار تاریخ کا عظم ترین کھلاڑی قرار دیتے ہیں، ان کی زندگی میں ”آج کا کیپابلانکا“ (Capablanca of Today) بھی کہا جاتا تھا۔ سلطان خان نے مختلف مقابلوں میں دنیا کے سرکردہ کھلاڑیوں کا سامنا کیا؛ کیپابلانکا کے علاوہ فلوہر (Flohr ) اور روبن سٹائن (Rubinstein ) اور ٹارٹا کوور (Tartakower) سے بازیاں جیتیں اور اس وقت کے عالمی چیمپئن ایلک ہین ( Alekhine) کے علاوہ گرینڈ ماسٹروں کیشڈن (Kashdan)، گرنفیلڈ(Grünfeld )، سٹالبرگ (Ståhlberg ) اور بوگول یبف (Bogolyubov) سے برابر کیں۔ اورمزید دو بار برٹش چیمپئن شپ جیتی ( 1932, 1933میں) اور تین دفعہ شطرنج اولمپک میں انگلستان کی طرف سے کھیلے۔ انٹرنیٹ پہ ان کھلاڑیوں ،ان کے کارناموں اور تصنیفات کے بارے میں ڈھیروں معلومات دستیاب ہیں جن سے ان کے مقام و مرتبے کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سر عمر حیات سلطان خان کو 1933 میں واپس ہندوستان لے آئے۔ 1935 میں سلطان خان نے کھادیلکر (Khadilkar) کے خلاف ایک میچ 
قیام پاکستان کے بعد میر سلطان خان انیس برس زندہ رہے اور 25اپریل 1966کو فوت ہوئے۔ انہیں کوئی سرکاری اعزاز نہیں دیا گیا۔ کھیلوں کا کوئی کمپلیکس یا سینٹر ان سے منسوب نہیں، ان کے نام سے کوئی اعزاز نہیں دیا جاتا ہے۔ اور مجھے خوشی ہو گی اگر کوئی بتائے کہ ان کی رہائش گاہ کے آس پاس کوئی گلی یا سڑک ان کے نام کی ہے۔ سلطان خان نے اپنے بچوں کو شطرنج نہیں سکھائی اور انہیں کوئی زیادہ مفید کام کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ ان کے بیٹے اطہر سلطان پولیس افسر بنے اور آئی جی کے عہدے تک پہنچے۔
وصیت میر نے مجھ کو یہی کی
کہ سب کچھ ہونا تو عاشق نہ ہونا
یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ شطرنج کی اہمیت ہی کیا ہے؟ تسلیم کہ پاکستان میں اس کی کوئی حیثیت نہیں لیکن دنیا میں تو ہے۔ اور ہمارے بیشتر کام دنیا کے لئے ہوتے ہیں۔ ہاکی ، فٹ بال اور کرکٹ کے عالمی کپ، سکواش اور ٹینس کی چیمپئن شپ، اولمپک کھیلوں کے میڈل جیتنے کی طرح شطرنج کا ٹائٹل جیتنے پر بھی کامیاب ملک کی شہرت اور نیک نامی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سفارتی تعلقات بڑھانے یا برقرار رکھنے، تجارت کو فروغ دینے، اور دوسری اقوام کے دلوں میں جگہ بنانے لئے بہت کچھ کیا جاتا ہے ۔
شطرنج کا آغاز مشرقی ہندوستان میں پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی کے دوران ہوا۔ اسے چترنگا کہا جاتا تھا۔ سنسکرت کے اس لفظ کامطلب فوج کے چار حصے تھا، یعنی پا پیادہ دستے اور گھوڑوں، ہاتھیوں اور رتھوں پہ سوار جنگجو۔ چترنگا مشرق و مغرب میں پھیل گیا۔ چھٹی صدی کے اوائل میں ایران میں اسے چترنگ کہا جاتا تھا۔ سو سال بعد مسلمانوں نے ایران فتح کرنے کے بعد اسے اپنا لیا اور اس کا نام شطرنج رکھا۔ ایک روایت کے مطابق ایران کی ملکہ کواچانک صدمے سے بچانے کے لئے اس کے شوہر، یعنی بادشاہ، کے ہلاک ہو جانے کی خبرشطرنج کی ایک بازی کے ذریعے سمجھائی گئی.

12 فیصد برطانوی ، 15 فیصد امریکی، 23 فیصد جرمن، 43 فیصد روسی اور 70 فیصد ہندوستانی سال میں کم از کم ایک بار ضرور شطرنج کھیلتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں شطرنج سیکھنے کے بے شمار سینٹر اور کلب ہیں۔ آئے دن مختلف ٹورنامنٹ ہوتے رہتے ہیں۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں شطرنج کلب ہیں اور ان کی ٹیمیں مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں۔ روس سمیت کچھ ممالک میں شطرنج کو ایک مضمون کے طور پہ پڑھائے جانے کی ’مہم‘ چلی ہوئی ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ شطرنج کھیلنے سے توجہ، حافظہ، قوت فیصلہ، تنقیدی نظر، تخلیقی سوچ، کامیاب ہونے کا جذبہ اور ناکامی برداشت کرنے کا حوصلہ فروغ پاتے ہیں۔ 2011 میں آرمیینیا میں چھ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے لئے شطرنج کو ایک لازمی مضمون قرار دے دیا گیا۔ اس وقت ملک کے صدر سرز سرکیزین (Serzh Sarkisian) اس پروگرام کو متعارف کرانے میں شامل رہے۔ نوجوانوں کے ایک کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے انہوں نے وہاں ایک نوجوان کے ساتھ شطرنج بھی کھیلی۔ وہ آرمینیا کی شطرنج اکیڈمی اور قومی شطرنج فیڈریشن کے صدر بھی ہیں۔ میں اس کھیل کو مضمون کے طور پہ پڑھائے جانے کا تو قائل نہیں البتہ ایک مثبت سرگرمی کی حیثیت سے اس کے فروغ کا حامی ہوں۔
[زیر اشاعت کتاب ”ایک شاعر کی سیاسی یادیں“ سے اقتباس]

