لاجواب سروس باکمال لوگ، کو کس کا لگ گیا روگ

پی آئی اے، جس نے کئی غیر ملکی فضائی کمپنیز کے ساتھ معاہدے کیے اور ان کو اپنے پاوں پر کھڑے ہونے میں مدد دی اور ملکی و غیر ملکی سطح پر جائیدادیں اور ہوٹل خریدے۔ اس کے خود کے قدم سیاسی عدم استحکام، سیاسی بنیاد پر کی جانے والی بھرتیوں اور بدعنوانیوں کی وجہ سے اس وقت ڈگمگائے ہوئے ہیں۔’لاجواب سروس باکمال لوگ‘ جو کبھی قومی ایئر لائنز کا نعرہ ہوتا تھا، نااہل افراد کو ایئر لائنز کا سربراہ بنانے اور نااہل افراد کو بھرتی کرنے کی وجہ سے قصہ پارینہ ہوچکا ہے۔ مسافرقومی ایئرلائن میں سفر کرتے ہوئے اب گھبرانے لگے ہیں۔ اس کا احساس ایئر لائن انتظامیہ کو بھی ہوا ہو گا۔ اسی وجہ سے پرواز سے قبل رن وے پر کالے بکرے کی قربانی دی گئی لیکن کالے بکرے کی دی گئی قربانی سے ایئر لائن کے کپتان نے یہ سبق حاصل کیا کہ دوران پروازسوجانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بکرا صدقہ کیا جاچکا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ان دنوں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ جب ایک مسافر نے کپتان صاحب کو وردی میں سوتے پایا اور جہاز کے عملے سے شکایت کی کہ کپتان صاحب کی بے خوف نیند کی وجہ سے میں خوف میں مبتلا ہوں۔ پتا یہ چلا کہ کپتان صاحب جہاز کی کمان زیر تربیت پائلٹس کے حوالے کرکے وردی سمیت کمبل تانے سو رہے ہیں۔ موصوف کیونکہ پالپا کے صدر بھی رہ چکے ہیں اس لیے واقعہ کافی دن بعد رپورٹ ہوا اور کپتان صاحب کو پروازوں پر جانے سے روک دیا گیا۔
آج ایک اور ویڈیوبھی منظر عام پر آئی ہے جب جہاز کے عملے کا ایک فرد چائنیز خاتون سے پوچھ رہا ہے کہ آپ کا فضائی سفر کیسا رہا اور کیونکہ ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت مذکورہ خاتون کو خصوصی طور پر کاک پٹ میں آنے کی اجازت دی گئی تھی اس لیے عملے کے رکن نے یہ سوال بھی پوچھا کہ پائلٹ صاحب آپ کے دوست ہیں کیا؟ اس سوال پر خاتون بر انگیختہ نظر آئیں اور کہا کہ کیمرہ ہٹاو اور ویڈیو مت بناو۔ وائرل ہوئی اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے، ایئر لائن کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور ویسے کسی مسافر کے کاک پٹ میں جانے سے جہاز کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ نائن الیون کے سانحے کے بعد سے فلائٹ سیفٹی کوڈ تبدیل ہوچکا ہے اور کاک پٹ کریو کے علاوہ کوئی شخص کاک پٹ میں نہیں جاسکتا حتیٰ کہ کے جہاز کا فضائی عملہ بھی نہیں۔
ان حالات اور واقعات کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کن لوگوں کی وجہ سے ’لاجواب سروس باکمال لوگ‘ کو لگ گیا روگ۔

