کیا انصاف عام آدمی کے لئے نہیں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(عمیر سولنگی)۔

ویسے تو عام انسان کے لئے کوئی بھی کام آسان نہیں، وہ جائز کام کے لئے بھی بھٹکتا پھرتا ہے اور اشرافیہ ناجائز کام بھی نہایت آسانی سے کروا لیتے ہیں۔ عام انسان انصاف کے حصول کے لئے مارا مارا پھرتا ہے اور پھر بھی انصاف سے محروم رہتا ہے ایسا لگتا ہے کہ انصاف تو صرف اور صرف اشرافیہ کے لئے ہے اور عام انسان یا کسی غریب کے لئے اگر کچھ ہے تو وہ ہے قانون۔ اس قانون و انصاف کی جنگ میں غریب کو ملتا ہے صرف قانون اور جس کے پاس پیسہ ہے وہ حاصل کرتا ہے انصاف۔ اگر کوئی عام انسان اپنے کاغذات کی گمشدگی یا کسی معمولی نوعیت کے واقعے کی رپورٹ درج کروانے تھانے جاتا ہے تب بھی اس کو ہزار قانون بتائے جاتے ہیں اور جب ہرا نوٹ دکھا دو تو اس غریب پر ڈیوٹی آفیسر کو ترس آ ہی جاتا ہے۔ یہاں اکثر ظالم ظلم کرتا ہے اور سلاخوں کے پیچھے بھی وہی ہوتا ہے جس پر ظلم ہوتا ہے اور پھر کورٹ کچہری کے خرچے اور وکیل کے اخراجات نا ہونے کے سبب وہ مظلوم جیل میں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھی کاٹ دیتا ہے اور پھر اس کے دل میں قانون کا ڈر نہیں بلکہ اس ظالم کا ڈر بیٹھ جاتا ہے، پھر وہ مظلوم قانون توڑنے سے گریز نہیں کرتا مگر اس ظالم کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے جس کا خوف اس کے دل میں بیٹھ جاتا ہے کیونکہ اس کا یقین انصاف سے اٹھ جاتا ہے اور یہ ہزاروں لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے اور شاید ایسا ہی ہوتا رہے گا۔

اس ملک میں اس وقت تک قانون کی بالادستی ممکن نہیں جب تک ہماری پولیس اور وکلاء صرف اور صرف قانون کی پاسداری کریں۔ یہاں سچ اور جھوٹ کی جنگ میں جھوٹ جیت جاتا ہے۔ یہاں انصاف کی تلاش میں اکثر عام انسان قانونی جنگ لڑتے لڑتے اس دنیا سے چلا جاتا ہے، ایسے بھی فیصلے دیکھنے کو ملے ہیں جب انصاف کے حصول کے طلبگار کو انصاف ملتا ہے تو وہ منوں مٹی تلے ہوتا ہے۔ ظلم کی مختلف اشکال ہیں اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر اور بروقت انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی ظلم کی تعریف میں آتا ہے۔ ہر شہری کو سستا اور فوری انصاف وکلاءاور عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے نتیجہ میں عام انسان کے اندر مایوسی و نا امیدی پیدا ہو رہی ہے۔ مظلوم کو سستا اور فوری انصاف دیے بغیر کوئی معاشرہ مہذب نہیں بن سکتا۔ ہر شخص کو قانون و آئین کی رو کے مطابق فوری انصاف وکلاء اور عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس وقت عام انسان حصول انصاف کے لئے پریشان نظر آ رہا ہے۔ موجودہ دور میں عام انسان کو شکایت ہے کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے باعث موجودہ نظام موثر نہیں ہے۔

جس ملک کا حکمران خود قانون کے سامنے جھکنے والا ہوگا اس ملک میں کوئی بھی عدل کی میزان کو نہیں جھکا سکے گا جو حکمران خود رعایت کا طالب نہ ہو کوئی اس کی مروت آزمانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ جو حکمران حضرت عمرؓ بن خطاب کی طرح اپنے بیٹے کو کوڑے کھاتے دیکھنے کی تاب رکھتا ہو اس کے کوڑے سے کوئی عذاب نہیں بچ سکتا۔

ہماری یہاں قانون کے راستے میں کبھی دولت حائل ہو جاتی ہے کبھی قرابت آڑے آتی ہے کبھی مروت جلوہ دکھاتی ہے کبھی مصلحت فتنہ دکھا دیتی ہے کبھی سیاست مراد پا جاتی ہے۔ اس ملک میں اس وقت تک قانون کی بالادستی ممکن نہیں جب تک انصاف کا حصول عام انسان اور اشرافیہ کے لئے یکساں نا ہو۔

ہر قانون عام انسان کے لئے اور انصاف صرف اشرافیہ کے لئے! یہی تضاد ہمارے مسائل کو جنم دیتا ہے جس کے خاتمہ کی ضرورت ہے!

عمیر سولنگی بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل کے ممبر، پی پی پی میڈیا سیل سندھ کے کورآڈینیٹر اور کراچی ڈویژن کے کلچرل ونگ کے سیکرٹری انفارمیشن پیپلز پارٹی کے طور پر ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ وہ رائل ٹی وی اور کیپیٹل ٹی وی سے بطور رپورٹر بھی وابستہ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •