ایک روپیہ فیس لینے والے اب بھی ہیں!


گوروں کی لوک داستانوں میں جھانکیں تو ایک کردار ملتا ہے جو امیروں سے چھین کر مال و دولت غریبوں میں تقسیم کر دیتا تھا۔ اس کا گروہ عورتوں کا مکمل احترام کرتا تھا، وہ سب ماہر تیر انداز اور تلورئیے تھے، دن رات اسی کام میں لگے رہتے اور بعد میں سارا مال اسباب بانٹ شانٹ ہاتھ جھاڑتے اور نئے مشن پر نکل جاتے۔ چودھویں صدی سے آج تک رابن ہڈ درد دل رکھنے والوں کا پسندیدہ کردار رہا ہے لیکن اس میں ایک مسئلہ تھا۔ وہ بہرحال قانون توڑتا تھا، لوگوں کو لوٹتا تھا، تو جدید ذہن اس طریقے سے متاثر ہوتا نظر نہیں آتا۔
اس سے بہتر ایک کردار ہمارے پاس حاتم طائی کا ہے۔ عربوں میں سخاوت کا اعلی ترین معیار یہی ہے کہ فلاں شخص حاتم طائی سے بڑھ کر سخی ہے۔ یہ ان کے روزمرہ کا محاورہ ہے۔ محترم استاد خورشید رضوی نے ابھی پچھلے دنوں حاتم طائی کا بہت مفصل اور کمال تذکرہ "سویرا” میں کیا ہے۔ احمد حسن زیات بھی اس ضمن میں لکھ چکے ہیں۔ حاتم سخی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلی درجے کا شاعر تھا اور عربی کے دو اہم شعری مجموعوں دیوان الحماسہ اور کتاب الشعر والشعراء میں اس کا انتخاب ملتا ہے۔ کتاب الشعر میں اس کے قصے کی پہلی سطر یہ تھی، "وہ سخی اور اچھا شعر کہنے والا تھا۔” رضوی صاحب نے اس میں حاتم طائی کی سلیکٹیو اور عمدہ ترین شاعری کا ترجمہ بھی بہت عمدہ کیا۔
بعض صورتوں میں جب / مال اپنے مالک کا مالک بن جاتا ہے/ تو الحمدللہ/ میرا مال میرے تابع ہوتا ہے۔
پھر ایک اور جگہ حاتم طائی کہتا ہے؛
جب بخیل (کنجوس) آدمی کے کتے بھونکتے ہوں/ اور یہ کٹکھنے (غصیلے) / ناتواں مہمان کو تنگ کر دیتے ہوں / تو میرا کتا بزدل نظر آتا ہے / میرا گھر (مہمانوں کی آمد و رفت سے) پامال ہے / میں اس وقت بھی سخاوت سے کام لیتا ہوں / جب طبیعتوں کی گہرائی میں بخل (کنجوسی) زور کرنے لگا ہو / میرے کتوں میں ٹھیراؤ آ گیا ہے / وہ (نئے نئے لوگوں کو دیکھنے کے) عادی ہو چکے ہیں / اب جو کوئی میرے پاس آتا ہے / یہ کم ہی اس پر غراتے ہیں۔
لیکن یہ سب سخاوت مال و دولت کی تھی۔ ایک کردار اس زمانے میں ہمارے پاس موجود ہے جو کتابوں کا رابن ہڈ ہے مگر چراتا نہیں، مانگ لیتا ہے، خرید لیتا ہے اور علم کا حاتم طائی ہے۔ انتظار حسین، وزیر آغا، مستنصر حسین تارڑ، ظفر اقبال، وجاہت مسعود، عقیل عباس جعفری، در دلکشا والے منظور الہی اور پتہ نہیں کہاں کہاں کس کس لکھاری اور پڑھنے والوں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ جو کتابیں انہوں نے پڑھ رکھی ہوں اور وہ دینا چاہتے ہوں، ان کی بوریاں اور کارٹن باندھتا ہے، دس بارہ ڈبے ہو جائیں تو لدوا کر اپنے ٹھکانے پر لے جاتا ہے۔ ادھر کوئی پچیس تیس ہزار کتابیں اکٹھی کی ہوئی ہیں اور علاقے میں بسنے والوں کے لیے صلائے عام ہے کہ جو چاہتا ہے آئے اور پڑھے، تو یوں ایک چھوٹی سی لائبریری کا مالک ہے۔ گزارے لائق زمینداری سے جو پیسہ آتا ہے وہ بھی اسی کام میں جھونکا جاتا ہے۔ جو بندہ اسے جانتا ہو اور فون کر کے صرف اشارہ کر دے کہ یار وہ فلاں موضوع پر کتاب چاہئیے یا فلاں کتاب اب ملتی نہیں ہے وہ چاہئیے یا کچھ بھی چاہئیے، تو ایسے الرٹ ہو گا جیسے سائرن بج گیا ہے۔ ایک آدھ ہفتے میں کتاب یا فوٹو کاپی سائل تک پہنچ جائے گی چاہے جیب سے خریدی گئی ہو یا لائبریری سے نکلی ہو۔ کتابوں کو پھیلانا اور پھر سمیٹ لینا اس کی زندگی کا مقصد ہے۔
ہری پور میں رہنے والے زاہد کاظمی کا یہ ذکر بالکل نہ ہوتا اگر اخبار میں یہ خبر نہ چھپی ہوتی کہ زاہد حسین کاظمی ایک سکول کھول چکے ہیں۔ اس سکول کی فیس ایک روپیہ ہے اور وہاں بچوں کو یونیفارم، کتابیں، بستہ، آنے جانے کی سہولت اور کھانا پینا اس فیس کے عوض مہیا کیا جائے گا۔ خانپور روڈ سے چند کلومیٹر آگے باب العلم نام کا یہ ادارہ موجود ہے۔ پچاس سے زیادہ طالب علم اس وقت یہاں داخل ہو چکے ہیں جنہیں بتائی گئی تمام سہولیات میسر ہیں۔ ان علاقوں میں ایسی غربت تھی کہ دو وقت کی روٹی مل جانے سے بڑی کوئی تعلیم انہوں نے نہیں دیکھی۔ وہاں یہ سوچنا اور ممکن کر دکھانا ایک مشکل کام تھا۔ بچوں کے دماغ میں ایک پروٹوکول ہوتا ہے کہ سکول جائیں گے تو چمکتا دمکتا یونیفارم ہو گا، نئی کتابیں ہوں گی، مہربان استاد ہوں گے، تو یہ سارا کھٹ راگ اسی لیے پھیلایا گیا کہ غریب کا بچہ جسے سٹریٹ چلڈرن کہا جاتا ہے وہ ایک سٹینڈرڈ کے مطابق تعلیم حاصل کر سکے اور اسے لگے کہ ہاں میں کچھ اہم کرنے جا رہا ہوں۔ بھئی عام آدمی بھی ٹائی لگا کے صاحب بن جاتا ہے، بچے تو پھر بچے ہی ہوتے ہیں۔ شروع میں بچوں کو وہاں ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جائے گی اور آہستہ آہستہ اردو پر شفٹ کر دیں گے۔

سرکاری سکول موجود ہونے کے باوجود اگر والدین تلے ہوں کہ اس جگہ بھیجنا ہے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، ماں کی گود اور کھانا دینے والا سکول شاید ایک سے لگتے ہوں۔ اب جگہ پچاس کی ہے تو سو لوگ اپلائی کر رہے ہیں، ستر کو سمیٹ لیا تو ڈیڑھ سو درخواستیں آ گئیں، یہ ایسا مرحلہ ہے جہاں سکول سے باہر والوں کو آواز دینا پڑ گئی۔ آئے بہت سے لوگ آئے، کارواں بنا، کسی نے جوتوں کا خرچہ اٹھایا، کسی نے یونیفارمیں دلوائیں، کوئی کتابوں کی رقم کا وعدہ کر گیا۔ پہلا قدم اٹھانا ہمیشہ کی طرح مشکل تھا، وہ اٹھ گیا تو اب خیر سے سکول پاؤں پاؤں چلنے لگ گیا ہے۔

بچے سانجھے ہوتے ہیں۔ جہاں اپنی اولاد کے لیے ہم لوگ آدھی تنخواہ سکول فیس اور ٹیوشن میں جھونکتے ہیں وہاں اس سے بہت کم خرچہ ان بچوں پر آتا ہے۔ پڑھ لکھ لیں گے تو کم از کم روز شام کو گھر میں روٹی مل جائے گی، کوئی اچھا پڑھ لے گا تو بڑا افسر بن کے اماں ابا کی آنکھوں میں امید کے دیے جلائے گا۔ کیا پتہ کوئی ڈاکٹر بن کے آپ کی ہی خدمت کر رہا ہو، بڑی پاسیبیلیٹیز ہیں، ہزاروں ممکنات ہیں، تعلیم آگہی اور شعور کا جو دروازہ کھولتی ہے اس بند کرنا بہرحال کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا، سوال بس دروازہ کھلوانے کا ہے۔ علم کا دروازہ کھل تو گیا، نرسری، پریپ، ون تک شروع بھی ہو گیا لیکن یہ کام چلے گا کیسے، بڑھے گا کیسے، یہ اب سوچنے والی بات ہے۔

اس مقصد کے لیے زاہد کاظمی سے 0334-5958597 یا 0300-5091908 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ سکول وزٹ کیا جا سکتا ہے، تصدیق کے لیے اخباروں کے تراشے اور ویڈیو آڈیو رپورٹس منگائی جا سکتی ہیں۔ دو کنال ذاتی زمین وہ اس مقصد کے لیے مختص کر چکے ہیں جس پر اگلے تین برس میں اس درسگاہ کی اپنی عمارت تعمیر ہو جائے گی، فی الوقت یہ سکول کرائے کی بلڈنگ میں ہے۔ تو یہ ایک روپے والا جو آئیڈیا ہے اسے کامیاب بنایا جا سکتا ہے اگر کچھ لوگوں کا ساتھ مہیا ہو، جتنا کچھ ذاتی طور پہ وہ کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں۔

پس نوشت؛ بچوں کی پڑھائی سے متعلق مضمون آگے پھیلانا بھی صدقہ جاریہ سمجھیے۔ بے شک کاپی پیسٹ کر کے شئیر کر دیا جائے۔

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain