اردو بازار سے ریستوران تک


کہتے ہیں جس کے ڈراینگ رُوم میں کتابیں سجی ہوں، وہ بد ذوق شخص ہوتا ہے۔ اسی طرح جس نے ڈراینگ رُوم میں اپنی تصویریں آویزاں کی ہوں، یہ اُس کے خود پسند ہونے کی علامت ہے۔ گھر باہر سے سجا ہو تو مکینوں کی نمود و نمایش کا پتا دیتا ہے، گھر اندر سے سجا ہو تو اہل خانہ کے خوش ذوقی کی نشانی ہے۔ تاہم ہر اصول کا اطلاق ہر جگہ نہیں ہوسکتا، کہ وجوہ کو سمجھنا ضروری ہے۔

اسکول کے بچوں کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کے لیے ایک ماہر نفسیات کو مدعو کیا گیا۔ اُس نے کلاس کے تمام بچوں کو اپنی مرضی کے رنگوں سے تصویر بنانے کو کہا۔ جب بچے اپنی اپنی ڈراینگ مکمل کر چکے تو وہ لکیروں کی چال اور رنگوں کے انتخاب کا معائنہ کرتے ہوئے ہر بچے کا رحجان بتانے لگا۔ ایسے میں ایک بچے کی تصویر دیکھ کے چونک اُٹھا۔ تصویر میں ایک ہی رنگ استعمال کیا گیا تھا، اور وہ تھا سیاہ رنگ۔ یہ اس بات کی علامت تھی، کہ بچہ مایوسی کا شکار ہے۔ ماہر نفسیات متفکر ہوا؛ ہنگامی طور پر بچے کے والدین کو بلا کے تابڑ توڑ سوال کیے گئے۔
”کیا آپ دونوں کی طلاق ہوچکی ہے؟“
”جی نہیں!“
”تو پھر ضرور آپ کے بیچ میں لڑائی جھگڑا رہتا ہوگا؟“
”نہیں! بہت پیار کرتے ہیں ہم ایک دوسرے سے۔“
”تو یقینا آپ بچے پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتے ہوں گے؛ ایک دوسرے کو بھول کے زرا بچے کو بھی پیار کیا کیجیے۔“
”ہم بچے کو بھرپور وقت دیتے ہیں، سیر و تفریح کے لیے لے جاتے ہیں، کھلونے لے کے دیتے ہیں۔“
”یعنی آپ کے مالی مسائل بھی نہیں کہ بچے کو کسی شے کی کمی کا احساس ہو؟“
”جی نہیں۔ خوش حالی ہی خوش حالی ہے۔“
”کوئی موروثی بیماری؟“
”کوئی بھی نہیں!“
ماہر نفسیات ہر سوال کر بیٹھا لیکن مایوسی کی کوئی اکلوتی وجہ بھی نہ تلاش کر سکا۔ آخر بے بس ہو کے بچے کو بلایا گیا۔
”تم نے تصویر میں صرف سیاہ رنگ ہی کیوں استعمال کیا؟“
بچے نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا، ”اس لیے کہ اس وقت میرے بستے میں کوئی اور رنگ نہیں تھا۔“
میرا ایک دوست میرے ڈراینگ رُوم میں بیٹھا، میری کتابوں کے ریک کو دیکھ کر اش اش کر رہا تھا؛ ڈراینگ رُوم میں ریک سجانے کی وجہ یہ ہے کہ گھر کے دو ہی کمرے ہیں، ایک میں بچے اور ان کی دادی اور دوسرا ہم میاں بیوی کے استعمال میں ہے؛ کتابوں کی جگہ ڈراینگ رُوم ہی میں بن پائی تھی۔ میں کسمسا رہا تھا کہ یہ اس سے میری بد ذوقی کا علامت نہ سمجھے۔ ”کیا خوبصورت ریک ہے، رنگ برنگی کتابیں کتنی اچھی لگ رہی ہیں۔“ دوست نے تبصرہ کیا۔ مجھے ہمیشہ سے اپنی کتابیں کم ہی لگتی ہیں۔ میں نے حسرت سے کہا، یہ تو کچھ نہیں ہیں، میری خواہش ہے گھر کا ایک کمرا ایسا ہو جس کی دیواریں کتابوں کے پیچھے چھپ جائیں، فرش دکھائی نہ دے۔ ان میں سے زیادہ تر کتابیں وہ ہیں جو میں نے تب خریدی تھیں، جب ایک ہی شہر میں مسکن تھا۔ بوجوہ ہر دو اڑھائی سال کے بعد شہر بدلنا پڑتا ہے، پھر یہ ہے کہ پیکنگ کرتے میں کسی اور کو انھیں چھونے نہیں دیتا، کہ خراب پیکنگ نہ کر دی جائے۔ اس کے باوجود بہت سی کتابوں کی جلدیں ٹوٹ جاتی ہیں؛ نمی اور خشکی سے بچاو، صفائی کا جھنجٹ الگ۔ تنگ آ کے میں نے کتابیں خریدنا چھوڑ دی ہیں۔ بک ریڈنگ اگر عبادت ہے تو بک کیپنگ بھی تپسیا۔ اب اور تپسیا نہیں ہوتی۔ میری یہ بات سن کے دوست یہ سمجھا کہ میں ان کتابوں سے جان چھڑانا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کی فرمایش کو رد کرتے ہوئے سمجھایا کہ یہ کتابیں تو میرے بچوں کی طرح ہیں، انھیں کسی کو نہیں دے سکتا، میں تو یہ کَہ رہا ہوں، مزید بچے نہیں سنبھالے جاتے۔
میرے اس دوست کی تعلیم واجبی سی ہے، لیکن تعلیم اور دولت کا اک دوجے سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہذا من فضل الربی، سیلف میڈ آدمی ہے۔ میں نے پہلے کبھی اس کو کتابوں میں دل چسپی لیتے دیکھا نہیں۔ استفسار کیا کہ تم ان کتابوں کا کیا کرو گے تو کہنے لگا، ”نیا گھر بنایا ہے، ناں؛ سوچ رہا ہوں ڈراینگ رُوم میں کتابیں سجاوں؛ آنے جانے والوں پر اچھا تاثر پڑے گا۔“ چوں کہ میرا یہ دوست خوش حال ہے، تو اس کو مشورہ دیا، بازار سے خرید لے۔ اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا، کہ آج کل کتابیں بہت منہگی ہیں۔ میں نے کہا وہ میرے ساتھ اردو بازار چلے، وہاں ایک پبلشر ہے جو مجھے نصف قیمت پر کتابیں دے دیتا ہے، یوں سستے میں تمھارا مقصد پورا ہو جائے گا۔ ہم دونوں اردو بازار اسی پبلشر کے یہاں پہنچے، جس سے میری شناسائی تھی۔ میں نے دوست سے کہا کہ اپنی پسند کی کتابوں کا انتخاب کر لے۔ وہ بڑی محبت سے ایک ایک کتاب کو چھو کر دیکھتا جاتا۔ سچ ہے کہ آپ کتابوں کی صحبت میں ہوں تو اُن سے محبت ہونے لگتی ہے۔ میں اس دوران دوسری دکان سے ہو آیا، کہ ایک اور پبلشر کا حال احوال پوچھنا تھا۔ اتنی دیر میں وہ آٹھ دس موضوعات کی سو ڈیڑھ سو کتابوں کا انتخاب کرچکا تھا۔ میری جیب میں بہت سی رقم بھی ہو، تو بھی مجھے اتنی کتابیں چننے میں دو تین دن تو لگ جائیں۔ کس موضوع پر کون سی کتاب خریدنا ہے، خریدنی بھی ہے یا نہیں۔ کئی کتابیں تو اس لیے بھی چھوڑ آتا ہوں کہ پبلشر غیر معروف ہے، پتا نہیں مواد معیاری ہو نہ ہو۔

ففٹی پرسینٹ ڈسکاونٹ کے بعد چھوٹی بڑی کتابوں کی کل قیمت اٹھائیس ہزار کے قریب بنی۔ میں نے کنکھیوں سے دوست کو دیکھا، بل ادا کرتے اس کے چہرے پر اضطراب کی سی کیفیت طاری تھی۔ میں نے اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے داد دی، کہ وہ علم دوست آدمی نکلا، جو اتنی بڑی رقم خرچ کرتے نہیں چوکا۔ یہ کتابیں پڑھتے تمھیں ایک سال تو لگ ہی جائے گا، کتابوں کی مد میں دو ہزار رُپے فی مہینا کوئی منہگا سودا نہیں ہے۔ کھسیانی سی مسکراہٹ دکھاتے وہ منمنایا، ”ہاں یہ سودا اتنا منہگا نہیں ہے؛ بس یہ ہے کہ کتابیں بہت منہگی ہیں، انھیں مزید سستا ہونا چاہیے۔ یہ سستی ہو جائیں تو عوام میں مطالعے کی عادت پیدا ہو۔“ پھر یہ بھی کہا کہ ”منہگی کتابوں کی وجہ سے خریدار نہیں آتے تو کتابوں کی دُکانیں بند ہوتی چلی جا رہی ہیں، ان کی جگہ جوتوں کی دکانیں لے رہی ہیں۔“ میں زندگی بھر ایک ناکام آدمی رہا ہوں، سو اس کام یاب آدمی کی بات سے اتفاق کیا؛ کام یاب آدمی کبھی غلط کَہ بھی نہیں سکتا۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے کتابیں منتخب کرتے کن موضوعات کو ترجیح دی اور کیوں؟ تو اس کا جواب تھا، ”موضوعات؟ اچھا؟ موضوع دیکھ کے کتاب خریدی جاتی ہے؟ میں نے تو کتابوں کی جلدوں کا رنگ دیکھا ہے؛ اور ان امور کو ذہن میں رکھا کہ ریک میں سجی یہ کتابیں کمرے کے پردوں اور فرینچر کے رنگ کے موافق ہوں۔“

اس کے بعد وہ مجھے ایک عالی شان ریستوران میں لے گیا، جب کہ میں ڈھابوں سے کھانے کا عادی ہوں۔ ممنونیت کا اظہار یوں کیا، ”صرف تمھاری وجہ سے اتنی منہگی کتابیں، مجھے اتنے سستے داموں ملیں، کسی آرٹ گیلری سے معمولی سی پینٹنگز بھی اٹھاتا تو وہ اس سے زیادہ میں پڑنا تھیں۔“ میرے نہ نہ کرنے کے باوجود اس نے بہت سا کھانا منگوا لیا، کہنے لگا، ”انسان زندگی میں مشقت کس لیے کرتا ہے؟ کھانے کے لیے ہی ناں؟ تو کھانا تو پیٹ بھر کے کھاو۔“ اُٹھنے سے پہلے اس نے مزید کھانا پارسل کرنے کو کہا، کہنے لگا میں خود باہر سے کھانا کھاوں تو گھر والوں کے لیے بھی باہر کا لے کے جاتا ہوں، تا کہ انھیں احساس نہ ہو کہ ان سے محبت میں کمی دکھاتا ہوں۔ مجھے اندازہ تھا کہ کھانے کا بل بہت زیادہ ہوگا، وہی ہوا؛ ہم نے جو کھایا اور پارسل کروایا، اس کھانے کا بل سات ہزار سے کچھ اوپر بنا؛ میرا دوست فخریہ انداز میں دیکھتے مجھ کو یہ سمجھانے لگا، ”اتنی اچھی جگہ ہے اور اتنا اچھا کھانا فقط سات ہزار رُپے میں، یہ کوئی منہگا نہیں ہے؛ دیکھو یہاں کی ایک کلاس بھی تو ہے ناں۔“ میں کھسیانا سا ہو کے اس کو دیکھتے یہ سوچ رہا تھا، کہ گھر کے اخراجات نکال کے بمشکل سات ہزار میری پاکٹ منی ہے جس سے میں اپنا پورا مہینا گزارتا ہوں۔ اس بار بھی میں نے کنکھیوں سے اس کی صورت دیکھی، بل ادا کرتے میرے دوست کے چہرے پر رتی بھر ملال نہ تھا۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran