کیا عظیم پاکستانی موجد آغا وقار کو بھی امریکی لے گئے ہیں؟


آغا وقار نے پانی سے چلنے والی گاڑی ایجاد کی تو پاکستان بھر میں ان کا نام ہوا۔ جب حامد میر صاحب کے پروگرام میں وہ آئے اور بڑے بڑے سائنسدانوں کو انہوں نے اپنی ایجاد سے متحیر کر دیا تو پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ان کا نام تھا۔ پاکستانی وزیراعظم جناب راجہ پرویز اشرف صاحب کو آغا صاحب کی حیرت انگیز ایجاد کا علم ہوا تو انہوں نے وزیر مذہبی امور خورشید شاہ صاحب، وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چنگیز خان جمالی اور پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے وفاقی مشیر ڈاکٹر عاصم پر مشتمل ایک کمیٹی بنا ڈالی جو اس انقلابی ایجاد کی تحقیق کر سکے۔ خورشید شاہ صاحب نے کھلے عام اس ایجاد کی تصدیق کی کہ واقعی پانی سے کار چلتی ہے۔

آغا وقار صاحب نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کی سرکاری سائنس اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں تین میٹنگیں ہوئی تھیں اور اٹامک انرجی کمیشن میں بھی میٹنگ ہوئی۔

ایم آئی ٹی جیسی چند نام نہاد امریکی ٹیکنالوجی یونیورسٹیوں میں تعلیم یافتہ چند افراد جیسا کہ پرویز ہود بھائی وغیرہ نے ان کی ایجاد کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کی اور قوم کو گمراہ کیا کہ پانی سے کار چلانے کا مطلب یہ ہو گا کہ فزکس کے تھرمو ڈائنامیکس وغیرہ کے بہت سے بنیادی قوانین ختم ہو جائیں گے۔ ہماری رائے میں اس مہم کا مقصد صرف یہ تھا کہ قوم کی نگاہ میں آغا صاحب کا وقار خاک میں ملا دیا جائے۔

مگر خوش قسمتی سے اس وقت ایٹم بم کے پاکستانی موجد جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب آغا وقار صاحب کی مدد کو آگے بڑھے اور انہوں نے واشگاف الفاظ میں یہ واضح کر دیا کہ پانی سے کار چلانا ممکن ہے اور آغا وقار صاحب کی گاڑی پانی سے چل سکتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ’میں نے اپنے لیول پر انویسٹیگیٹ کیا ہے اور کوئی فراڈ وراڈ نہیں کیا ہے‘۔

ان کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر شوکت پرویز نے بتایا کہ ’ہم نے بھی اس پہ کام کرایا تھا‘۔ ان دو بڑے سائنسدانوں کی تصدیق کے بعد آغا وقار صاحب کی ایجاد کے اصلی ہونے میں کسی بھی ذی شعور محب وطن پاکستانی کو ہرگز بھی کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

پھر اچانک آغا وقار صاحب منظر عام سے غائب ہو گئے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیوں؟

عام پاکستانی ذہن تو پانی سے چلنے والے انجن کو محض سی این جی اور پیٹرول وغیرہ کا خرچہ بچانے والی ایجاد سمجھ سکتا ہے مگر امریکی تو ایسے نادان نہیں ہیں۔ وہ تو سو سال آگے کی سوچتے ہیں۔ کیا آپ نے پانی سے چلنے والے انجن کے امکانات کا جائزہ لیا ہے؟

پانی سے چلنے والا یہ انجن گاڑی چلانے کے علاوہ جنریٹر چلا کر بجلی بھی پیدا کر سکتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی ہر شے ہمیں مفت پڑے گی۔ تصور کریں کہ آپ کسی دور دراز علاقے میں بھی موجود ہیں تو پانی سے چلنے والے جنریٹر میں قریبی کنویں سے پانی کی ایک بوتل نکال کر ڈالیں اور پھر اس دور دراز علاقے کو بجلی سے جگمگا دیں۔ عالمی منظر نامے پر اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مشرق وسطی کے برادر اسلامی ممالک سے کوئی تیل نہیں خریدے گا اور وہ بے پناہ غربت کا شکار ہو جائیں گے جبکہ برف کے بے پناہ ذخائر پر بیٹھے امریکہ اور کینیڈا وغیرہ کا وہی مقام ہو گا جو آج تیل کی پیداوار کے سبب سعودی عرب کا ہے۔

لیکن اصل گیم اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ پانی سے بجلی پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی کی مدد سے مریخ اور مشتری وغیرہ جیسے سیاروں پر بھی وہاں موجود پانی کی مدد سے مستقل انسانی بستیاں بسائی جا سکتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دن کے وقت چار سو سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں ائیر کنڈیشننگ چلا کر اور رات کے منفی چار سو سینٹی گریڈ میں ہیٹر چلا کر انسانی حیات کے لئے ضروری درجہ حرات ممکن بنایا جا سکے گا۔

پاکستان کو پسماندہ رکھنے اور خود ترقی کرنے کی خاطر ہر غیر معمولی ٹیلنٹڈ پاکستانی کو امریکی لے جاتے ہیں۔ کسی کو سکالر شپ دے کر پڑھائی کے نام پر، کسی کو اعلی درجے کی ملازمت کے نام پر، کسی کو تحقیق کرنے کے نام پر اور کسی کو قانون اور میرٹ کی حکمرانی والے معاشرے میں رہنے کے نام پر امریکہ لے جایا جاتا ہے۔ جو محب وطن پاکستانی اس لالچ میں نہیں آتا اسے اغوا کر کے لے جایا جاتا ہے اور اس سے ایجادات کروا کر امریکی سائنسدانوں کے نام پر پیٹنٹ کرا لی جاتی ہیں۔

امریکہ کی روایت پر نظر ڈالی جائے تو آپ دیکھیں کہ امریکہ کے ایٹمی پروگرام کے نظریاتی اور عملی معمار دوسرے ملکوں سے لائے گئے تھے۔ آئن سٹائن، فان نیومان، ایڈورڈ ٹیلر وغیرہ کتنے ہی ایسے سائنسدان تھے۔ دوران جنگ اور جرمنی کے جنگ عظیم ہارنے کے بعد جرمن سائنسدانوں کو بندوق کی نال پر اغوا کر کے امریکہ منتقل کیا گیا۔ ایٹم بم کے علاوہ امریکہ کے خلائی اور میزائل پروگرام کے معمار بھی یہی اغوا شدہ غیر ملکی سائنسدان تھے جن میں ایک بڑا نام ورنر فان بران کا ہے۔ اس نے نازی جرمنی کے مشہور عالم وی ٹو راکٹ بنا کر شہرت پائی۔ امریکہ منتقل ہونے کے بعد اس نے امریکہ کو وہ راکٹ بنا کر دیے جن کی مدد سے اس نے پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں چھوڑا اور انسان کو چاند پر اتارا۔

اس وقت بھی آپ دیکھیں تو امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں گوگل، مائکروسافٹ، ایڈوبی وغیرہ کے سربراہان یا اعلی ترین اہلکار بھارتی نژاد غیر ملکی ہیں۔ اس مختصر سی تاریخ اور حالیہ منظرنامے سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکہ غیر ملکی ٹیلنٹ کو اپنے پاس لانے کے لئے اغوا سے لے کر لالچ تک ہر حربہ استعمال کر سکتا ہے۔

فزکس کے صدیوں پرانے قوانین کو تہ و بالا کر دینے والے سائنسدان اور انسانی تاریخ اور مستقبل کو ہمیشہ کے لئے بدل دینے والی ایجاد، یعنی پانی سے سستی ترین توانائی پیدا کرنے والے انجن کے موجد آغا وقار اب کئی برس سے منظر عام سے غائب ہیں۔ اس پراسرار گمشدگی پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔

کیا پاکستان کو پسماندہ رکھنے کی خاطر آغا وقار کو بھی نازی جرمن سائنسدانوں کی مانند اغوا کر کے امریکہ لے جایا جا چکا ہے؟ ہمیں یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے اور وہ اس وقت پینٹاگون کے کسی خفیہ تہ خانے میں امریکی فوج کے لئے پانی سے چلنے والے خلائی جہاز، ہوائی جہاز، بحری جہاز، ٹینک اور پستول بنا رہے ہیں۔


اسی بارے میں
آغا وقار پاکستان میں ہی ہیں اور نئی ایجادات کر چکے ہیں
Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar