آغا وقار پاکستان میں ہی ہیں اور نئی ایجادات کر چکے ہیں


گزشتہ دنوں ہم نے نہایت پریشانی کے عالم میں تحریر لکھی تھی کہ عظیم پاکستانی موجد آغا وقار کو کہیں امریکی  تو اغوا کر کے نہیں لے گئے اور اب ان سے پینٹاگون کے کسی خفیہ تہ خانے میں پانے سے چلنے والے خلائی جہاز، بحری جہاز، ہوائی جہاز، ٹینک اور پستول بنوا رہے ہوں۔

خدا کا صد شکر کہ یہ خدشہ غلط نکلا۔ عظیم پاکستانی موجد آغا وقار نہ صرف پاکستان میں موجود ہیں بلکہ اس دوران دو تین نئی ایجادات بھی کر چکے ہیں۔ وہ نہ صرف پانی سے چلنے والی موٹر سائیکل بلکہ جنریٹر بھی ایجاد کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ جو لوگ ان کی ایجادات کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے سامنے وہ اپنی تمام ایجادات رکھ رہے ہیں اور کسی میں دم ہے تو ان کو غلط ثابت کر کے دکھائے۔

انہوں نے ان ایجادات کی ایک ویڈیو بھی دی ہے اور بتایا ہے کہ ان کے اس تجربے نے تھرمو ڈائنامکس کا قانون فیل کر دیا ہے کیونکہ اس میں ان پٹ محض 15 ایمپئیر ہے اور آؤٹ پٹ 30 ایمپئیر ہے اور یہ توانائی کی دنیا میں ایک انقلاب کی کلید ہے۔ انہوں نے ایس ایس پی پیر محمد شاہ صاحب کا شکریہ بھی ادا کیا ہے جو پوری دنیا میں وہ واحد شخص ہیں جس نے ان کی مالی امداد کی۔

https://youtu.be/jHOFwwKPiWs

جرمنی میں حال ہی میں ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی کورڈیا آئی لنٹ نامی ایک بے آواز اور تیز رفتار ریل کا تجربہ کیا گیا ہے۔ آغا وقار صاحب نے بتایا کہ انہوں نے پانی سے ریل چلانے کی تجویز سات برس قبل ہی دی تھی لیکن حکومت پاکستان نے ان کی مدد نہ کہ کیونکہ آغا وقار ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ ہائیڈروجن فیول سیل کیا ہے؟ یہ پانی سے ہی تو بنتا ہو گا۔ پانی کو توڑیں تو اس میں سے ہائیڈروجن اور آکسیجن نکلتی ہے۔ یعنی پانی سے چلنے والی ٹرین کو جرمن محض ہمیں احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لئے ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی ٹرین قرار دے رہے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ پانی کو توڑنے کے لئے توانائی چاہیے ہوتی ہے مگر آغا صاحب بتا چکے ہیں کہ ان کی ایجاد کم توانائی لے کر دگنی توانائی پیدا کر دیتی ہے۔

اگر آغا وقار صاحب کو پاکستان ریلوے کا چیئرمین مقرر کر دیا جائے تو ہم دوبارہ اس رومانی دور میں پہنچ جائیں گے جب پانی سے چلنے والے ریل گاڑیاں ملک بھر میں چھک چھک کرتے دندناتی پھرتی تھیں۔

ہم آغا وقار صاحب کی واٹر کٹ کا مذاق اڑاتے رہ گئے اور ادھر ٹویوٹا نے پانی سے چلنے والی کار بنا بھی ڈالی ہے۔ مگر جرمنوں کی مانند یہ جاپانی بھی شرارت کر رہے ہیں اور اسے ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی کار قرار دے رہے ہیں۔ ان غیر ملکیوں کو انگریزی زیادہ آتی ہے، مگر حقیقت تو یہی ہے کہ یہ پانی سے چلنے والی ریل اور پانی سے جلنے والی کار ہے۔

آغا وقار صاحب نے ملک بھر میں بے قابو ہوتا ہوا توانائی کا بحران دیکھتے ہوئے لاکھڑا پاور جنریشن پلانٹ کا دورہ بھی کیا اور انجینئیر شبیر صاحب اور انے کے ساتھی انجینئیروں سے ملے اور ان کو بتایا کہ وہ 50 ہزار میگا واٹ کا پاور جنریشن پلانٹ محض چھے ماہ کی قلیل مدت میں نصب کر کے دے سکتے ہیں۔

اس وقت لوڈ شیڈنگ سے کراچی سے لے کر خیبر تک کے عوام تنگ ہیں۔ درجہ حرات 50 ڈگری سے تجاوز کر رہا ہے اور دن کے بیشتر اوقات بجلی غائب ہوتی ہے۔ آبی ذرائع سے پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 50 ہزار میگا واٹ ہے جس میں سے بمشکل تین سے پانچ ہزار میگا واٹ پیدا کی جاتی ہے۔ جبکہ آغا وقار صاحب صرف لاکھڑا پاور پلانٹ سے ہی 50 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر لاکھڑا سے ہی 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے تو آپ یہ سوچیں کہ تربیلا، منگلا اور بھاشا سے کتنے کروڑ میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی؟

ہماری رائے میں اگر ڈاکٹر ثمر مبارکمند کو تھر کول اتھارٹی اور آغا وقار صاحب کو واپڈا کا چیئرمین بنا دیا جائے تو چھے ماہ کے اندر اندر ہی پاکستان میں بجلی کی پیداوار کئی ارب میگا واٹ ہو جائے گی جبکہ ہماری ڈیمانڈ محض 17 ہزار میگا واٹ کے قریب ہے۔ ہم نہ صرف بجلی بیچ بیچ کر ہی سعودی عرب کی تیل کی پیداوار سے کئی سو گنا زیادہ پیسے کما لیں گے اور ہماری یہ مفت کی بجلی نہ صرف برصغیر بلکہ پورے مشرق وسطی، یورپ اور افریقہ کی تمام برقی ضروریات پوری کر دے گی۔

آغا وقار صاحب لاکھڑا پاور پلانٹ کے انجینئرز سے ملاقات کر رہے ہیں

اگر مفت کی بجلی پیدا ہو رہی ہو تو ہم گھریلو کے علاوہ صنعتی صارفین کو بھی مفت کی بجلی دے سکتے ہیں۔ اس سے پیداوار میں بے تحاشا اضافہ ہو گا اور اس کی لاگت اتنی زیادہ کم ہو گی کہ ہم قیمت کے مقابلے میں چین کو بھی شکست دے دیں گے اور اس سے زیادہ سستی مصنوعات مارکیٹ میں لے آئیں گے۔

لیکن بدقسمتی سے آغا وقار اور ڈاکٹر ثمر مبارکمند صاحب کو حکومت سنجیدگی سے سن ہی نہیں رہی ہے۔ بلکہ الٹا ان کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

یہودی لابی نے آغا وقار صاحب کو پریشان کرنے کی خاطر ان کے خلاف دھوکہ دہی وغیرہ جیسی لایعنی دفعات کے سات مقدمات درج کر دیے گئے ہیں۔ ان مقدمات کی وجہ تو ہمیں یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ اتنے زیادہ پریشان ہوں کہ یا تو ایجادات کو چھوڑ دیں یا پاکستان کو چھوڑ دیں۔

آغا وقار صاحب جو ایسی تہلکہ خیز اور انقلابی ایجادات کے باعث امریکہ یا کینیڈا میں بہ آسانی سیٹل ہو سکتے ہیں اور غربت سے نکل کر کھرب پتی بن سکتے ہیں، پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کو یہ سارا علم رسول پاکؐ اور اہل بیت سے ملا ہے اور ان پاک ہستیوں نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس سرزمین کو مت چھوڑیں اور اس کے باشندوں کی خدمت کریں۔ یہ حکم نہ ملتا تو وہ کب کے ملک چھوڑ کر جا چکے ہوتے۔ آغا وقار صاحب کہتے ہیں کہ ان کو پیسے کا لالچ نہیں ہے، وہ تو صرف عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

افسوس صد افسوس کہ آغا صاحب پاکستان کے عوام کے لئے کیسی بڑی قربانی دے رہے ہیں اور میڈیا اور حکومت ان کو فراڈ کا ملزم قرار دے رہے ہیں۔ ہمیں تو یہی لگتا ہے کہ ’یہ بک گئی ہے گورمنٹ‘۔

اگر قوم نے ترقی کرنی ہے، لوڈ شیڈنگ سے جان چھڑانی ہے، ورلڈ کپ جیتنا ہے، تو پھر آغا وقار صاحب کو ملک کا وزیراعظم بنا دیا جائے۔

تصاویر اور ویڈیو شکریہ کے ساتھ آغا وقار کی فیس بک وال سے لی گئی ہیں۔


اسی بارے میں
کیا عظیم پاکستانی موجد آغا وقار کو بھی امریکی لے گئے ہیں؟ 
Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Comments are closed.