پاکستان کا وفاقی بجٹ 18-2017 – اہم نکات

اقتصادی جائزے کے مطابق رواں مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 5.28 فیصد رہی
ملکی معیشت کا حجم پہلی مرتبہ 300 ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے
حکومت تجارتی خسارے کو 20.4 ارب ڈالر کی حد تک روکنے میں ناکام رہی اور تجارتی خسارہ 24 ارب ڈالر رہا ہے
پاکستان کے دفاعی بجٹ میں آئندہ سال کے لیے 79 ارب روپے اضافے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 8.59 فیصد زیادہ ہے۔ 2016-17 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے مختص رقم میں تقریباً 11 فیصد اضافہ کیا گیا تھا یعنی رواں برس اس شرح میں تقریباً 2.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔
چار سال میں ٹیکس وصولیوں میں اکیاسی فیصد اضافہ ہوا۔
صوبوں کاحصہ نکالنےکےبعدوفاق کی باقی آمدنی2926ارب روپےمتوقع ہے،جبکہ کل آمدنی میں صوبائی حکومتوں کاحصہ2384ارب روپےتجویز کیا گیا ہے۔
پرائيویٹ سیکٹر کو قرضے کی فراہمی میں چار گنا اضافہ ہوا ، صنعت کے لیے لوڈشیڈنگ مکمل طورپر ختم ہوچکی ہے، آنے والے سال میں لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔
گزشتہ چار سال میں فی کس آمدنی بائیس فیصد بڑھ کر 1629 ڈالر ہوئی، حکومت نے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی ، پاکستان کی معیشت کا حجم 300ارب امریکی ڈالر سے بڑھ گیا ہے۔
رواں مالی سال میں 700ارب روپے کے زرعی قرضے دیے گئے۔
اس سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5اعشاریہ 3فیصد ہے،اس سال مشینری کی درآمد میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔
پاکستان 2030 تک بیس بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہوجائے گا۔
صنعتی سیکٹر میں5 اعشاریہ 02 فیصد اضافہ ہوا،
سروسز سیکٹر میں5 اعشاریہ98 فیصد ترقی ہوئی،حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی گئی،رواں مالی سال میں 700ارب روپے کے زرعی قرضے دیے گئے،اوور سیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں 40 فیصد اضافہ ہوا،پاکستان میں فی کس آمدن 1631 ڈالر رہی۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 97ارب روپے کی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔
پاکستان کے پاس 21ارب ڈالر سے زیادہ کے زرمبادلہ ذخائرہیں، پاکستان 2030ء تک 20 بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہوجائے گا۔
مالی خسارہ کم ہوکر 4 فیصد تک آگیا ہے ،جی ڈی پی کی شرح دس سال میں سب سے زیادہ ہے ،دو ہزار سترہ اٹھارہ میں جی ڈی پی کی شرح میں 6 فیصد اضافہ تجویزکیا ہے۔
بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4اعشاریہ 1 فیصد تجویز کیاہے، سرمایہ کاری ٹو جی ڈی پی تناسب 17 فیصد تجویز کی ہے، 1001 ارب روپے کا وفاقی ترقیاتی بجٹ ہوگا۔
سوئٹزرلینڈ سےٹیکس مقاصد کے لیےبینکنگ معلومات کامعاہدہ توثیق کےمراحل میں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 21ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
مالی سال18-2017 ءمیں جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد رکھا ہے، سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 10فیصد ایڈہاک الاؤنس کا اضافہ کیا ہے۔
ایف بی آر کے ریونیو ٹارگٹ میں 14 فیصد اضافے کی تجویز ہے ۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے121ارب روپےمختص کرنے کی تجویز، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 68لاکھ مستحق افراد مستفید ہوں گے، زراعت ،مالی شعبے، برآمدات روز گار کے لیے نئے مواقع پیداکریں گے،تین سو ماہانہ یونٹ والے صارفین کے لیے سبسڈی جاری رکھی جائےگی۔
بجلی پر سبسڈی کے لیے 118ارب روپے رکھے گئے ہیں ،لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے 20ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
اس سال ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3521ارب ہے۔
کسانوں کو 600ارب روپے کے آسان قرضے دیے گئے،دوردرازعلاقوں میں بجلی کے لیے سولر سسٹم والا نظام متعارف کرائیں گے، مجموعی مالی محصولات کا تخمینہ 5310ارب روپے لگایا ہے۔
کسانوں کے لیے قرضوں کا حجم ایک ہزار ایک ارب روپے کیاجا رہا ہے ،زرعی قرضوں کا حجم ترقیاتی حجم کے برابر رکھا جا رہا ہے۔
یکم جولائی 2017ء سے ساڑھے 12ایکڑ والےکسانوں کو9اعشاریہ 9 فیصد سالانہ کی شرح سے زرعی قرضے ملیں گے۔
ڈی اے پی پر فکس سیلز ٹیکس 400سے کم کر کے 100روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کل آمدنی سے صوبائی حکومتوں کا حصہ2384ارب روپےلگایا گیا، یہ وسائل وفاقی وصوبائی حکومتیں انسانی ترقی اورسیکیورٹی پرخرچ کریں گی۔
زرعی مشینری پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کیاجارہا ہے،
کل اخراجات کا تخمینہ 4753ارب روپے ہے،
سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایک روپیہ سے بڑھا ایک روپیہ 25 پیسےکرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، کپڑے کی کمرشل درآمد پر سیلز ٹیکس 6 فیصد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
سیگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے، اسٹیل سیکٹر پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے۔
پولٹری سےمتعلق خام مال کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے اور پولٹری صنعت پر کسٹم ڈیوٹی 11فیصد سے کم کر کے 3فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پاکستان میں انفرا اسٹرکچر بینک قائم کیا جارہا ہے،فی کسان 50ہزار روپے تک قرضہ دیاجائےگا،انفرا اسٹرکچر بینک سے پراجیکٹ فنانسنگ ہو سکے گی،مجموعی مالی محصولات کا تخمینہ 5310ارب روپے لگایا گیا ہے۔
ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 4013 ارب روپے لگائی گئی ہے، کل آمدنی سے صوبائی حکومتوں کا حصہ2384ارب روپے لگایا گیا، گھر بنانے کیے لیے حکومت 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں پر 40فیصد گارنٹی دےگی۔
جنوبی کوریا کے تعاون سے اسلام آباد میں آئی ٹی کمپنی قائم کی جائےگی،موبائل ٹیلی فون کمپنیوں کے سامان کی امپورٹ پر ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے ،پی ایس ڈی پی میں 1001 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
آئی ٹی سروسز کی ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف کیاجا رہا ہے، جنوبی کوریا کے تعاون سے اسلام آباد میں آئی ٹی کمپنی قائم کی جائےگی، موبائل ٹیلی فون کمپنیوں کے سامان کی امپورٹ پر ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے۔
پی ایس ڈی پی میں 1001 ارب روپے رکھا گیا ہے،آئی ٹی سروسز کی ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف کیاجا رہا ہے ،ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹرمیں یکساں شرح سے9فیصدریگولیٹری ڈیوٹی نافذہوگی۔
موبائل ٹیلی فون کمپنیوں کے سامان کی درآمد پر ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے ۔
سال2018 ءکے بعد 15 ہزارمیگاواٹ کےمنصوبوں پر کام ہو رہا ہوگا، دیامر بھاشا ڈیم کےلیے 21ارب روپے رکھے گئے ہیں، داسو ہائیڈرو پاورپراجیکٹ کے لیے 54ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
پانی کے شعبے کے لیے 38ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے کے لیے 38ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
ریلوے کے لیے 42اعشاریہ9 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ،پشاور تا کراچی ریلوے لائن کے لیے چین کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 35اعشاریہ 7ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، صحت کے لیے 49ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل ہیلتھ پروگرام کے لیے 10ارب روپے رکھے جا رہے ہیں ،’صاف پانی سب کے لیے‘منصوبے کے لیے 12اعشاریہ 5ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نئی آئی ٹی کمپنیز کو پہلے 3سال انکم ٹیکس کی چھوٹ دیں گے،افواج پاکستان کے تمام افسران اور جوانوں کو تنخواہ کا 10 فیصد الاونس دیاجائےگا۔
آٹھ سو پچاس سی سی گاڑیوں کی رجسٹریشن پرودہولڈنگ ٹیکس 10ہزارسےکم کرکے7500روپےتجویز دی گئی ہے، گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کا اطلاق ٹیکس ادا کرنے والوں پر ہوگا۔ تیرہ سو سی سی گاڑیوں پرٹیکس30ہزارسےکم کرکے25ہزارروپے کرنے اور وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کےتحت لی گئی گاڑیوں پرودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ کی تجویز ہے،اس تجویز کا مقصد بے روزگار نوجوانوں کو فائدہ دیناہے۔
اسمارٹ فونز پر کسٹم ڈیوٹی 1ہزار سے کم کر کے 650کی جا رہی ہے ۔
تقسیم کنندگان پر ٹیکسوں کی کم ترین شرح 0اعشاریہ2 فیصد مقرر کی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اس لیے سپر ٹیکس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ودہولڈنگ ٹیکس اسٹیٹمنٹس میں غلطیوں کی تصحیح کے لیے60دن میں نظرثانی کی اجازت ہوگی،نان فائلرز کے لیے مختلف مد میں ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کارپوریٹ سیکٹرکے لیےٹیکس35فیصد سےکم کرکے30فیصدرکھنےکی تجویز ہے۔
پولٹری کی مشینری پر سیلز ٹیکس کم کر کے 7فیصد کرنے کی تجویز ہے،سگریٹ کی حوصلہ شکنی کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانےکی تجویز ہے،سگریٹ پرکسٹم ڈیوٹی شرح3فیصدسےبڑھاکر20فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
پولٹری فارم سیکٹراسٹاک پرعائد5فیصدریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنےکی اور شترمرغ فارمنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دینےکی تجویز ہے۔
لکڑی کی شیٹس پرکسٹم ڈیوٹی16سےکم کرکے11فیصد کرنےکی تجویز ہے،الیکٹرک گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی میں ریلیف کے لیے 3ماہ میں پیکیج کا اعلان کیا جائے گا۔
فکسڈ ٹیکس فی یونٹ کےحساب سےفائنل ٹیکس پچھلے بجٹ میں عائد کیا، بیواؤں کے لیےایچ بی ایف سی کےقرض کی ادائیگی میں چھوٹ کی اسکیم شروع کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے۔
سال 2009ء ،2010ءکے افواج پاکستان، سول ملازمین ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کیا گیا ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
گریڈ5 تک کے ملازمین کو50 فیصد ہاؤس رینٹ الاؤنس کی کٹوتی ختم کردی گئی ہے،ڈیلی الاؤنس میں اضافےکی شرح 60فیصد کردی گئی ہے۔
پاکستان بحریہ کے الاؤنسز میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، پاک بحریہ کےبیٹ مین الاؤنس، پے ہارڈ لائن الاؤنس میں اضافے کی تجویز ہے۔
ایف سی کی تنخواہ میں 8 ہزار روپے فکس الاؤنس کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے،تنخواہوں میں اضافے سے مجموعی طور پر 125ارب روپے کا اضافی خرچ ہوگا۔
کم سے کم اجرت 14ہزار سے15 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز ہے، کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد ہوگی۔
ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں14 فیصداضافہ متوقع ہے، جبکہ اس کی کل آمدنی میں 12اعشاریہ1 فیصد اضافہ متوقع ہے،ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 4 ہزار13ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔
آئل کمپنیوں پر عائد 2فیصد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے،مزدور کی کم سے کم اجرت 14ہزار سے15 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز ہے۔
سی پیک سے جڑے منصوبوں کے لیے 180ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، اب تعلیمی اخراجات پر ٹیکس میں رعایت 15لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر ہوگی۔
پہلے تعلیمی اخراجات پررعایت سالانہ 10لاکھ روپے سے کم آمدن پر ہوتی تھی، فی بچہ تعلیمی اخراجات پر 60ہزار روپے تک ٹیکس میں 5 فیصد رعایت ہے۔

