ہم ناانصافی کے رسیا بھی ہیں اور اس سے نالاں بھی

مجھے یہ نا انصافی بالکل نہیں پسند! ہر جگہ، ہر وقت، مجھ سے نہیں برداشت ہوتی نا انصافی۔ مجھے اب چپ نہیں رہنا۔ آپ سب ہمیشہ مجھے چپ کروا دیتے ہیں۔ میں بزدل نہیں ہوں۔ مجھے اپنے حق کے لیے بولنا آتا ہے۔

ارے نہیں جناب۔ میں کسی سیاسی تبصرے میں نہیں پڑنے جا رہی۔ یہ تو میں اپنے گھر والوں، ماں باپ بہن بھائیوں سے مخاطب ہوں۔ عمر بارہ سال، ہمت ساتویں آسمان پر۔ جھوٹ سے نفرت، غصے سے لبریز۔ مجھے بس چھپا کے، سنبھال کے رکھنا ہی میرے والدین کا کام رہا۔ دو بدترین امتزاج سے بنی میں، ایک تو لڑکی دوسرے غصیلی۔ چڑچڑاپن تو بچوں میں آئرن کی کمی سے ہوتا ہے، قارئین قطعی طور پہ یہ نا سوچیں کہ میں اس عارضے میں مبتلا رہی ہوں۔ میرا مسئلہ شاید کچھ اور تھا جو میری والدہ کو صاف دکھائی دیتا تھا۔ اس لیے وہ مجھے کسی بھی بحث یا جھگڑے کی جگہ سے پہلے ہی ہٹا دیا کرتی تھیں اور کرتیں بھی کیا بیچاری۔ کبھی کبھی میرے سچے اور ایماندار ہونے سے انھیں وحشت سی ہو جایا کرتی تھی۔ مگر تربیت تو انھی کی تھی نا جو باقی بچوں کے مقابلے میں، میں نے زیادہ ہی دل سے لگا لی تھی۔ مجھے نا انصافی نہیں برداشت ہوتی تھی اور آج بھی یہی حال ہے مگر زیادہ غصہ اس وقت آتا ہے جب کوئی اسے برداشت کرنے کا کہے۔

کھیل کود میں دوسرے بچوں کو تعلقات کی بناء پہ فوقیت ملنے پہ، مستحق ہونے پہ بھی شاباش نا ملنے پہ، اسکول میں معیار پہ پورا اترنے کے باوجود مانیٹر نا بننے پہ، پوزیشن لانے پہ بھی ٹیچر کا پسندیدہ نا ہونے پہ، پرنسپل کی نواسی نا ہونے پہ پریکٹیکل میں نمبر نا ملنے پہ، اسکول کی سب سے بہترین لکھائی ہونے کے باوجود کوئی سرٹیفیکیٹ نا ملنے پہ وغیرہ۔ یہ چھوٹے چھوٹے احتجاج، کسی بڑے احتجاج کی غمازی کرتے آئے تھے اور نا انصافی کے نام پہ یہ غصہ چڑچڑاہٹ میری ماں کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا، جی کوئی نہیں۔

تو جناب، میں بچپن ہی سے عدل و انصاف کی دلدادہ ہوں۔ مگر ہم بہت سی باتوں کو آپس میں خلط ملط کر دیتے ہیں اور پھر ویسے ہی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ میرے نزدیک ہم سب انصاف اور نا انصافی کی مکس پلیٹ بنا کے مزے لیتے رہتے ہیں۔ ہم کنفیوز ہیں۔ آپ کو حیرت ہو رہی ہے؟ ذرا دو منٹ ٹھہریے اور خود سے پوچھیے کہ اوپر دیے گئے چند بچکانہ نکات آپ کے لیے غیر ضروری اور وقت کا ضیاع نہیں تھے؟ ہم جھوٹ اور نا انصافی کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں کچھ غلط بھی اب غلط لگتا ہی نہیں۔ ہاں آواز اٹھانے والا پاگل ضرور لگتا ہے۔ خیر میرے والدین نے تو دبکا دبکا کے مجھے بڑا کر دیا۔ لیکن ان سب کا کیا جو اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ ہم نے ابھی ایک لفظ نیا نیا بھی تو سیکھا ہے ’Tolerance‘، جو کسی میں نہیں۔ جہاں کسی نے آواز اٹھائی وہاں اس پہ لیبل لگا دیا کہ Tolerance(برداشت) کی کمی ہے۔ ارے بھائی، جس کا دل چاہے وہ پیچھے سے گاڑی کو ٹکر مار دے او ر سوری کہہ کے چلا بھی جائے، چاہے اگلے شخص کی گاڑی کا حشر نشر ہی کیوں نا ہو گیا ہو۔ اگر میں غلطی سے بات کرنے اتر ہی جاؤں تو الٹا اس کی بدتمیزی برداشت کروں کہ صنف نازک ہوں ورنہ بدتمیز اور پاگل خاتون کہلاؤں گی۔ ہم سب خوفزدہ رہ رہ کر نا انصافی برداشت کرنے کے بری طرح عادی ہو چکے ہیں۔

گھر بھر میں جوایک واحد شخص کماتا ہے، اس پہ بوجھ ڈالتے ہی جاتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ ا س کو اپنے لیے بھی کچھ کرنا ہے۔ اپنے بھی کچھ سپنے ہوں گے اس کے۔ لیکن ہمارے پیٹ کی آگ ہے کہ بجھتی ہی نہیں اور و ہ معصوم دن رات ایک کر کے بھٹی میں سڑتا رہتا ہے۔ ہم نا انصافی کے معمار ہیں۔ ہم نا انصافی کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔

کوئی میدان بچا تو نہیں ہے جس میں ہم نا انصافی کے پرچم نا لہرا رہے ہوں۔ میں نام نہیں لوں گی کہ ظاہر ہے کہ میں نے سکون کی زندگی گزارنی ہے۔ یہ پڑھے لکھے سیاسی ورکرز یا لیڈرز۔ یہ لوگوں کے مسیحا بنے پھرتے ہیں کہ انھیں انصاف دلائیں گے۔ پہلے خو د تو (معمولی چیزوں میں ہی سہی) انصاف کرنا سیکھ لیں۔ عورتوں کا احترام تو کہنا ہی فضول لگتا ہے کہ ہر وقت بھوکے بھیڑیوں کی طرح پل پڑنے کو تیار۔ یا تو ہوتے ہی ایسے ہیں یا اپنے لیڈر ا ور جماعت کو بدنام کرتے ہیں۔ سیاسی جماعت جوائن کرتے ہی خود کو لیڈر یا غنڈا سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر نوکری جہاں کرتے ہیں وہاں خود کو لیڈر تصور کر کے چیلے بناتے ہیں یا یوں کہیے کہ چمچے جنم دیتے ہیں۔ پھر پارٹی بناتے ہیں۔ جہاں کام کرتے ہیں دہیں کا ماحول برباد کرتے ہیں، کام کے وقت پمفلٹ بن رہے ہوتے ہیں۔ باس کچھ کہے تو بدمعاشی (پارٹی گیری) شروع۔ اور باس اگر خاتون ہو تو بات ہی ختم۔ ان سب سے دب کے رہا جائے تو خوش ورنہ تو آپ کو پتہ ہی ہے۔

میرے سامنے والے ہمسائے کے پاس تین بڑی بڑی گاڑیاں ہیں جبکہ ہماری گلی میں ایک وقت میں ایک ہی گاڑی کھڑی ہو سکتی ہے اور گزر سکتی ہے۔ وہ صاحب روز صبح اپنی تینوں گاڑیاں نکال کے مختلف سمتوں میں کھڑی کر دیتے ہیں۔ کئی بار انھوں نے دس منٹ کھڑے ہو کر میری اذیت کا تماشا دیکھا مگر انھیں احساس نہ ہو سکا۔ اب مجھے روز صبح تھوڑا پہلے اٹھنا ہوتا ہے کہ گاڑی نکالنے میں خاصا وقت لگتا ہے۔ پھر صبح صبح جی ٹی روڈ کی صرف ایک لین چلتی ہے۔ ٹریفک جام ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ باقی 3 لین پہ بدتمیز منچلے پبلک ٹرانسپورٹرز گاڑیاں روکے کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی نہ کسی طرح نوکری پہ پہنچ جاؤ تو حاضری کا نرالا سسٹم اذیت سے مار دیتا ہے، جب 30 سیکنڈ تاخیر سے آنے پہ Late Mark کر دی جاتی ہے اور تین تاخیر پہ ایک دن کی تنخواہ کاٹ دی جاتی ہے۔ کوئی مجبوری جمعے یا ہفتے کی چھٹی کرا دے تو تین دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ پھر ایسے میں عادی مجرموں کی طرح سبھی کو ہانکا جاتا ہے۔ کوئی تو احتجاج کرے یا کہیں تو سنوائی ہو۔
پچھلے دنوں میری کام والی کو اپنے رشتے دار سے ملنے جیل جانا تھا۔ مجھے یہ تو پتہ تھا کہ اس کو کھانے پینے کا سامان لے جانا تھا مگر یہ نہیں سمجھ آیا کہ مجھ سے تین ہزار روپے کیو ں مانگ رہی ہے۔ خیر اس وقت تو دے دیے۔ بعد میں دریافت کرنے پہ بتاتی ہے کہ مین گیٹ سے لے کر کھانا پہنچا دینے تک، سب کے پیسے (بھتے) الگ ہوتے ہیں۔ بس پیسے دیتے جایئے اور آگے بڑھتے جایئے۔ مرے ہوئے کو مارنے کی ایسی زندہ مثالیں بھی اس ملک میں خوب ملیں گی۔

نا انصافی تو اب کھٹملوں سے بھرا پلنگ اور چونٹیوں بھرا کباب ہو گئی ہے۔ آپ ختم کرنا چاہیں بھی تو لگتا ہے کہ نہیں کر پائیں گے۔ جب ہم ایک بات کو تسلیم کر ہی نہیں پا رہے تو اس کے خاتمے کے لیے کیا خاک کام کریں گے۔

25 سالہ لڑکی کو گھر کی بہو بنا کے لاتے ہیں۔ پھر اس پہ لازمی ہے کہ وہ ہر کام میں طاق ہو۔ ہر سبزی کھاتی ہو خاص کر ٹینڈے۔ بغیر گوشت کے اف تک نہ کرتی ہو۔ کماتی بھی ہو اور گونگی بھی ہو۔ شاپنگ سے متعلقہ کوئی شوق نا پا لتی ہو۔ کوئی خواہش کر نے کی خواہش نا رکھتی ہو۔ تھکنا تو جیسے پتہ ہی نہ ہو اسے، ہنسنے میں کمال فن ہو۔ موسموں کی سختی سے نا آشنا۔ پتلی تماشے کی اعلٰی کردار۔ اس کے برعکس اپنی 25 سالہ غیر شادی شدہ بیٹی سے دس سالہ شہزادیوں والا سلوک اور اوپر دی گئی تمام خصوصیات سے مستثنیٰ۔ ایک امیر ترین گونگے داماد کی تلاش جس کے آگے پیچھے کوئی نا ہو۔ معاشرے کے آخر کس کس پہلو پہ نظر ڈالی جائے۔

بنک میں کولر نا رکھنے پہ کہوں، بجلی کا بل بغیر کسی و جہ کے آسمان سے باتیں کرنے پہ کہوں، گلیوں میں پھیلے غلاظت کے ڈھیر پہ کہوں، کھانے کے بعد بل کے ساتھ 300 کا ٹیکس دینے پہ کہوں، آئے دن کے سیاسی جلسوں کے باعث ٹریفک جام پہ کہوں، دن دہاڑے دندناتے آئل ٹینکروں کے بارے میں کہوں، ہائی وے پہ من مانی کرتے جنگلی ٹرکوں کے بارے میں کہوں، منہ مانگی قیمتیں لینے والے دکانداروں پہ کہوں، رمضان کی دگنی قیمتوں پہ کہوں یا کرسمس پہ آدھی قیمتوں پہ کہوں۔ ڈاکٹروں کی من مانی اور غیر مخلصی پہ کہوں، تنخواہ نا بڑھنے پہ کہوں، رشتوں میں غیر منصفانہ رویوں پہ کہوں یا زبان کاٹ دوں اپنی۔

جب یہ آرٹیکل لکھ رہی تھی یا نا انصافی کا رونا رو رہی تھی تو میاں کا فون آیا کہ اسلام آباد لائسنس آفس کے باہر لائن میں ہوں۔ اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا نمبر 365 واں ہے اور ابھی 230 چل رہا ہے۔ 4 بجے کی ان کی فلائٹ بھی ہے تو لائسنس Renew کروانا مشکل لگ رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اپنا رینک بتائیں، تعارف کروائیں، ڈیوٹی پہ جانے کا بتائیں (جو کہ سچ تھا) او ر اندر جائیں آرام سے۔ تو جواب میں میاں جی کہتے ہیں کہ یہاں جتنے لوگ بیٹھے ہیں، سب ہی کو کوئی نا کوئی جلدی ہے۔ لنچ ٹائم تک کام ہوا تو ٹھیک ورنہ واپس آ جاؤں گا اور میرے ہونٹوں پہ ایک پرسکون سی مسکراہٹ پھیل گئی، بادلوں سے کہیں روشنی کی کرن جھانک رہی تھی، اور میں نے تسلی سے فون بند کر دیا۔

نورین نجم

Comments - User is solely responsible for his/her words