سراج الحق 2: افغانستان، ڈیورنڈ لائن، کشمیری جہاد، حقوق نسواں، اقلیتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وصی بابا : آپ کی باتوں سے معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی اب زیادہ لوکل ہو رہی ہے۔ آپ نے کہا کہ شام شامیوں کا ہے، ایران ایرانیوں کا ہے، ترکی ترکوں کا ہے اور پاکستان ایک مختلف ملک ہے۔ ہم دیکھتے آئے ہیں کہ جماعت اسلامی جب رابطہ مہم شروع کرتی تھی تو انٹرنیشنل افیئرز پر کافی ٹائم لگاتی تھی۔ تو کیا یہ سوچی سمجھی پالیسی ہے کہ اب آپ مقامی معاملات کی باتیں کریں گے؟

سراج الحق صاحب: میرا اپنا خیال ہے کہ اگر ہم عالمی سطح پر بھی کوئی انقلاب چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کو ایک ماڈل اور نمونہ بنانا ہو گا۔ ہم اس کو اگر ایک ویلفیئر اسلامی ریاست بنائیں گے تو تقریروں کی بجائے لوگ ہمیں عملی دنیا میں دیکھیں گے۔

وصی بابا : یہ بتائیں کہ 80 ء کی دہائی میں اور 90 ء میں بھی جماعت اسلامی کا ایک کردار رہا ہے جس طرح ہماری ریاست کا تھا، جماعت کا بھی تھا، افغان جہاد میں آپ لوگوں نے حصہ بھی لیا اور اس کو سپورٹ بھی کیا۔ کیا آ پ لوگوں نے اپنی پرانی پالیسی کا جائزہ لیا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی لائے ہیں؟ آپ ذاتی طور پر خود بھی افغانستان جاتے رہے ہیں، کشمیر کا ہمیں پتہ نہیں ہے کہ گئے ہیں یا نہیں۔ اس کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں؟

سراج الحق صاحب: 80 ء میں ریڈ آرمی کی لاکھوں کی نفری ٹینکوں پر بیٹھ کر افغانستان میں داخل ہو گئی اور طورخم تک پہنچ گئی اور نعرے یہی لگتے تھے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ خود پاکستان کے کئی لیڈر کابل میں تھے اور یہی کہتے تھے کہ جو ان ٹینکوں کے سامنے آئے گا کچلا جائے گا۔ سوویت یونین کی شکست کے ساتھ وہ سب کچھ کافور ہو گیا۔ روس شکست سے دوچار ہو کر تقسیم در تقسیم ہو گیا۔ اس کے بعد نیٹو نے قسمت آزمائی کی، اب اس کو بھی شکست کا سامنا ہے افغانستان میں۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ایک پرامن افغانستان پاکستان کی ضرورت ہے۔ ایک خوشحال افغانستان، ہمارے پڑوسی ہونے کے ناتے ہمیں درکار ہے۔ میں نے پاکستان کی حکومت کو بارہا مشورہ دیا ہے کہ ہمیں افغانستان کے اندر کسی ایک پارٹی کی بجائے افغان عوام کے ساتھ دوستی کرنی چاہیے اور کابل کی حکومت کی وجہ سے افغان افیئر کو نہیں دیکھنا چاہیے۔ افغان قوم پاکستان کے ساتھ محبت رکھتی ہے لیکن اگر وہا ں ایک کمزور حکومت ہے جو ایک مخصوص دائرے یا مخصوص علاقے تک محدود ہے تو ان کے رویے سے ہم پورے افغانستان کے ساتھ وہ سلوک نہ کریں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ افغانستان کے عوام کے ساتھ ہمارے تعلیمی، کھیلوں، خواتین، نوجوانوں، تجارت اور صحافیوں کی سطح پر روابط ہوں۔ اس لیے کہ ہم وہاں جتنی سپیس چھوڑیں گے وہاں انڈین ’جن‘ آئے گا۔

وصی بابا : آپ نے افغانستان کے لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطہ رکھنے کی بات کی۔ آپ پختون بھی ہیں، دیر سے بھی آپ کا تعلق ہے، آپ کا جو اپنا ضلع ہے یہ افغانستان کے ساتھ بھی لگتا ہے۔ ڈیورنڈ لائن افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک مستقل باعث تنازع ہے۔ اس کے بارے میں جماعت کی کیا پالیسی ہے۔ اس کا حل آ پ کیا دیکھتے ہیں۔

سراج الحق صاحب : ڈیورنڈ لائن دیکھئے اگر کاغذوں میں جو بھی ہے لیکن ذہنوں نے تسلیم کیا ہے کہ اب یہ ایک مستقل سرحد ہے۔ جہاں افغانستان ہے وہاں افغانستان ہے اور جہاں پاکستان ہے وہاں پاکستان ہے۔ اب ممکن ہے کسی وقت انڈیا یا جو پاکستان اور افغانستان کو لڑانے والی لابی ہے وہ اس مسئلے کو اٹھائیں۔ وہاں کے خاص کر جو نیشنلسٹ ہیں جو سو کال اپنے آپ کو کہتے ہیں جو اس وقت یورپ میں ہیں لیکن ظاہر جب بھی مغرب کو ضرورت ہوتی ہے تو وہاں سے اٹھا کر ادھر لاتے ہیں۔ وہ اس مسئلے کو اٹھائیں گے لیکن عام افغانی اور عام پاکستانی نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ اب حقائق کو جھٹلانا، اب بین الاقوامی سرحدوں کو تبدیل کرنا خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔

وصی بابا : آپ نے بین الاقوامی سرحد کی بات کی تو اس میں دنیا میں سرحدوں کے دو تنازعات باقی ہیں ایک فلسطین اور اسرائیل کا اور دوسرا پاکستان اور بھارت کا کشمیر پر، پہلے آپ مسلح جہادی تنظیموں کی کشمیر میں حمایت کر تے رہے ہیں۔ کیا جہادی تنظیموں کی حمایت کا ہمیں فائدہ ہوا یا نقصان ہوا ہے۔ آپ لوگوں نے اس کا جماعتی سطح پر کوئی جائزہ لیا ہے۔ آپ کی اب کیا پالیسی ہے۔ وہاں پہ آپ کی حمایت یافتہ تنظیمیں بھی تھیں۔

سراج الحق صاحب : یہ ایل او سی ہے۔ یہ بارڈر نہیں ہے۔ یہ تو بھارت چاہتا ہے اس کو مستقل سرحد قرار دیا جائے ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے اورہم سے آگے بڑھ کر کشمیری اس کو نہیں مانتے۔ یہ جو ساری جدوجہد ہے اس کو تو کشمیریوں نے اپنے خون اور قربانیوں سے زندہ رکھا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جماعت اسلامی اور پوری قوم کشمیریوں کی پشت پہ ہیں۔ یہ اس جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ گلگت کے لوگوں نے گلگت سے بھارتی فوج کو بھگا کر چھتیس ہزار مربع کلومیٹر شامل کیا ہے ورنہ اب انڈیا کا بارڈر بشام میں ہوتا۔ میں عرض کروں کہ وہاں ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں، وہ جلسہ کرتے ہیں ہم ساتھ ہیں، وہ لڑتے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں، وہ ڈنڈے کے ساتھ ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں، وہ بندوق کے ساتھ ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں، اس لیے کہ وہ مرتے وقت جب تک یہ نعرے لگاتے ہیں کہ ہم کشمیری ہیں اور پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ یہ تو ہمارا خیال تھا کہ علی گیلانی اور پرانی نسل اس لائن پہ ہیں لیکن اب تو سارے ایک ساتھ ہیں وہاں چھیاسی سال کا بوڑھا بھی اور چھ سال کا بچہ بھی ایک ہی نعرے پر ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔ کشمیر پاکستان کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے، کشمیر کے الحاق کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ اس لیے آپ نے کشمیر کی جدوجہد چھوڑ ی تو آپ کا یہ ملک بنجر بن جائے گا۔ آپ کا پانی بند ہو جائے گا۔ آپ کو دوبارہ پنجاب میں ایک اور ہجرت کرنی پڑے گی۔ یہ ان کا ایجنڈا نہیں بلکہ علی الاعلان وہ کہتے ہیں کہ ان کا پانی بند کیا جائے۔ پنجاب کو صحرا بنایا جائے۔ اب یہ پانی رواں دواں ہے تو یہ بین الاقوامی وجہ سے نہیں ہے یہ وہاں کے لوگوں کا پریشر ہے۔ ہمیشہ انہوں نے اس اینٹ کو اٹھا کر پھینکا ہے جو ہمارے پانی کو بند کرنے کے لیے ڈیموں کی صورت میں وہ رکھنا چاہتے ہیں۔

وصی بابا : اس مسئلے کے حل کے لیے آپ راستہ کون سا دیکھتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ مسلح تحریک کی جب ہم نے حمایت کی تو میجر مست گل جیسے ہیرو ہمیں ملے جو آج کدھر ہیں وہ آپ کو بھی معلوم ہے۔ کیا آپ نے اس کا جائزہ لیا ہے کہ کیا ہمیں مسلح تحریک کی حمایت کا فائدہ ہوا ہے یا نقصان ہوا ہے۔

سراج الحق صاحب : دیکھئے یہ مسلح تنظیمیں یہاں کی تو نہیں ہیں یہ وہاں کے اپنے لوگوں کی ہیں۔ باہر سے اگر اپنی مرضی سے کوئی آدمی گیا بھی ہے تو یہ ان لوگوں کی اپنی مرضی ہے۔ بھارت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ساری جدوجہد پاکستان کی طرف سے ہے لیکن بطور پاکستانی ہمارا مؤقف تو یہی ہے کہ یہ کشمیر کے چپے چپے میں ہے اور ان کی اپنی جدوجہد ہے۔ اس لیے وہاں عوامی جدوجہد بھی ہے اور وہاں مسلح کارروائیاں بھی ہیں ان دونوں نے مل کر بھارت کو ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ ان کی اپنی انٹیلی جنس بھی اس چیز کا اعتراف کر رہے ہیں کہ یہ ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

وصی بابا : اب پاکستان کی طرف آتے ہیں اور یہاں پہ جاری انتہا پسندی اور شدت پسندی کی بات کرتے ہیں۔ جب بھارت میں بابری مسجد گرائی گئی تو پاکستان میں لوگوں نے غصے میں مندر گرائے۔ جب پشاور میں بھانہ ماڑی کا مندر گرانے کو لوگ تیار ہوئے تو قاضی صاحب کو خبر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی اسے گرانے جائے گا تو میں اسے روکنے جاؤں گا اور یوں قاضی صاحب نے جنون کی ایک لہر کو روک لیا۔ ہم نے مشال خان کا واقعہ دیکھا لیکن آپ لوگوں کو آگے ہو کر کوئی پالیسی بیان یا حل دیتے نہیں دیکھا۔ آپ کہاں کھڑے ہیں؟

سراج الحق صاحب : غیر مسلموں کے حوالے سے میرا یہ مؤقف ہے اور یہ میں نے اسمبلی فلور پر تجویز دی ہے کہ ان کو اقلیت کہنے کی بجائے غیر مسلم پاکستانی کہا جائے۔ پاکستان میں ایک مسلمان برادری ہے ایک پاکستانی برادری ہے۔ جب آپ اس کو اقلیتی برادری کہتے ہیں تو اس سے ایک احساس کمتری اور ایک احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مندروں اور گرجوں کو جلانا یہ خود اسلام کے خلاف ہے۔ اگر آپ کسی مندر کو جلاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی دوسرے ملک میں مسجد کو جلانے کا پیغام دیتے ہیں۔ میں نے ایک تقریر میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا خون جتنا مقدس ہے اتنا ہی اس ملک میں کسی غیر مسلم کا خون بھی مقدس ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ جو پاکستان میں خاص کر خیبرپختونخوا میں آثار قدیمہ ہیں، کھنڈرات ہیں تخت بائی کے، سوات میں، چارسدہ میں، آپ کو یاد ہو گا کہ جب ایم ایم اے کی حکومت تھی تو صوبے بھر میں ہم نے مراکز بنائے تاکہ یہ قدیم چیزیں محفوظ رہیں۔ اس میں ہر مذہب اور ہر مسلک کی چیزیں ہیں۔ قصور میں مسیحی جلایا گیا میں ان کے گھر گیا اور میں نے اعلان کیا کہ یہ اسلام جلایا گیا۔ یہ پاکستان جلایا گیا۔ کہیں امام بارگاہ پر حملہ ہوا ہو وہاں بھی ہم حاضر ہیں یا کہیں مسجد میں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم تمام معاملات کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ اگر یہاں پاکستان میں لوگ کوئی ایکشن کرتے ہیں تو اس کا ری ایکشن ہندوستان میں کیا ہو گا۔ اگر ہم بابری مسجد کا تحفظ چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ادھر بھی ان کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں۔ اب یہ شرم کی بات ہے کہ سندھ سے کئی کئی خاندان بھارت کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ اور یہ شرم کی بات ہے کہ وہاں ان کی جائیدادوں پہ قبضے ہو رہے ہیں۔ ہم اس چیز کے خلاف ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ سندھ کے ہندوؤ ں کو آپ خوش رکھیں وہ بھارت جا کر آپ کے بہترین سفیر بن سکتے ہیں۔

عدنان کاکڑ :ایم ایم کی حکومت جب آئی تھی گزشتہ اس وقت ہم نے دیکھا تھا کہ بل بورڈز پر سیاہی وغیرہ پھیری گئی تھی، سینماؤں سے تصویریں اتاری گئی تھیں، ابھی آپ نے جو آثار قدیمہ وغیرہ کے تحفظ کی بات کی ہے، یہ بھی تو وہی چیز ہے۔ یہ بھی تو مجسمے ہیں۔

سراج الحق صاحب : وہ بل بورڈ کسی نے توڑے تھے وہ نہ تو پارٹی کا فیصلہ تھا نہ کسی تنظیم کا فیصلہ تھا وہ۔ یہ کچھ نوجوانوں نے کیا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ بورڈز پر ہماری ماؤں اور بیٹیوں کی ایسی تصویریں نہ ہو ں جوکہ ہمار ے کلچر کے خلاف ہیں۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ بل بورڈ توڑنے پہ ورلڈ بینک نے ہمارے پیسے بند کر دیے تھے۔ پانچ بلین کا ایک قسط ہمیں چھ سات مہینے نہیں ملا تھا۔ ان کے کنٹری ڈائریکٹر سے بات ہوئی تو اس نے بل بورڈ توڑنے اور بازاروں میں ملبوسات بیچنے کے لئے لڑکیوں کے مومی مجسمے نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ اس نے کہا کہ اگر آپ نے قرض لینا ہے اور پیسے لینے ہیں تو یہ اصول بھی ہمارا ہی چلے گا۔ اس سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ ہمارے نظام میں ورلڈ بینک کی کتنی اہمیت ہے کہ ایک بورڈ کے بارے میں بھی آپ خود فیصلہ نہیں کر سکتے۔ بہرحال میں پھر کہوں گا کہ وہ پارٹی کا فیصلہ نہیں تھا۔ اگر کسی آدمی نے یہ کام کیا تو وہ نہ ہماری حکومت کی پالیسی تھی نہ پارٹی کی پالیسی تھی۔

عدنان کاکڑ: افغان مہاجرین پہ کیا پالیسی ہے۔ پرویز خٹک صاحب ان کو نکالنا چاہتے ہیں جبکہ آپ نے ابھی افغان مسئلے پہ بات کی ہے کہ آپ ان کے ساتھ اچھا بھائی چارہ چاہتے ہیں۔

سراج الحق صاحب : ہماری جو افغان پالیسی ہے اس کو ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دور گزر گیا، تیس سال ہو گئے۔ اب نئے ماحول میں ہمیں نئے انداز سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک اچھا اور پرامن افغانستان چاہتے ہیں جہاں مہاجرین عزت کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ یہاں جو افغان مہاجرین رہتے ہیں ان کی ڈاکومینٹیشن ہونی چاہیے۔ وہ اگر کاروبار کرتے ہیں تو ان کو کسی ٹیکس نیٹ ورک میں لانا چاہیے۔ ان کا پاسپورٹ ہو، ان کی رجسٹریشن ہو، ان کا ویزا ہو اور پھر ان کی عزت ہو اور ان کی سکیورٹی اور حفاظت ہو۔ ہمارے ملک میں نہ صرف افغان مہاجرین بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک کے باشندے گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور پتہ نہیں ہے کہ ان کا ویزا ہے یا نہیں ہے، ان کا پاسپورٹ ہے یا نہیں ہے۔ جس طرح امریکن یہاں خالہ جی کا گھر سمجھ کر آتے ہیں اور واپس جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک قانونی ریاست ہونی چاہیے جس میں قانون کی حکومت ہو۔

عدنان کاکڑ: یعنی پاکستان کی سرحدوں کا تحفظ مقدم ہے ان کی حرمت سب پر مقدم ہے۔ اس کے بعد افغان پالیسی اور دیگر چیزیں ہیں۔

سراج الحق صاحب : جس طرح آپ کے گھر کی چار دیواری ہے اسی طرح ملک کی سرحدیں ہیں۔

عدنان کاکڑ: خواتین کے مسئلے پہ جماعت کی پالیسی کیا ہے۔ کیونکہ جماعت کے ابتدائی لٹریچر میں ہمیں ملتا ہے کہ خواتین کا پارلیمنٹ میں آنا یا سیاست کے معاملات میں ملوث ہونا قرآنی احکامات یا رسولؐ پاک کی حدیث مبارکہ کے خلاف ہے۔

سراج الحق صاحب : پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا خاتون جو ہے وہ حکومت میں رائے دے سکتی ہے حکومت سازی میں۔ ہم جب اپنی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو نبی کریم ﷺنے بہت سارے مواقع پر خواتین سے رائے لی ہے اور قبول بھی کی ہے۔ اب ان کے وصال کے بعد بھی، پہلے ایک چیف الیکشن کمشنر تھے عبدالرحمانؓ بن عوف اور وہ مدینہ میں گھوم پھر لوگوں سے رائے لیتے تھے۔ اس میں صرف مردوں سے ہی نہیں خواتین سے بھی رائے لی گئی تھی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خواتین کو حکومت سازی میں ساتھ ملانا چاہیے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کا بھی اسی طرح اس ملک پہ حق ہے جس طرح ایک مرد کا ہے۔ تعلیم میں اس کا حصہ ہو۔ دو دن قبل الیکشن ریفارمز پر میری آصف علی زرداری سے ملاقات ہوئی تو میں نے دعوت دی کہ آپ تسلیم کریں کہ آئندہ الیکشن میں اس امیدوار کا انتخاب کیا جائے جو اپنی بہن یا بیوی سے سرٹیفکیٹ لے کر الیکشن کمیشن کو دے کہ ہاں میرے بھائی نے جائیداد میں مجھے حق دیا ہے تاکہ بڑی بڑی جاگیریں تقسیم در تقسیم ہو جائیں۔ اگر خاتون جنت میں پہلے انسان کے ساتھ آئی تھی تو جنت سے پھر مل کر ہی اس دنیا میں آئے تھے۔ اگر خاتون ابراہیم ؑ کے ساتھ ہجرت میں شریک تھی، اگر خاتون نبی پاک ﷺ کے ساتھ پوری تحریک میں شریک تھیں تو آج بھی خواتین کا رول وہی ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کو اعتماد دیا جائے۔ خواتین کو تعلیم دی جائے۔ خواتین کو میراث میں حق دیا جائے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ بارہ ہزار احادیث ایسی ہیں جو حضرت عائشہ ؓ سے منسوب ہیں۔ اگر آپ ان کو ایک طرف رکھ لیں تو آپ کا سارا فقہ ادھورا رہ جائے گا۔ یہ کنٹری بیوشن ہے خواتین کا علمی دنیا میں، معاشی دنیا میں۔ اب آپ دیکھیں کہ ہمارے نبی ﷺ کو سب سے پہلے فائنانس کیا تھا حضرت خدیجہ ؓ نے۔ ان کے ساتھ مل کر نبی پاک ﷺ نے تجارت شروع کی بلکہ ان کا مال لے کر وہ تجارت پر گئے تھے۔ یہ تمام چیزیں کہانیاں نہیں ہیں نہ افسانے ہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے اور اس کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

وصی بابا: خواتین کی تعداد پاکستان میں پچاس فیصد کے لگ بھگ ہے۔ جب ان کے جائیداد کے حق کی حمایت کرتے ہیں تو یہ آپ کی ناکامی نہیں ہے کہ اتنے اہم ایشوز پر ان کی حمایت کرتے ہوئے بھی آپ ان سے ووٹ نہیں لے سکے۔

سراج الحق : سب سے بڑی ترمیم خواتین کے حق میں جماعت اسلامی نے کی ہے۔ ستر ہزار سے زیادہ خواتین ابھی مینار پاکستان پر جمع ہوئی تھیں۔ یہ کوئی اور جماعت نہیں کر سکتی۔ سب سے زیادہ فعال تنظیم ہماری خواتین کی تنظیم ہے جو ہزار ہا یتیموں کو پالنے والی، سکول چلانے والی، ویلفیئر کے کام کرنے والی اور انتہائی فعال ہیں۔ اور پہلی بار جماعت اسلامی نے مرکزی شوریٰ میں ان کو نمائندگی دی۔ ووٹ کا حق دیا، رائے دینے کا حق دیا۔ جس طرح ہمارے مرد ارکان کی ایک رائے ہے اسی طرح ان کی بھی ہے۔ پہلے جب خاتون جماعت اسلامی کی رکن بنتی تھی تو امیر جماعت اسلامی اس کی منظوری دیتے تھے اب یہ اختیار بھی ہم نے انہی کو دیا کہ وہ جماعت اسلامی کا رکن وہ خود بنا لیں۔ ہماری خواتین کا ایک وفد اس وقت بھی ترکی میں ہے۔ اس سے پہلے ایک ہمارا ڈیلی گیشن سوڈان گیا تھا۔ ایک خواتین کا ڈیلی گیشن چائنہ گیا تھا۔ ہماری خواتین کی تنظیم بہت فعال ہے۔

اگلا حصہ: سراج الحق 3: بلاسفیمی، ہجوم کی لاقانونیت، سی پیک، پاناما، سیکولرازم


سراج الحق 1: سیاسی کارکردگی، جمعیت، سیکولرازم، امور خارجہ

سراج الحق 2: افغانستان، ڈیورنڈ لائن، کشمیری جہاد، حقوق نسواں، اقلیتیں

سراج الحق 3: بلاسفیمی، ہجوم کی لاقانونیت، سی پیک، پاناما، سیکولرازم  

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Comments are closed.