تیسری جنس۔ ایک تصویر اور کچھ رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری جنس سائمن دی بوژار کی معرکۃ الاآرا تصنیف ہے۔ کس طرح جنس تاریخی طور پر عورت کے انسان ہونے (یا نہ ہونے) کو طے کرتی ہے اس کتاب کا مرکزی سوال ہے؟ سائمن کے خیال میں عورت کی جنس اور جنس کے بارے میں مرد کا تاریخی رویہ عورت کی انسانیت کو طے کرتا ہے۔ مزید براں مرد اور مذہب نے عورت کو جنسی مفادات تک محدود رکھ کر اُسے مکمل انسان ہونے سے محروم رکھا۔ مگر میرا آج کا موضوع دوسری جنس نہیں تیسری جنس ہے جس طرح عورت کی حیثیت اُس کے مکمل انسان ہونے میں حائل ہے (یار ہی ہے) اسطرح عدم جنسیت خواجہ سراؤں کے مکمل انسان ہونے میں حائل ہے۔ خواجہ سرا ہمارے معاشرے میں یا توطوائف ہیں یا پھر بھانڈ، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ میر ا تعلق ایک دیہات سے ہے اورخواجہ سرا دیہاتی شادی کا ایک ضروری حصہ ہیں۔ کئی شادیوں میں، میں نے اُن کو ناچتے گاتے اور مردوں کو بہلاتے ہوئے دیکھا، مگرکبھی بھی میرے ذہن میں یہ سوال نہیں اُبھرا کہ خواجہ سرا ایسی زندگی کیوں گذارتے ہیں۔ میرے اندر بھی اُن کی عدم جنسیت کی بنا پر اُن کے لئے ایک معتسبانہ رویہ تھا، یکتر مسترد کرنے کا رویہ۔ لیکن فیس بک پر ایک تصویر دیکھی، ڈی پی او گجرات اور خواجہ سرا ایک تاریخی تصویر میں۔ پہلی مرتبہ میں نے خواجہ سراؤں کے اُٹھے ہوئے سردیکھے تو اپنے آپ پر تعجب ہوا۔ اس تصویر نے کتنے ہی سوالات کو جنم دیا۔

کچھ سوالات آپ کے گوش گذار کرتا ہوں۔ ( ایک امانت کے طور پر کہ ہم اجتماعی طور پر اپنا محاسبہ کریں، کہ ہم نے کس طرح انسانوں کو عدم جنسیت کی بنا ء پر کھیل و تفریح کا سامان بنا دیا ہے۔ )

الف۔ کیا عدم جنسیت ایک انسانی نقص ہے یا تخلیقی نقص؟
ب۔ اگریہ ایک تخلیقی نقص ہے تو کیا اس کی بناپر وہ انسان نہیں رہے؟
ج۔ کیا انسان کی کاملیت (معاشرتی و شخصی) کا دارومدار اُن کی جنس پر ہے؟
د۔ کیا جنسیت (عدم جنسیت ) کا تعلق شعور کے ہونے یا نہ ہونے سے ہے؟ یعنی مرد بنیادی طور پر اعلیٰ شعور رکھتا ہے اور عورت اور خواجہ سرا شعور نہیں رکھتے۔
ر۔ کیا مر وجہ رویوں کے ساتھ ہم عدم جنسیت سے متعلقہ معاشرتی حبس سے تہی حاصل کر سکتے ہیں؟
ژ۔ کیا ایک کامل معاشرہ میں انسانیت کا دارومدار جنسیت پر ہونا چاہیے یا انسانی خوشحالی اور انسانی امن میں کسی فرد کے کردار پر؟

مجھے اس تصویر نے ان تما م سوالات کے جوابات دے دیے ہیں آپ اپنے جوابات تلاش کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •