یہ شاید اسامہ شیرون کے لیے ہے یا پھر طاہر امین کے لیے، یا پھر ضیغم عباس، طارق بسرا، قمر قیصرانی، ظہور بھٹہ، ظہیر انور، ظہیر عباس، صفدر ورک اور ان جیسے ان گنت نگہبانوں کے نام ایک دعاؤں بھرا سلام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو المیے کے مرکز میں ایک ایسی جنگ میں نبرد آزما ہیں جس کا مال غنیمت غریبوں اور مظلوموں کی چند دعائیں ہیں، اور المیے کی دسترس ایسی کہ سانس لینا محال (اور یہ محاورتاً نہیں ) بلکہ حقیقت میں سانس لینا آج سے پہلے اتنا محال نہ تھا۔
اور اس دور میں جب گھروں میں ٹھہرنا ہی سب سے بڑی دانشمندی اور ایک سماجی فرض ٹھہرا۔ یہ لوگ دوسرے ہزار ہا نگہبانوں کی طرح روزانہ صبح اپنے گھروں سے نکلتے کہ ہزار ہا آنکھیں ان کی رہبری کی منتظر اور نفسا نفسی کے دور میں رہبری سے بڑھ کر بھلا اور کیا بھلائی ممکن ہے؟ تاریخ کا ستم یہ ہے کہ کسی جنگ کے آخر میں ہیرو پس ایک سپہ سالار ہی ہوتا ہے اور وہ سارے لوگ جو اپنی جان دے کر سپہ سالار کو سرخرو کرتے ہیں میدان جنگ کی دھول کے گہرے سایوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھی اس جنگ میں صف اول کے جانباز ہیں موت سے نبرد آزما ۔ یہ جاننا اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان جانبازوں اور ان کے کارناموں کو سلام کریں کیونکہ ان جیسے لوگ ناپید ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان جانبازوں کا کارنامہ کیا ہے؟
Read more