اساتذہ کے تربیتی اداروں کا اختتام  … ایک المیہ


 ٹیچرز ٹریننگ کالجز کے ساتھ منسلک مڈل سکولز کو ہائر سیکنڈری سکولز تک اپ گریڈ کر دیا گیا ہے ٹریننگ کالجز کے پرنسپل اور ماہرین تعلیم نویں سے بارہویں تک کے طلبا کو پڑھائیں گے ۔ اس مختصر حکمنامے کے ساتھ ہی صوبہ پنجاب میں پری سروس اساتذہ کی تربیت کے لئے قائم چھتیس (36) ٹیچرز ٹریننگ کالجز میں اساتذہ کی تربیت کا نظام ختم کر کے وہاں انٹر کلاسز شروع کر دی گئی ہیں ۔

 دنیا بھر میں صوبہ پنجاب شاید واحد ایسا صوبہ ہو گا جہاں اب سکولوں کے اساتذہ کہیں سے تدریس کی تربیت لئے بغیر طلباء و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے ۔ تربیت کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ آپ کہیں سے جدید ترین ریلوے انجن خرید کر لائیں اور ان کو چلانے کے لئے اخبار میں اشتہار دیں بھاری تنخواہ آفر کریں اور میرٹ پر سب سے اوپر آنے والے فزکس کے دو گولڈ میڈلسٹ انجن چلانے کے لئے بھرتی کر لیں ۔ ظاہر ہے کہ فزکس کے گولڈ میڈلسٹ ریلوے انجن نہیں چلا پائیں گے ۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ کچھ دن بعد وزیر ریلوے ایک پریس کانفرنس میں نہایت مایوسی کے عالم میں اعلان کریں گے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ نہیں ہے اور اتنی بڑی آبادی میں دو ڈرائیور نہیں مل سکتے ، اب یہ دوسری جماعت کا بچہ بھی سمجھتا ہے کہ ریلوے انجن کو چلانے کے لئے اعلیٰ ڈگری یافتہ گولڈ میڈلسٹ نہیں بلکہ میٹرک پاس ڈرائیور بھی کافی ہو سکتا ہے لیکن یہ بات نہیں سمجھ پائیں گے تو وہ لوگ نہیں سمجھ پائیں گے جنہوں نے ڈیوٹی کے لئے موزوں لوگوں کو تعینات کرنا ہے ۔یہ مہارت کا دور ہے ، ڈاکٹر ہوں یا انجینئر ، سبھی اپنے اپنے شعبے میں مہارت حاصل کرکے نئی سے نئی ایجادات کرنے میں مصروف ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی ان شعبوں میں ماہر بنانے میں مصروف ہیں ۔ لیکن پنجاب میں نوجوان اساتذہ پر تربیت کے دروازے بند کر دیئے گئے ۔

 آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ تربیتی ادارے کس لئے قائم کئے گئے اور یہ اساتذہ کی تربیت میں کیا کردار ادا کر رہے تھے ۔ ہندوستان کی فتح کے ساتھ ہی انگریزوں نے ہندوستان کے صدیوں سے قائم نظام تعلیم کو ختم کر کے ان کی جگہ برطانوی طرز پر سکول سسٹم شروع کیا ۔ اور اس کے ساتھ ہی اساتذہ کی تربیت کے لئے نارمل سکول قائم کئے جہاں سکول میں تدریس کے شوقین نوجوانوں کو درس و تدریس کے لئے مختلف کورسز کرائے جاتے تھے ۔ قیام پاکستان کے بعد نارمل سکول کا نام تبدیل کر کے ٹیچرز ٹریننگ کالج رکھ دیا گیا ۔ پنجاب کے طول و عرض میں 36ٹیچرز ٹریننگ کالج قائم کئے گئے ، کچھ کالجز کو بعد میں یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا درجہ دے دیا گیا جہاں ماہرین تعلیم نوجوان اساتذہ کو درس و تدریس کے بارے میں اسباق پڑھاتے۔ ابتدائی تعلیم کے تین درجے قائم کئے گئے پرائمری تعلیم جو پہلی جماعت سے پنجم جماعت تک ہے دوسرے درجے پر چھٹی سے آٹھویں جماعت تک مڈل اور پھر نویں دسویں کو ہائی حصہ کا نام دیا گیا ۔ تینوں حصوں کے لئے الگ الگ نصاب ترتیب دیئے گئے ۔

 اساتذہ کی تربیت کے لئے جو نصاب تیار کیا گیا اس کا جائزہ کافی دلچسپ ہے ۔ اس نصاب کا سب سے اہم حصہ بچوں کی نشوو نما، بچوں کی نفسیات اور بچوں میں نظم و ضبط کو فوکس کرتا تھا ۔ پرائمری حصہ میں نو عمر بچوں کو نشوو نما کے دوران درپیش مسائل اور ان کا حل ، ان کی نفسیات کو سمجھنا اور اس کے مطابق تدریس دینا ، یہ سب کچھ تربیتی نصاب کا ایک اہم حصہ تھے ۔ جبکہ مڈل حصہ میں گیارہ بارہ سال سے چودہ سال تک کے طلباء و طالبات کے مسائل کو فوکس کیا جاتا جس میں طلباء و طالبات بالغ ہو رہے ہوتے ہیں ان میں کئی قسم کی جسمانی و ذہنی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوتی ہیں وہ اپنی زندگی کے ایک اہم دور سے گذر رہے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ایسا نصاب تیار کیا گیا جو اساتذہ کو تیار کرتا تھا کہ اس عمر کے بچوں میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہوتی ہیں ان کے مطابق تدریس کا عمل کیسے جاری رکھا جا سکتا ہے طلباء و طالبات کو نفسیاتی طور پر کیسے ان تبدیلیوں کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے ۔ جبکہ نویں دسویں جماعت کے بچوں کو ان کی عمر کے لحاظ سے نشوونما اور نفسیات و نظم و ضبط کے مسائل کے بارے میں اساتذہ کو تربیت دی جاتی تھی۔

 دوران تربیت ایک اہم بات جو زیر تربیت اساتذہ کو بتائی جاتی وہ یہ کہ ہر بچہ ایک الگ ذہانت یعنی آئی کیو کا مالک ہوتا ہے ضروری نہیں کہ جماعت کے تمام بچے ایک جیسی ذہانت کے مالک ہوں نہ ہی یہ لازمی ہے کہ ایک ہی گھر کے تین یا چار بہن بھائی ایک جیسا آئی کیو رکھتے ہوں ۔ ایک ہی کلاس میں کچھ بچے ذہین ہوتے ہیں تو کچھ بچے درمیانے درجے کی ذہانت رکھتے ہیں اور کچھ کند ذہن بھی ہوتے ہیں اساتذہ کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ درمیانے درجے کے بچوں کے آئی کیو کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیم دیں ۔استاد کو یہ آزادی بھی دی گئی کہ اگر کوئی بچہ ابتدائی کلاس میں ایک سال پڑھنے کے باوجود اگلی کلاس میں پڑھنے کے قابل نہ ہو تو اسے بلاتکلف وہی کلاس دہرانے کا کہا جائے ۔ دو سال تک ایک ہی نصاب پڑھنے کے باعث طالبعلم نصاب کو سمجھنے کے قابل ہو جاتا اور اگلی جماعتوں میں بہتر کارکردگی دکھاتا ۔

 پرائمری جماعت کے بچوں کے تربیتی کورس کا نام پی ٹی سی یعنی پرائمری ٹیچنگ سرٹیفکیٹ کہا جاتا تھا جبکہ مڈل کلاسز کے لئے کورس کا نام سی ٹی یعنی سرٹیفکیٹ ان ٹیچنگ جبکہ ہائی کلاسز کے کورس کا نام بی ایڈ یعنی بیچلر ان ٹیچنگ تھا ۔ ان تمام کورسز کی مدت تکمیل ایک سال تھی ۔ پی ٹی سی کے لئے اہلیت میٹرک رکھی گئی ، سی ٹی کے لئے اہلیت انٹر میڈیٹ ، جبکہ بی ایڈ کے لئے بی اے ہونا شرط تھی ۔

 چنانچہ یہ کورسز پڑھنے کے بعد ایک عام آدمی بھی ماہر نفسیات و ماہر استاد بن جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے بیس تیس سال پہلے تک اساتذہ کی بے پناہ عزت کی جاتی یہ اساتذہ محض استاد ہی نہ ہوتے اپنے شاگردوں کے لئے ایک مینارہ نور کی مانند ہوتے شاگرد جو بات اپنے والدین سے نہ کر پاتے اپنے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرتے اور اساتذہ بھی انہیں بہترین مشورہ دیتے ۔ میٹرک پاس پی ٹی سی ٹیچر پرائمری سکول میں بچوں کو تعلیم دیتا اور ساتھ میں اپنی تعلیم بھی جاری رکھتا ۔ کچھ عرصے بعد ہی ترقی کر کے مڈل سکول میں ٹیچر بن جاتا ۔ اور ہائی سکول میں سبجیکٹ سپیشلسٹ ٹیچر کے عہدے سے ریٹا ئر ہوجاتا لیکن وہ تدریس سے وابستہ رہتا

 لیکن جیسا کہ پاکستان کے زیادہ تر شعبوں میں ہوا ۔ شعبہ تعلیم بھی زوال پذیر ہونے لگا ۔ اس کی وجوہات بے شمار ہو سکتی ہیں لیکن حکومت وقت کے خیال میں اس زوال کی بنیادی وجہ استاد کا تدریس پر توجہ نہ دینا ہے ۔ چنانچہ استاد زیر عتاب آیا ۔ اس پر طرح طرح کی پابندیاں لگانا شروع کر دی گئیں ۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ یہ فیصلہ کرنے والے خود ماہرین تعلیم نہ تھے ۔ کوئی ڈاکٹر تھا تو کوئی سی ایس ایس کر کے سیکرٹری ایجوکیشن کے عہدے تک پہنچ گیا ۔ بادشاہوں کی من مرضی ہوئی تو ریٹائر فوجی افسران کو بھی سیکرٹری ایجوکیشن لگا دیا گیا ایک موصوف نے تو بہاولپور میں اساتذہ کے جلوس کے اوپر سے گاڑی گزارنے کی کوشش بھی کی جس میں کئی استاد زخمی بھی ہوئے۔ حکومت نے اساتذہ کو جو کام سونپ رکھے ہیں ان میں پولیو کے قطرے پلانا (اب کچھ سال سے محکمہ صحت خود یہ کام کرنے لگا ہے لیکن بارہ چودہ سال تک استاد ہی یہ فرض نبھاتا رہا ) سیلاب زدگان کی فہرستیں تیار کرنا ، مردم شماری کرنا ، ووٹر لسٹیں تیار کرنا ، گھر گھر جا کرمستحقین زکوٰۃ کی فہرستیں بنانا، کئی بار پہلے بھیجے ہوئے سکول کے اعداد و شمار کو ایک بار پھر سے دفتر تک پہنچانا ، الیکشن ڈیوٹیاں دینا ، امتحانی ڈیوٹیاں دینا ، تحصیل اور ضلع کی سطح پر میٹنگ میں جانا وغیرہ وغیرہ ،

 یہاں تک تو انتظام کچھ نہ کچھ بہتر چل ہی رہا تھا پھر یوں ہوا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بین الفاصلاتی نظام کے تحت گھر بیٹھے طلباء کو کسی قسم کی تربیت کے بغیر ہی پی ٹی سی ، سی ٹی اور بی ایڈ کی اسناد جاری کرنا شروع کر دیں ۔ تربیتی نظام سے کورے یہ اساتذہ جب محکمہ تعلیم کا حصہ بنے تو پہلے سے ڈانواں ڈول نظام بالکل ہی ڈول گیا ۔ اوپر سے حکومت نے فیصلہ کیا کہ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے سائنس کے مضامین میں ماسٹرز اور ایم فل کرنے والوں کو بھرتی کیا جائے ۔ حالانکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی ۔ ابتدائی جماعتوں میں بچے محض الفاظ کی پہچان کرنا اور مضامین کے ابتدائی اسباق ہی سیکھتے ہیں اس کام کے لئے جس صبروتحمل اور جس مہارت کی ضرورت تھی وہ ان نئے بھرتی شدہ اساتذہ میں بالکل بھی نہیں تھی ۔ چنانچہ پچھلے سات سالوں کے دوران تقریباً تین لاکھ سائنس گریجویٹ بھرتی کئے گئے جن کی ایک بڑی تعداد کسی اور شعبے کی طرف چلی گئی

 وقت کے ساتھ ساتھ ٹیچرز ٹریننگ کالجز کی اہمیت کم ہوتی گئی ۔ پنجاب کے ہر بڑے شہر میں ایک ٹیچرز ٹریننگ کالج موجود ہے جو پری سروس کے ساتھ ساتھ اِن سروس اساتذہ کو بھی ریفریشر کورسز کرانے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے لیکن محکمہ تعلیم نے اِن سروس اساتذہ کی تربیت و کورسز کے لئے ٹیچرز ٹریننگ کالجز کو بالکل نظر انداز کر دیا ۔ ماہرین تعلیم میسر ہونے کے باوجود محکمہ تعلیم نے کورسز کرانے کے لئے اساتذہ میں سے ہی کچھ اساتذہ کو یہ کورسز کرانے کے لئے منتخب کیا اور ان تربیتی کورسز کا اہتمام ٹیچرز ٹریننگ کالجز کی بجائے ہائی سکولوں میں کیا گیا ۔ یہ بھی ایک المیہ ہی تھا کہ آپ کے پاس اعلیٰ درجے کے ماہرین مضمون موجود ہوں لیکن آپ ان کی بجائے ان سے کہیں کم درجے کے لوگوں کو تربیتی کورسز کرانے کی دعوت دیں

 اساتذہ کی تربیت کے ذمہ دار ان اداروں نے جو آخری کورس کرایا وہ تھا ایسوسی ایٹ ڈگری ان ایجوکیشن ۔ایف اے ، ایف ایس سی پاس طلباو طالبات یہ تین سالہ کورس کرتے اس کے بعد ان کو ایسوسی ایٹ ڈگری ان ایجوکیشن دی جاتی جو بی اے بی ایڈ کے برابر ہوتی ۔ یہ طلبا و طالبات تین سال تک ٹیچرز ٹریننگ کالجز میں تعلیم حاصل کرتے رہے اس دوران ان کا فوکس پرائمری اور ایلیمنٹری سطح تک تعلیم کے مختلف طریقہ ہائے تدریس تھے ، ٹیچرز ٹریننگ کالج سے ملحقہ ماڈل سکولز میں یہ طلبا و طالبات ہر ماہ ایک دو ہفتے کے لئے وزٹ کرتے جہاں یہ اساتذہ کو بچوں کو پڑھاتے دیکھتے ، اور خود بھی تدریسی فرائض سرانجام دیتے ۔ تین سال مکمل ہونے پر پہلے بیج کو ڈگری دے دی گئی لیکن المیہ یہ ہوا کہ جب حکومت پنجاب نے نئے اساتذہ کو بھرتی کرنا چاہا تو ان تربیت یافتہ امیدواروں کو بالکل نظر انداز کر دیا اور ان کی بجائے سائنس گریجویٹ کو بھرتی کر لیا ۔ جس سے ان تربیت یافتہ اساتذہ میں مایوسی پھیل گئی اور اس کلاس میں داخلہ کی شرح میں نمایاں کمی ہو گئی جس کے باعث محکمہ تعلیم نے یہ کورس ختم کر دیا ۔

 اگر حکومت معیار تعلیم کی بہتری میں کچھ مخلص ہوتی تو تین سال تک تربیت حاصل کرنے والے ان اساتذہ کی خدمات کو ضرور حاصل کرتی لیکن جب ترجیحات کچھ اور ہوں تو پھر اہل کی جگہ نااہلوں کو آگے لایا جاتا ہے ۔ پرائمری سطح پر نصاب اتنا پیچیدہ ہر گز نہیں ہوتا کہ اس کو پڑھانے کے لئے فزکس ، باٹنی ، کیمسٹری یا کمپیوٹر ماسٹرز کی ضرورت ہو اس مرحلے پر تو تربیت یافتہ اساتذہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بچوں کی نفسیات ، ان کی نشو ونما کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہوئے ان کو تعلیم دیں ۔ لیکن فی الحال تو محکمہ تعلیم اساتذہ کی تربیت کی ضرورت اور اس کی اہمیت سے بالکل بے نیاز دکھائی دیتی ہے ، کہا یہ جا رہا ہے کہ اساتذہ کو دوران تعطیلات کورسز کرائے جائیں گے لیکن کہاں وہ ایک سالہ تربیتی کورس اور کہاں یہ ہفتے دو ہفتے پرمبنی کورس ۔ ان کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔

 ٹیچرز ٹریننگ کالجز کو ہائر سیکنڈری سکولز کا درجہ دینے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کالجز کے ان اساتذہ کو کسی نہ کسی کام پر لگایا جائے ۔ لیکن یہ امر بھی کافی دلچسپ ہے کہ پنجاب میں ہائر سیکنڈری سکولز کا تجربہ بھی ناکام ہو چکا ہے جتنے بھی ہائی سکولوں کو ہائر سیکنڈری سکول کا درجہ دیا گیا تھا ان میں سے بیشتر ہائر سیکنڈری سکول بند کئے جا چکے ہیں ۔

 محکمہ تعلیم کے لئے سب سے بہتر اقدام یہ ہو سکتا تھا کہ ایسوسی ایٹ ڈگری آف ایجوکیشن کی کلاسز دوبارہ سے شروع کر دی جائیں اور محکمہ تعلیم صرف اسی ڈگری کے حامل اساتذہ کو سکولوں میں جاب دے ۔ اس طریقے سے سکولوں میں طلباء کی تدریس کے لئے بہتر طور پر تربیت یافتہ اساتذہ میسر آ سکتے ہیں جس سے تعلیم کے معیار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکتا ہے ۔

Facebook Comments HS