یا اخی، پاکستان ایک عظیم ملک ہے

یا اخی، ہمارے دیس میں سو برس پہلے محمد علی جناح نام کا ایک شخص گزرا ہے۔ علم میں کامل، فراست میں چوکس، کردار میں کھرا اور اصول پسند ایسا کہ دوست دشمن اس کا نام عزت سے لیتے ہیں۔ قدیم سے آشنا تھا، جدید کا شناور تھا۔ تہذیب کا پتلا تھا۔ تقریر کا بادشاہ تھا۔ دلیل ایسی آبدار کہ حریف پر بجلی گرا دے۔ ایسا کوئی سیاسی لیڈر تمہارے دیس میں ایک صدی چھوڑ، پچھلے تین سو برس میں ایک آیا ہو تو نام بتاو ¿۔ خیال رکھنا ہم لوگ بہت جانتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ 17 فروری 1945ءکو مصر کی جھیل فیوم کے شکارے میں کیا ہوا تھا۔ اور یہ بھی سمجھ لو کہ ایک جناح ہی نہیں، ہمارے دیس میں ایسے جوہر دماغوں کی روایت ایک سمرن مالا ہے۔ درجنوں سیاسی جماعتیں ہیں، رنگ رنگ کے افکار ہیں۔ باشعور اور اپنی سوچ کے دھنی سیاسی کارکن ہوتے ہیں، ہر وقت لیڈر پر آنکھ رکھتے ہیں۔ کوئی کیسا ہی تقدیس کا مجسمہ ہو، ذرا سی غلطی پر رد کر دیتے ہیں۔ ایک بات دلچسپ سنو، جلسے اجلاس میں بات کرتے سنو تو گویا قبائلی دشمنی ہے۔ مکالمہ ختم ہوا اور یہ ایک میز پر آن بیٹھے، معلوم ہوا کہ کوئی ذاتی غبار نہیں، محض اپنی روشنی میں دل کی بات کہتے تھے۔ تمہارے دیس میں ایسا ہوتا ہے کیا یا اخی؟
سنا ہے آپ کے دیس میں سرکار، درباراور کوتوال کا آدھا وقت تو عورتوں کو آنکنے اور ہانکنے میں گزر جاتا ہے ۔ہمارے دستور میں عورت اور مرد کو برابر کہا گیا ہے۔یہاں عورتیں گاڑی چلاتی ہیں، دفتر چلاتی ہیں اور گاہے پورا ملک بھی چلاتی ہیں۔ کبھی کبھار کسی مرد کے دماغ میں اختلال آجاتا ہے لیکن کار سرکار میں کسی کو جرا ¿ت نہیں کہ عورتوں کو مردوں سے کم سمجھے اور کم تر لکھے۔ ہم لوگ گلہ بانی کے زمانے سے بہت آگے نکل آئے ہیں۔
ایک بات مزے کی سنو ۔ ہم لوگ ہر پانچ برس بعد ووٹ سے بتاتے ہیں کہ ہمارا حکمران کون ہو گا۔ اس میں گلہ بان ، کوچوان اور دربان کی قید نہیں۔ امیر اور غریب کی شرط نہیں ۔ قبیلہ اور مسلک نہیں پوچھتے۔ سب کو کاغذ کا ایک جیسا ٹکڑا ملتا ہے اور جس کے نام زیادہ شہریوں کی رائے نکل آئے وہ ہمارا حکمران ۔ وہ ہمارا قانون بناتا ہے ۔ وہ ہمارا بھلا سوچتا ہے ۔ یہ جو تمہارے دیس میں جا کر ہمارے حکمران ایسے مسکین بن کے تم سے سوال کرتے ہیں۔ کچھ اپنے گھر نہیں لے جاتے۔ اپنے لوگوں کی چنتا میں یہ دکھ بھوگتے ہیں۔اور ہمارے ملک میں ایک مخلوق صحافی نام کی پائی جاتی ہے۔ تن پر کپڑا نہیں، پاﺅں میں جوتا نہیں ، گھر پر بچے بھوکے ہیں اور ماں بیمار ہے مگر ایسا سینہ تان کر حکمرانوں کو للکارتے ہیں کہ واللہ اس ملک میں جینے کا مزا معلوم ہو جاتا ہے۔ پیسے پیسے کا حساب مانگتے ہیں ۔ قانون کی کتاب ہر وقت میز پر کھلی ہے اور قانون بھی یہاں کچھ عجیب سا ہے۔ انصاف کرنے والے اس کتاب قانون کے پابند ہیں جسے حکمران مرتب کرتے ہیں۔ اور لطف یہ کہ اسی قانون کی مدد سے حکمران کو کٹہرے میں لاتے ہیں۔ ہر ملزم کو دفاع کا حق ملتا ہے۔ ایک لشکر وکیلوں کا ہر شہر ، قصبے میں موجود ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے اور کوئی مجرم بچ کے نہ نکلے۔ یا اخی۔ آپ کے دیس میں نہ وکیل ہے ، نہ دلیل ہے ، نہ اپیل ہے۔ انصاف مجبوروں کی گردنیں مارنے کا نام تو نہیں ۔
ایک بات ہمارے دیس میں ایسی ہے کہ تمہارے فلک کو اس کی خبر نہیں۔ ہمارے ہاں سوچ آزاد ہے۔ کتاب لکھنے والا آزاد ہے۔ ہم کسی پیر فرتوت کے منظور کردہ علم کے پابند نہیں۔ اس لئے ہمارے ملک میں ادب تخلیق ہوتا ہے۔ فیض ، منیر ، گل خان نصیر ، ناصر اور شیخ ایاز پیدا ہوتے ہیں۔ تم بتاﺅ، تمہارے ملک میں پچھلے سو برس میں کے عدد شاعر پیدا ہوئے؟ ہمارے ملک میں سُر آزاد ہے۔ ستار ہے ، سرمنڈل ہے ، تان پورہ ہے ، اکتارا ہے، روشن آرا بیگم ہے، صادقین ہے، درس گاہوں کا جال بچھا ہے۔ کسی مذہب ، مسلک اور فرقے کو کم تر نہیں جانا جاتا۔ ہمارے دیس میں محبت اور عبادت میں مداخلت کا چلن نہیں۔ ہم لڑائی بھڑائی کو اچھا نہیں سمجھتے مگر دنیا بھر میں ہماری دفاعی طاقت مانی جاتی ہے۔ فائر پاور انڈیکس پر اپنے ملک کا نمبر خود معلوم کر لینا۔ اپنی دھرتی کے دفاع میں لڑنے والوں کو ہتھیاروں کے انبار لگانے کا ہوکا نہیں ہوتا۔ ہم سادہ لوگ ہیں۔ اناج، سبزیاں اگاتے ہیں ۔ لکڑی کے ٹکڑے پر ایسے نقش بناتے ہیں کہ دیکھنے سے آنکھوں میں روشنی آتی ہے۔ ہماری انگلیوں میں مٹی روپ بدل لیتی ہے۔ ہم لوہے کو پگھلا نا جانتے ہیں۔ کپاس کے پھول سے تن زیب لباس بناتے ہیں۔ اور ہاں ایک بات ، یا اخی، ہم غریب لوگ ہیں لیکن مہمان نواز ہیں اور مہمان کا پاسپورٹ دیکھ کر میزبانی کا درجہ طے نہیں کرتے۔

